کنٹونمنٹ بورد سکولوں کی فیسوں میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں:عارف یوسف

کنٹونمنٹ بورد سکولوں کی فیسوں میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں:عارف یوسف

  

پشاور( سٹاف رپورٹر )وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے قانون عارف یوسف ایڈوکیٹ کی زیرصدارت کنٹونمنٹ بورڈکے سکولوں میں ہوش ربااضافے کیخلاف ایک اجلاس کاانعقادکیاگیا۔اس موقع پرٹریڈرزالائنس کے صدرچوہدری شاہدغفور،پشاورکینٹ کے صدرپیرعمران اورمیجرراشدکے علاوہ کنٹونمنٹ بورڈسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے بھی کثیرتعدادمیں شرکت کی۔اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی عارف یوسف کو بتایا گیاکہ کنٹونمنٹ بورڈسکولزمیں فیس300 روپے سے بڑھاکر 3ہزار،داخلہ فیس20ہزارجبکہ دیگر اخراجات میں 1200 روپے یونیفارم اور6600 روپیسٹیشنری کے اسکے علاوہ ہیں جوہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ سکول فیسوں میں بے تحاشااضافہ کرکے ذمہ داران نہ صرف آرٹیکل 25-Aکی خلاف ورزی کے مرتکب ہوکرآرٹیکل 6کے زمرے میںآرہے ہیں بلکہ یہ غیرمنصفانہ عمل بچوں کوزیورتعلیم سے آراستہ کرنے سے بھی انحراف کے متراد ف ہے،فیس اضافے کی آڑمیں سکولز انتظامیہ کی تاویلیں ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔معاون خصوصی عارف یوسف نے کہاکہ یکساں تعلیم اورملک کے بچے بچے کوزیورتعلیم سے آراستہ کرناہمارامطمع نظرہے،اگرکنٹونمنٹ سکولزمیں فی الفور فیس کے اضافے پرنظرثانی نہ کی گئی تومنگل کے روزبھرپوراحتجاج کیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ کنٹونمنٹ سے5منتخب شدہ ممبران کو بھی عوام کیخلاف کنٹومنٹ سکولزکے ظالمانہ اقدام کادفاع کرنے کی بجائے کنٹونمنٹ سکولزکے غیرمنصفانہ اقدام کے خلاف علم بلندکرنا چاہیے ۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی عارف یوسف نے کاکہاکہ تدریسی مکتب تعلیم حاصل کرنے کیلئے قائم کئے جاتے ہیں مگرافسوس سے کہناپڑھ رہاہے کہ کنٹومنٹ سکولزکے ان ظالمانہ اقدام سے بچے سکول چھوڑنے کے سرٹیفکیٹس لے رہے ہیں،ایسا نہ ہو کہ یہ بچے فیس ادا نہ کرسکنے کے باعث چائلڈلیبر بن جائیں تاہم سکولزانتظامیہ کوفی الفوراپنافیصلہ واپس لیناہوگاورنہ مطالبات نہ ماننے اور ذمہ داروں کیخلاف کاروائی نہ کرنے کی صورت میں طویل احتجاج کاآغازکردیں گے۔اس موقع پرپاکستان تحریک انصاف پشاورکینٹ کے صدرپیرعمران نے کہاکہ ہم وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی عارف یوسف کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور مذکورہ احتجاج کی بھرپورحمایت کرتے ہیں اورفیصلہ واپس لینے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے کہاکہ سکول تعلیم دینے کیلئے ہوتے ہیں نہ کہ ظالمانہ فیصلوں کے باعث بچوں کوتعلیمی سرگرمیوں سے محروم رکھنے کے لئے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -