’مجھے سب سے زیادہ ڈر اس بات سے لگتا ہے کہ جب پاکستان واپس جاﺅں گی تو وہاں۔۔۔‘ سعودی عرب میں مقیم نوجوان پاکستانی لڑکی نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر پاکستانی کو سوچنے پر مجبور کردیا

’مجھے سب سے زیادہ ڈر اس بات سے لگتا ہے کہ جب پاکستان واپس جاﺅں گی تو ...
’مجھے سب سے زیادہ ڈر اس بات سے لگتا ہے کہ جب پاکستان واپس جاﺅں گی تو وہاں۔۔۔‘ سعودی عرب میں مقیم نوجوان پاکستانی لڑکی نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر پاکستانی کو سوچنے پر مجبور کردیا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) مملکت سعودی عرب سالہا سال سے غیر ملکیوں کی بڑی تعداد کا ٹھکانہ رہی ہے لیکن اقتصادی بحران، روزگار کے کم ہوتے مواقع اور نئے نئے ٹیکسوں کی وجہ سے اب یہ غیر ملکی اپنے گھروں کو جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ بظاہر تو یہ ایک اقتصادی بحران ہے مگر غیر ملکیوں کے لئے یہ شناخت کا بحران بھی بن گیا ہے کیونکہ ان میں سے اکثر ایک مدت سے سعودی عرب میں رہتے ہوئے اسے اپنا گھر سمجھنے لگے تھے اور اب ان کے لئے اپنے وطنوں کو واپسی بڑی مشکل ہو گئی ہے۔

سعودی گزٹ کی ایک رپورٹ میں دارلحکومت کے ایک میڈیکل کالج کی پاکستانی طالبہ لینا خان کا احوال بیان کیا گیا ہے، جو اپنے جیسے ہزاروں دیگر غیر ملکیوں کی طرح بے شمار خدشات میں گھری ہیں۔ انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”میں پاکستان سے زیادہ سعودی عرب کے متعلق جانتی ہوں۔ ہر جگہ کا ایک کلچر ہوتا ہے اور مجھے پاکستان کے ماحول اور کلچر کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں ہے۔ ایک ایسی جگہ سے مطابقت اختیار کرنا جس کے ماحول اور لوگوں کے متعلق آپ زیادہ نہیں جانتے آسان کام نہیں ہوگا۔ میری تعلیم ریاض میں ہوئی، جہاں اردو بطور مضمون نہیں پڑھایا جاتا تھا۔ یہ بھی میرے لئے ایک بڑی پریشانی ہوگی کہ مجھے اردو لکھنا اور بولنا نہیں آتی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستان واپس جاﺅں گی تو وہاں کے ماحول میں خود کو کیسے ڈھالوں گی۔“

’پہلے میں ڈھیروں روپے کماتا تھا لیکن جب سے یہ چیز ملک میں آئی ہے دو وقت کی روٹی کمانا بھی ناممکن ہوگیا ہے‘ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی نے انتہائی دردناک بات کہہ دی، اپنی پریشانی کی ایسی وجہ بتادی کہ جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

جدہ میں مقیم ایک اور پاکستانی لڑکی ایشا خان کے جذبات بھی اسی طرح کے تھے، تاہم وہ مستقبل کے بارے میں پر امید بھی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بھی ایک مختلف لائف سٹائل، تعلیمی نظام اور ملازمت کے ماحول کے بارے میں فکر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے بہت سے دوست اور ساتھی پہلے ہی جدہ کی صورتحال اور پیش نظر واپس جاچکے ہیں لہٰذا وہ سمجھتی ہیں کہ وہ بھی اپنے مسائل پر قابو پالیں گے۔ ان کا کہنا تھا ”جو بھی ہو میں پاکستان سے محبت کرتی ہوں۔ یہ میری شناخت ہے اور میں امید کرتی کہ مستقبل اچھا ہوگا ، انشاءاللہ۔“

اسی طرح بھارتی طالبہ فریحہ خیام، جو سعودی عرب میں ایم بی اے کر رہی ہیں، کا کہنا تھا ”میرے لئے بھارت میں امن وامان کی صورتحال سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ میری پرورش ایک محفوظ ماحول میں ہوئی ہے جو اس ماحول سے بہت مختلف ہے جو بھارت میں پایا جاتا ہے۔ مملکت میں خواتین کو جو تحفظ ملتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی، لیکن بھارت میں ایسا نہیں ہے۔ اگرچہ لائف سٹائل اور دیگر معاملات بھی اہم ہیں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں میں مقدس شہر مکہ کے قریب ہوں۔“ شام سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ حبہ عماد کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں گزشتہ کئی سال سے خانہ جنگی جاری ہے، وہاں ملازمت کے مواقع بھی نہیں ہیں اور لوگ بھی مختلف قسم کے ہیں۔

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں سے کس ملک کے شہریوں کو عرب ممالک میں ملازمت حاصل کرنے کیلئے سب سے زیادہ پیسے دینے پڑتے ہیں؟ ایسی حقیقت منظر عام پر آگئی کہ جان کر عرب شہری بھی دنگ رہ گئے

بائیس سالہ روبیٰ ظفر ،جو پانچ ماہ قبل مکہ کو چھوڑ کر پاکستان جاچکی ہیں، کا کہنا تھا کہ وہ پہلے تو بہت پریشان تھیں لیکن پاکستان میں زندگی اتنی بھی مشکل نہیں ہے جتنی لوگ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ”میں اس ماحول سے مطابقت اختیار کرچکی ہوں، اگرچہ مجھے مکہ کی یادبہت آتی ہے۔“

جدہ میں مقیم ایک بھارتی خاتون نے نام خفیہ رکھنے کی شرت پر بتایا کہ مسلم اکثریتی ملک میں وہ خود کو زیادہ محفوظ سمجھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جدہ میں 24 سال گزارے اور جب تک وہ کسی اور جگہ بھی اتنا ہی عرصہ نہیں گزار لیتیں وہ اسے جدہ کی طرح مانوس محسوس نہیں کرسکتیں۔

مزید :

عرب دنیا -