گندم کی سرکاری خریداری‘ مڈل مین کی ’’چاندی‘‘ ہونے کا امکان

گندم کی سرکاری خریداری‘ مڈل مین کی ’’چاندی‘‘ ہونے کا امکان

لاہور(اسد اقبال)گندم کی سر کاری خریداری کے حوالے سے بنائی گئی ناقص حکمت عملی کے باعث ایک مر تبہ پھر مڈل مین کی'چاندی'ہو جائے گی ۔پنجاب حکومت کی جانب سے خریداری مراکز پر آج گندم کی 1300روپے فی من خریداری کا آغاز ہو گا ‘ لیکن گندم کے خریداری مراکز تاحال فنکشنل نہیں ہوسکے اور کسان مڈل مین مافیا کو وہی گندم 1100روپے فی من فروخت کرنے پر مجبورہیں۔تاہم گزشتہ سال کے مقابلہ میں محکمہ خوراک اور حکومت کی جانب سے 10لاکھ ٹن گندم کاکم ہدف رکھنے کے باوجو د کاشتکار استحصال سے دوچار رہیں گے ۔دوسری جانب سرکاری گوداموں میں گزشتہ تین سال سے ذخیرہ کر دہ 20لاکھ ٹن گندم ناقص و پھپھوندی لگنے کا اندیشہ بھی لاحق ہے جس سے حکومت کو اربوں روپے نقصان کا سامنا اٹھانا پڑے گا ۔ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب سمیت بیشتر علاقوں میں حکومت کی جانب سے قائم کر دہ خریداری مراکز تاحال فنگشنل نہ ہو سکے ہیں اور نہ ہی باردانہ کی تقسیم چھوٹے کسانوں کو کی گئی ہے ۔کاشتکار تنظیموں نے حکومت پنجاب کی جانب سے گندم کی پالیسی اناؤنس نہ کر نے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اوروزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ خسارے کی تجارت سے کسانوں کو بچایا جائے اور خریداری مراکز پر چیک اینڈ بیلنس کے لیے مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے آج سے پنجاب بھر کے کسانوں سے گندم کی سر کاری خرید کا سلسلہ شروع ہو گا ۔حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت 1300روپے فی من مقر ر کی گئی ہے جبکہ 130ارب روپے مالیت سے 40لاکھ ٹن گندم خرید نے کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے سرکاری گندم کی خریداری کے لیے اقدامات سست روی کا شکار ہو نے سے 30فیصد سے زائد کسان لاکھوں ٹن گندم مڈل مین مافیا کو اونے پو نے داموں 1100روپے فی من فروخت کر چکے ہیں ۔جس سے کسانوں کا استحصال اور مڈل مافیااربوں روپے کمائی کر چکا ہے ۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے رواں سال گندم کی خریداری ہدف 40لاکھ ٹن مقرر کیا ہے جبکہ 2016میں 50لاکھ ٹن ہدف رکھا گیا تاہم 27لاکھ ٹن گندم خریدی گئی۔ جس سے کسانوں کو سرکاری امدادی قیمت ملنے کی بجائے مڈل مین کے ہاتھوں اونے پونے داموں گندم فروخت کر نا پڑی ۔سربراہ متحدہ کسان محاذ ایو ب خان میؤنے پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کسانوں سے گندم خریدنے کے لیے نہ تو کوئی پالیسی کا اعلان کر سکی ہے اور نہ ہی پنجاب بھر میں قائم کیے جانے والے 70فیصد سے زائدسرکاری مراکز کو فنگشنگل کر سکی ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر