افغانستان پر دنیا کا سب سے بڑا بم گراتے ہی ٹرمپ نے کیا کام کیا؟جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

افغانستان پر دنیا کا سب سے بڑا بم گراتے ہی ٹرمپ نے کیا کام کیا؟جان کر آپ کو ...
افغانستان پر دنیا کا سب سے بڑا بم گراتے ہی ٹرمپ نے کیا کام کیا؟جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)شام پر حملے کے بعد اب امریکہ نے افغانستان میں بھی شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف ایک ایسا خوفناک ہتھیار استعمال کر ڈالا ہے کہ جو اس سے قبل کبھی استعمال نہ کیا گیا تھا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ غیر جوہری ہتھیاروں میں سب سے بڑا بم تھا جو امریکہ نے پہلی بار افغانستان میں پھینکا۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں یہ گرا وہاں 980فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ دھماکے کی جگہ سے میلوں دور دیہاتوں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ ’بم گرنے سے کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا، آگ کا ایک گولہ فضاءمیں بلند ہوا اور زمین لرز اٹھی، ہمیں یوں لگا جیسے آسمان زمین پر گر رہا ہے۔‘

امریکی کی جانب سے افغانستان میں گرائے جانے والے دنیا کے سب سے بڑے بم کی قیمت کتنی ہے ؟ جواب اتنا زیادہ کہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا

رپورٹ کے مطابق اس بم کا نام ’جی بی یو43بی‘ اور عرف عام ’تمام بموں کی ماں‘ (Mother of all bombs)ہے۔ اس کا وزن1ہزار کلوگرام ہوتا ہے۔اس کے پھٹنے سے آگ کا ایک گولہ فضاءمیں بلند ہوتا ہے اور اس کی رینج میں جو چیز بھی ہو وہ پگھل جاتی ہے۔ پینٹاگون کی طرف سے گزشتہ روز اس 30فٹ طویل بم کی ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے۔واضح رہے کہ یہ بم پاکستان کے بارڈر سے ملحق افغان صوبے ننگرہار کے دوافتادہ پہاڑی علاقے میں پھینکا گیا جہاں افغان وزارت دفاع کی طرف سے جاری بیان کے مطابق داعش کے شدت پسند زیرزمین سرنگوں میں چھپے ہوئے تھے۔اس حملے میں وہ تمام ہلاک ہو گئے۔ بارڈر کے ساتھ پاکستانی دیہات کے رہنے والوں کا بھی کہنا تھا کہ ”بم دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ ہمیں لگا جیسے امریکی جہازوں نے ہمارے گاﺅں پر بم گرا دیا ہے۔“اس بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 90ہو گئی ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

افغانستان پر یہ بم گرانے کے ساتھ ہی ڈونلڈٹرمپ نے جدید ترین لڑاکا طیارے ایف 35یورپ روانہ کر دیئے ہیں جو وہاں پہلے سے موجود امریکی و نیٹو افواج کے ساتھ مل کر مشقوں میں حصہ لیں گے۔پینٹاگون کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان طیاروں کو یورپ بھیجنے کا مقصد اپنی طاقت کا اظہار کرنا ہے۔ تاہم پینٹاگون نے ان یورپی ممالک کے نام نہیں بتائے جہاں یہ طیارے بھیجے گئے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -