شانگلہ بلدیاتی ترقیاتی منصوبوں کا سرکاری فنڈ خردبرُد کا شکار

شانگلہ بلدیاتی ترقیاتی منصوبوں کا سرکاری فنڈ خردبرُد کا شکار

الپوری(ڈسٹر کٹ رپوٹر)شانگلہ بلدیاتی ترقیاتی منصوبوں کا سرکاری فنڈ خردبرُد کا شکار ،بلدیاتی ترقیاتی کاموں میں مبینہ گھپلوں اور بے قاعدگیوں کا انکشاف ہونے پر عوام کو شدید غم غصہ ۔ناظمین اور کونسلروں کی متعلقہ ٹھکیداروں سے ملی بھگت پر عوام کا منتخب شدہ بلدیاتی نمائندوں کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا اعلان ۔کروڑوں روپے کی ترقیاتی سکمیں بالکل سرے سے کمپلیٹ ہی نہیں ہوئی بلدیاتی نمائندوں نے متعلقہ ٹھکیدار سے کمیشن لے کر این نو سی اور کمپلیشن سرٹیفیکیٹ بھی ٹھکیدار کو تھما دی جبکہ ترقیاتی سکیم مکمل ہی نہیں شانگلہ میں ترقیاتی سکیموں میں کرپشن عروج پر پہنچ گئی ہے، ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہوکر بعض منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعمال کیا جارہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں حکومتی کروڑوں روپے عوامی فلاحی منصوبوں کی بجائے مخصوص ٹھکیداروں،بلدیاتی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کے جیبوں میں چلی گئی ۔شانگلہ میں مختلف منصوبوں میں کروڑوں روپے کا کرپشن ثابت ہونے کی باوجود صوبائی حکومت کی خاموشی اور صوبے میں بااختیار سیاسی نمائندوں کی پشت پناہی کیوجہ سے شانگلہ میں کرپشن کا بازار گرم ہے حالیہ سیلاب فنڈ میں 12 کروڑ سے زائد کی رقم خردبرد کردی گئی ۔اس بھاری کرپشن کے بعدکسی قسم کی کاروائی نہ ہونے پر کرپشن مافیا بغیر کسی ڈر خوف سے اپنا کام بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں ،سیلاب ایمرجنسی فنڈ میں کرپشن کے خلاف وزیراعلی کی نوٹس لینے کی باوجود کسی اہلکار کے خلاف کاروائی نہ ہوسکی ۔انکوائریاں صرف دفتری فائیلوں تک محدود رہی۔بلدیاتی ٹینڈر اپنے من مانے ٹھکیداروں کو تھمانے کے لئے مختلف قسم کی حربے استعمال 50 فیصد سے زائد 70 فیصد بلو میں ٹھیکے لئے گئے جبکہ بعد میں ان ٹھکیداروں کو رعات دے کر کمیشن کے زریعے ریٹ کم کردی گئی شانگلہ میں کرپشن کرنے کے لئے سرکاری افیسر اپنے اپ کو بچانے کے لئے دفتری کاعذی کاروائی ٹھیک کرتے ہیں جبکہ عوام کی ترقیاتی فنڈ ان کی ملی بھگت کے زریعے مختلف بلدیاتی نمائندوں اور ان کی جیبوں کی نظر کردی جاتی ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر