توہین رسالت کے الزام میں مردان یونیورسٹی میں طالبعلم کا قتل، مشال کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ سے متعلق ایسا انکشاف کہ فیس بک صارفین کے پیروں تلے سے زمین ہی نکل جائے گی کیونکہ۔۔۔

توہین رسالت کے الزام میں مردان یونیورسٹی میں طالبعلم کا قتل، مشال کے سوشل ...
توہین رسالت کے الزام میں مردان یونیورسٹی میں طالبعلم کا قتل، مشال کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ سے متعلق ایسا انکشاف کہ فیس بک صارفین کے پیروں تلے سے زمین ہی نکل جائے گی کیونکہ۔۔۔

  

مردان (ڈیلی پاکستان آن لائن)مردان کی عبدالولی خا ن یونیورسٹی میں طالب علموں کے تشدد سے قتل ہونے والے مشال خان کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کے نام سے ایک جعلی فیس بک اکاﺅنٹ بھی چل رہا تھا  اور مشال نے اس اکاؤنٹ کرتے ہوئے شبہ ظاہر کیا تھا اس اکاؤنٹ کو اس کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

”دی نیوز“کے مطابق توہین رسالت کے الزام پر یونیورسٹی میں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کے نام سے کئی ماہ سے جعلی فیس بک اکاﺅنٹ چلایا جا رہا تھا جس کا مقصد بظاہر اسے بلیک میل کرنا تھا۔

مردان میں قتل کیے جانے والے مشال کی میت اسکے گاﺅں پہنچی تو مقامی امام مسجد نے کیا کیا ؟ انتہائی افسوسناک انکشاف سامنے آگیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ مشال خان کوگزشتہ سال دسمبر میں فیس بک پر توہین رسالت کے حوالے سے پوسٹ کے الزامات پر قتل کیا گیا اور مشال کے نام سے منسوب جعلی فیس بک اکاﺅنٹ آپریٹ کرنے والا نامعلوم شخص اسے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ طالب علم نے ٹویٹر پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اسے بدنام کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے ۔

’’میں نے کبھی یہ کام نہیں کیا ‘‘، پرویز مشرف نے تحریری بیان عدالت میں جمع کرا دیا

مشال نے اپنے ذاتی فیس بک اکاﺅنٹ پر نبی کریم ﷺ کیلئے احترام اور محبت کا اظہار کیا تھا مگر حیران کن طور پر جس روز اسے قتل کیا گیا اسی روز اس کے نام سے چلنے والے دوسرے فیس بک اکاﺅنٹ پر گستاخانہ پوسٹ اپ ڈیٹ کی گئی جسے بعد میں ہٹا دیا گیا تھا جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ اس اکاﺅنٹ کو اپریٹ نہیں کر رہا تھا ۔انہوں نے واقعے سے 2 روز قبل اپنے ایک ٹی وی انٹرویو کے ودران یونیورسٹی انتظامیہ کی بد انتظامی کیخلاف بات کی تھی جس کے بعد مشال خان اور دیگر 2طلبا کیخلاف توہین رسالت کے الزامات پر انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا ۔

مزید :

مردان -