ہنگو میں امن کمیٹی کے ممبر کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا

ہنگو میں امن کمیٹی کے ممبر کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا

  

ہنگو(بیورورپورٹ) ہنگو میں امن کمیٹی ممبر پر فائرنگ کے بعد ڈی پی ا و ہنگو کی ہنگامی پریس کانفرنس۔ امن کمیٹی اور مصالحتی کمیٹی کے رہنماء ظہیر حسین کو فائرنگ سے زخمی کرنے والا ملزم گرفتار ۔جائے وقوعہ سے مشتبہ شخص کو گرفتار کرکے تفتیش کے لئے نا معلوم مقام پر منتقلہ کر دیا گیا۔ملزم کو گرفتار کرنے والے پولیس کانسٹبل اور لیوی اہلکار کو پولیس افسران کی جانب سے نقدی انعامات۔واقعہ ہنگو کی پر امن حالات خراب کرنے کی ناکام سازش ہے۔ ہنگو میں امن وامان خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔فائرنگ کا واقعہ دہشت گردی ہے۔ڈی پی او ہنگو احسان اللہ ۔تفصیلات کے مطابق ہنگو ڈی پی او ہنگو احسان اللہ نے ایس پی کاونٹر ٹرریزم ڈیپارٹمنٹ شاہ نظر کے ہمراہ اپنے دفتر میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے روز امن کمیٹی اورمصالحتی کمیٹی ہنگو کے رکن ظہیر حسین جو کہ اپنی گاڑی میں مین بازار سے گزر رہے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے امن کمیٹی کے ممبر ظہیر حسین شدید زخمی ہوگئے جس کے بعد انہیں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہنگو منتقل کر کے بعد ازاں مزید علاج معالجہ کے لئے پشاور ریفر کر دیا گیا۔جبکہ ظہیر حسین کے محافظ پولیس کانسٹبلان آعین علی اور لیوی اہلکار ذہیب علی کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور جس کا نام رفیع اللہ بتایا گیا شدید زخمی ہو کر پولیس نے حراست میں لیکر ہسپتال منتقل کر دیا جبکہ ملزم کے خلاف تھانہ سٹی میں 7ATAکے تحت دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ ملزم سے ایک عدد پستول ،30عدد کارتوس اور ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے بعد حملہ آور کا دوسرا ساتھی گنجان آباد علاقے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوا جس کی گرفتاری کے لئے پولیس کاروائیوں کا آغاز کر دیا ہے جبکہ جائے وقعہ سے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر کے تفتیش کے لئے نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ڈی پی او ہنگو احسان اللہ نے کہا کہ واقعہ کی اطلاع ملتی ہی پولیس کی باری نفری نے شہر کے تمام حساس مقامات کا گراؤ کر کے شہر میں امن وامان براقرار رکھنے اور کسی بھی نا کوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی سخت کر دیں۔انہوں نے کہا کہ ملزمان نے پولیس،انتظامیہ اور ہنگو کے مشران کی کوششوں سے قائم امن و امان کی فضاء کو سبوتاژ کرنے کی سازش کے تحت حملہ کیا تا ہم قانون کے خلاف ورزی کے مرتکب عناصر قانون کے شکنجے سے کبھی نہیں بچ سکتے۔انہوں نے کہا فائرنگ کا واقعہ کھلم کھلا دہشت گردی ہے جس کو ہنگو کے علماء کرام سمیت شیعہ سنی کے مشران نے بھی مسترد کر دیا۔ڈی پی او ہنگو احسان اللہ کی جانب سے امن کمیٹی کے ممبر ظہیر حسین کے محافظ پولیس کانسٹبل آعین علی اور لیوی کانسٹبل زوہیب علی کو 5ہزار روپے کا نقدی انعام دیا گیا جبکہ آئی جی خیبر پختونخواہ اور ڈی آئی جی کوہاٹ کی جانب سے دس دس ہزار روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -