افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر ایٹمی بم گراکر امریکہ نے دراصل اپنی ہی بنائی ہوئی کس چیز کو نشانہ بنایا؟ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا، امریکہ پوری دنیا کے سامنے شرم سے پانی پانی ہوگیا

افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر ایٹمی بم گراکر امریکہ نے دراصل اپنی ہی ...
افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر ایٹمی بم گراکر امریکہ نے دراصل اپنی ہی بنائی ہوئی کس چیز کو نشانہ بنایا؟ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا، امریکہ پوری دنیا کے سامنے شرم سے پانی پانی ہوگیا

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ نے افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیرایٹمی بم گرا کر جس چیز کو تباہ کیا وہ دراصل اس کی اپنی ہی بنائی ہوئی تھی، جس کے حقائق سامنے آنے پر امریکہ کو پوری دنیا کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ کشمیر آبزرور کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں جن سرنگوں کو نشانہ بنایا گیا وہ داصل 1980ءکی دہائی میں خود امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے بنوائی تھیں۔ تورا بورا کی یہ سرنگیں ان مجاہدین کے لیے بنائی گئی تھیں جنہیں سوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لیے امریکہ نے تیار کیا تھا اور ان کی ہر حوالے سے مدد کر رہا تھا۔

امریکی کی جانب سے افغانستان میں گرائے جانے والے دنیا کے سب سے بڑے بم کی قیمت کتنی ہے ؟ جواب اتنا زیادہ کہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا

رپورٹ کے مطابق امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈین نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر لکھا ہے کہ ”امریکہ نے افغانستان میں جو بم گرایا ہے وہ امریکی خزانے کو 31کروڑ 40لاکھ ڈالر(تقریباً32ارب90کروڑ روپے) میں پڑا ہے۔“ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے رقم کے متعلق ایک صارف کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ”ان سرنگوں کو بنانے کے اخراجات بھی ہم نے ہی دیئے تھے۔“سنوڈین نے اپنی ٹویٹ میں نیویارک ٹائمز میں 2005ءمیں چھپنے والے ایک آرٹیکل کا لنک بھی دیا ہے جس میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ کس طرح سی آئی اے نے سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کی مدد کی اور ان کے لیے یہ سرنگیں اور بنکر بنائے۔

مزید :

بین الاقوامی -