مصر میں دولہا مسلمان، دلہن عیسائی، بھائی چارہ کی بہترین مثال

مصر میں دولہا مسلمان، دلہن عیسائی، بھائی چارہ کی بہترین مثال

  

قاہرہ( نیٹ نیوز)شمالی مِصر کے گرجا گھروں پر ہونے والے حملوں نے ملک کی اقلیتی عیسائی برادری کو درپیش خطرات کو اجاگر کیا۔ لیکن مصر کے دریائے نیل کے کنارے بسنے والی قدیم نوبین برادری مسلم اور عیسائی بھائی چارے کی مثال سامنے آئی ہے۔ جنوبی شہر آسوان میں ایک ایسی شادی ہوئی جہاں دولہا مسلمان اور دلہن عیسائی تھی۔اکرم نامی دولہے کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ میں اپنی ہی برادری کی لڑکی سے شادی کروں لیکن میں اس (سیلی) سے دور نہیں رہ سکا۔‘سیلی اور اکرم کی پہلی ملاقات مصر میں واقع دریا ئے نیل پر ہوئی تھی۔اکرم نے بتایا کہ گاؤں میں یہ پہلی شادی ہے جس میں مختلف مذاہب کے دولہا دلہن ہیں اور خاصں طور پر ان کے والدین کے لیے یہ بہت مشکل تھا۔اکرم نے رواج کے مطابق گھر گھر جا کر لوگوں کو دعوت دی۔سات سال تک دونوں کے والدین نے انھیں ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت نہیں دی تھی۔برادری کے لوگوں، مذہبی رہنماؤں اور دوست و احباب نے انھیں ایک دوسرے سے دور رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن اکرم اور سیلی کسی نہ کسی طرح ملنے کا موقع تلاش کر ہی لیتے تھے۔نیوبین برادری میں سیلی اور اکرم جیسے جوڑوں کے لیے ایک دوسرے کے مذہب میں شادی کرنا ’حرام‘ یا ممنوع تو نہیں لیکن سماجی برائی سمجھی جاتی ہے۔اکرم کہتے ہیں کہ انھیں سیلی سے مِلنا، ان سے باتیں کرنا، اچھا لگتا تھا اور وہ ہمیشہ ان سے ملاقات کا انتظار کرتے تھے۔مسجد کی جانب جاتے ہوئے اکرم نے ایک تباہ شدہ گرجا گھر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ باہر کے لوگوں نے یہاں مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں نے مل کر ان باہر کے لوگوں کو مار بھگایا۔مسجد میں امام نے ڈھیر ساری کتابیں دکھائیں جن میں عیسائی مذہب کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کی کتابیں بھی شامل تھیں۔امام کا کہنا تھا کہ گذشتہ 800 سالوں سے یہاں عیسائی مذہبہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے مذہب میں شادی میں کوئی حرج نہیں انھوں نے بتایا کہ ان کی برادری میں طلاق اور ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج نہیں ۔سیلی کا کہنا ہے کہ رسم و رواج دوسروں کے لیے ہیں ان کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ۔ سیلی نے بتایا کہ ان کے والد بھی شادی کے لیے تیار نہیں تھے لیکن امام نے انھیں بھی منا لیا۔

شادی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -