’شام میں بشارالاسد نے کیمیائی حملہ نہیں کیا کیونکہ۔۔۔‘ شام پر میزائلوں کی بارش کے بعد سابق برطانوی جنرل نے تہلکہ خیز بات کہہ دی، برطانیہ اور امریکہ کا پول کھول دیا

’شام میں بشارالاسد نے کیمیائی حملہ نہیں کیا کیونکہ۔۔۔‘ شام پر میزائلوں کی ...

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ ، برطانیہ اور دیگر اتحادی مغربی ممالک شامی صدر بشارالاسد پر شام کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں اور ان مبینہ کیمیائی حملوں کے جواب کے طور پر شام میں میزائلوں کی بارش بھی کر چکے ہیں لیکن اب برطانیہ ہی کے ایک سابق فوجی عہدیدار نے ان الزامات کی قلعی کھول دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی سپیشل فورسز کے سابق سربراہ ’میجر جنرل جوناتھن شا‘ نے کہا ہے کہ ”اس موقع پر بشارالاسد کیوں کیمیائی ہتھیار استعمال کرے گا جبکہ وہ جنگ پہلے ہی جیت چکا ہے۔ یہ صرف میرا موقف ہی نہیں ہے۔ یہی بات امریکی فوج کے سینئر کمانڈرز بھی کہہ چکے ہیں۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ جنگ کے اس آخری مرحلے پر بشارالاسد کی طرف سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی منطق سمجھ نہیں آتی۔“

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

میجر جنرل جوناتھن کا مزید کہنا تھا کہ ”بشارالاسد باغیوں کو بسوں پر شہر سے نکلنے پر رضامند کر چکا ہے اور ان کے زیرقبضہ علاقے کو واگزار کرا چکا ہے۔ پھر وہ ان پر کیمیائی ہتھیار کیوں استعمال کرے گا۔ اس وقت کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جانے کا خدشہ اگر کسی طرف سے ہے تو وہ اس جنگ کے دیگر متعدد فریقین کی طرف سے ہے جو بشارالاسد کے خلاف لڑ رہے ہیں تاکہ وہ اس کا الزام بشارالاسد پر ڈال سکیں اور باقی دنیا کو اس جنگ میں ملوث رکھ سکیں۔ بالخصوص جب سے امریکہ نے شام سے اپنی افواج نکالنے کا اعلان کیا تب سے ان کی ضرورت بن چکی ہے کہ وہ امریکی فوج کو کسی بھی طرح شام سے نکلنے سے روکیں اور انہیں اس جنگ میں شامل رکھیں۔چنانچہ وہ اسی مقصد کی بارآوری کے لیے کیمیائی حملے کر سکتے ہیں۔اگر میں بشارالاسد کا مشیر ہوتا تو اس موقع پر اسے کسی بھی صورت کیمیائی ہتھیار استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتا، کیونکہ ان حملوں سے بشارالاسد ہی کو نقصان ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر ان کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔“

مزید : بین الاقوامی /برطانیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...