صحرائے تھر کی ثقافت اور دستکاریوں کی اپنی منفرد شناخت برقرار

15 اپریل 2018 (11:28)

عمرکوٹ ( سید ریحان شبیر)تھر پاکستان کا وہ علاقہ ہے جس کی ثقافت پاکستان سمیت دنیا بھر میں بےحد مقبول ہے خواتین اپنے حسن اور شخصیت میں نکھار کےلئے اس علاقے کے منفرد لباس اور روایتی زیورات کا استعمال کرتی ہیں۔ یہاں کی ہاتھ کی بنی اشیا لوگ اپنے دوست، احباب اور رشتے داروں کو تحفے تحائف کی صورت میں دیتے ہیں۔

تھر پاکستان کی قدیم ترین تہذیب کا علاقہ ہے ، تھر کی خواتین کے خوبصورت تھری کشیدہ کاری ، ہاتھ کی کڑھائی ، تھری کھتہ ، پھڑہ، چنی، تھر کی مشہور تھری رلی کا کام ، تھری ہینڈی کرافٹ ، تھری قالین ، تھری ڈبل بیڈ اور سنگل بیڈ کی انتہائی خوبصورت ہاتھ کے کام کی چادریں پاکستان سمیت امریکہ اور یورپ میں بےحد مقبول ہیں۔

آج جب دنیا چاند اور مریخ پر پہنچ چکی ہے ایسے میں تھر کی ثقافت اپنی منفرد شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے، اس سلسلے میں "ڈیلی پاکستان آن لائن "کو عمرکوٹ میں تھری کشیدہ کاری اور تھر کی ہینڈی کرافٹ کا بڑا کام کرنے والے پھنور ہینڈی کرافٹ شاپ کے مالک راجہ راشد ، محمد یاسین علیم پھنور نے بتایا کہ تھری بھرت اور کشیدہ کاری کا کام انتہائی نفیس اور خوبصورت ہوتا ہے جس میں گج، خوبصورت رلی کا کام ، گج کا کھرتہ ، کام کے دوپٹے ، پھڑہ، چنی، اور چادروں پر ہاتھ کا انتہائی باریک اور رنگین کام کیا جاتا ہے ۔

تھر کی رلی ، گرم شالیں ، چادریں ،دوپٹے ،قالین اور تھر کی ہینڈی کرافٹ کا کام پاکستان سمیت دنیا بھر میں بےحد مقبول ہے۔

راجہ راشد اور یاسین علیم پھنور نے بتایا کہ تھر کی رلی کی قیمت پانچ ہزار سے دو لاکھ روپے تک ہوتی ہے جسے لوگ بیٹیوں کو جہیز میں دیتے ہیں ۔

اس کے علاوہ تھر میں مور کے پروں کے انتہائی خوبصورت ہاتھ کے پنکھے بھی تیار کیے جاتے ہیں ۔

کاٹن کپڑے کا لال اور بلیک کلر میں مختلف ڈیزائن کا تھری پیس سوٹ ، پھڑہ ، گھاگھرا ، کھرتہ پوشاک اور تھری گج، چنی، مخملی گج پر ہاتھ کا کام ، تھری کشیدہ کاری تھری دستکاری کے خواتین کے خوبصورت لباس ، خواتین کے لیے چمڑے کے رنگین دھاگوں کے کام کی جوتیاں اور تھری کھسے پاکستان بھر میں مقبول ہیں۔

راجہ راشد نے بتایا کہ تھر میں تیار ہونے والی ہاتھ کے کام کی چادریں انتہائی دلکش اور خوبصورت رنگوں پر مشتمل ہوتی ہیں ۔

اگر وفاقی اور صوبائی حکومت تھر کی تہذیب وتمدن کی طرف توجہ دے اور اسے صنعت کا درجہ دے تو نہ صرف مقامی لوگوں کو روز گار کے مواقع مل سکتے ہیں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی ثقافت کی ترویج ممکن ہوسکتی ہے۔

مزیدخبریں