بھارتی الیکشن ، ارب پتی تاجروں کی مداخلت کا انکشاف، شفافیت پر سوالیہ نشان

بھارتی الیکشن ، ارب پتی تاجروں کی مداخلت کا انکشاف، شفافیت پر سوالیہ نشان

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ کانگریس جموں و کشمیر سے فوج واپس بلانا چاہتی ہے، عوام جاگ جائیں اور کانگریس کے سدھرنے کا خواب نہ دیکھیں۔جموں کشمیر کے علاقے کاٹھوا میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ کانگریس جموں و کشمیر سے فوج کو واپس بلانا چاہتی ہے۔ جموں کشمیرکی خاطر ان دونوں خاندانوں کومسترد کیا جانا چاہیے۔دوسری طرف بھارت کے عام انتخابات میں ملک کی اہم کاروباری شخصیات انتخابی مہم اور سیاسی جماعتوں کی حمایت میں اہم کردار ادا کررہی ہیں جو انتخابی عمل کو اثر انداز کرسکتے ہیں۔فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دوسری مدت کیلئے الیکشن مہم میں بھارت کے کاروباری سیکٹر کی جانب سے مالی تعاون فراہم کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کے سب سے بڑے جمہوری عمل کی شفافیت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔دوسری جانب کانگریس پارٹی کے راہول گاندھی فائٹر جیٹ معاہدہ کو ناکام کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس میں صنعت کار انیل امبانی بھی شامل ہیں جبکہ وجے مالیا اور نیرو مودی لندن سے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔بھارت میں انتخابات کے اخراجات میں اضافی ہوتا جارہا ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں نامعلوم کاروباری افراد سے ملنے والے عطیات پر زیادہ انحصار کررہی ہیں جس کی وجہ سے شفافیت میں کمی کے خدشات سامنے آرہے ہیں۔آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے رکن نرنجن ساہو نے بتایا کہ ’ پلوٹوکریسی ( دولت کی طاقت ) کا رجحان ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ بے قابو سرمایہ کاری پالیسیوں پر سنگین اثرات مرتب کرسکتی ہے‘۔

بھارتی الیکشن

مزید : صفحہ اول