شام پر امریکی اتحادیوں کےمیزائل حملے اور جھوٹا فسانہ

شام پر امریکی اتحادیوں کےمیزائل حملے اور جھوٹا فسانہ
شام پر امریکی اتحادیوں کےمیزائل حملے اور جھوٹا فسانہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 امریکہ کہ جس کی ایک سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے علم ہو تا ہے کہ اسکی استعماریت نے دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں مختلف حیلے بہانوں سے نہ صرف جارحیت کی ہے بلکہ کئی ایک ممالک پر متعدد مرتبہ فوجی چڑھائیاں بھی کی ہیں، حالیہ صدی میں امریکی فوجی یلغار افغانستان اور عراق بڑی مثالیں موجود ہیں جبکہ امریکہ جو کہ سات سمندر پار موجود ہے لیکن پوری مسلم دنیا میں اس نے فوجی اڈے بنا رکھے ہیں ، اس کے بحری بیڑے دنیا کے تمام سمندروں میں موجود ہیں اور کسی بھی وقت کسی بھی ملک کے خلاف کوئی بھی جھوٹ پر مبنی حیلے بہانے بنا کر حملوں کا آغاز کر دیا جا تا ہے، پہلے یہی امریکہ افغانستان کے جہادیوں کے ذریعہ روس کے خلاف جہاد میں ان کی مدد کرتا رہا اور پھر یکا یک انہی جہادیوں کا دشمن بھی بن گیا اور ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا۔ 

حالیہ دنوں ستائیسویں رجب المرجب کی با برکت شب   امریکہ نے شام پر فرانس اور برطانیہ کی مدد سے حملہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ پچاس کے لگ بھگ کروز میزائل داغے گئے ہیں جبکہ یہ حملہ کرنے کے لئے جہاں میڈیٹیرین سمندر میں موجود برطانوی و فرانسیسوں افواج موجود ہیں وہاں اس حملہ میں قطر کی سرزمین بھی استعمال کی گئی ہے ۔امریکہ نے شام پر حملہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب شام کی افواج نے دیگر اپنے اتحادیوں بشمول روس اور ایران کے ساتھ مل کر شام کے متعدد علاقوں کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا ہے اور گذشتہ دنوں مغربی میڈیا پر جس طرح من گھڑت خبروں کا پرچار کیا جا رہاتھا اس کا منہ توڑ جواب شامی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ہزاروں شہریوں کو با حفاظت نکال کر دیا ہے ،اس کی درجنوں ویڈیوز مختلف ٹی وی چینلز نے نشر کی ہیں ۔اس تمام صورتحال کا اگر کسی کو فائدہ پہنچ رہا تھا تو وہ شامی حکومت اور عوام تھے کہ جو مسلسل دہشت گردوں سے نبرد آزما ہیں اور حالیہ دنوں بڑی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے نجات حاصل کر رہے تھے ایسے حالات میں امریکی وبرطانوی ڈرامہ نگاروں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ڈرامہ ایسے ہی علاقے میں رچانے کی کوشش کی کہ جس کا کنٹرول اب شامی افواج سنبھال رہی تھیں ، بھلا ایسا کوئی کیوں کرے گا کہ جب کامیابی بھی ملے اور وہ اپنی کامیابی کو خود اپنے ہاتھ سے ضائع کر دے؟پوری دنیا اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن کسی کو ابھی تک اس بات کا جواب نہیں ملا ہے کہ شامی حکومت خود ہی اپنے ماتحت علاقوں پرکیوں کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ کرے گی؟

شامی علاقہ دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق اقوام متحدہ بھی حرکت میں آگئی  ہیں ، پوری دنیا میں موجود امریکی پے رول پر چلنے والے ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر اسلامی لبادوں میں چھپے امریکی نوکر بھی سوشل میڈیا پر سرگرم ہو گئے  ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا کوئی کیمیائی حملہ دوما نامی علاقہ میں ہوا ہی نہیں، کیونکہ دوما کے مقامی اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تا حال ان کے پاس کوئی ایک متاثرہ مریض کہ جس کو کیمیائی حملہ نے نقصان پہنچایا ہو رپورٹ نہیں ہوا ہے۔دوسری طرف اقوام متحدہ میں امریکہ،ا سرائیل ، برطانیہ اور فرانس سمیت چند ایک عرب ممالک نے خوب بڑھ چڑھ کر شامی حکومت پر الزام عائد کیا اور حملوں کی دھمکی دی اور پھر ستائیسویں شب کو حملہ کیا بھی گیا۔یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا کہ جب ایک طرف اقوام متحدہ کا کمیشن دوما کے علاقے میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ جمع کروانے ہی والا تھا لیکن اس رپورٹ کے جمع کروانے سے قبل ہی امریکہ نے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملہ کر دیا ہے۔بہر حال ایک بات تو بڑی واضح ہے کہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کی طرف سے شامی حکومت پر عائد کیا جانے والا الزم جھوٹ پر مبنی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف شام پر امریکی حملہ کا جواز پیدا کرنا ہے کیونکہ اب شام کے تقریبا تمام علاقوں میں ان تمام دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کیا جا رہاہے کہ جن کی مدد امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فرانس، قطر، ترکی، سعودی عرب، اردن اور دیگر یورپی و عربی ممالک کر رہے تھے، یکے بعد دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کا صفایا ہو رہاہے اور تمام ماندہ علاقے شامی حکومت کے کنٹرول میں آ رہے ہیں  ۔

 یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ مسلم میڈیا امریکہ کی اس حکمت کو جان نہیں پاتا اور نہ اس بھیانک پہلو کو اجاگرکرتا ہے کہ امریکہ نے جس ملک پر حملہ کرنا ہوتا ہے اس پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا پرچار کرتا ہے۔حالانکہ دنیا بھر میں کیمیائی ہتھیاروں کا فراہم کرنے اور استعمال کرنے والا امریکہ ہی ہے، جس نے پہلے ماضی میں ایر ان کے خلاف عراق کو کیمیائی ہتھیار فراہم کئے جس کا صدام نے ایران کے خلاف استعمال کیا تھا اور اسی طرح امریکہ نے ایٹم بم ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر گرا کر دنیا میں انسانی حقوق کی پائمالی اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے،افغانستان میں بھی کیمیائی ہتھیار استعمال کئے،اسرائیل کی غاصب جعلی ریاست امریکی سرپرستی میں دسیوں ہزار فلسطینیوں سمیت دنیا بھر میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں قتل و اغوا جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہے ، اسی طرح ویت نام ، افغانستان، عراق، یمن، لیبیا، افغانستان، پاکستان میں جاری ڈرون حملے وغیرہ یہ سب جواز ہیں کہ   امریکہ  دنیا کا امن غارت کررہا ہے ۔لہذا میڈیا کو اپنے ضمیر کے مطابق امریکی چالوں اور اسکی دہشت گردی کا مکمل جائزہ لیکر دنیا کو اسکے اصل چہرے سے روشناس کرانا چاہئے۔ 

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ