محکمہ پولیس کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے کا فیصلہ ،اعلٰی سطحی کمیٹی قائم

محکمہ پولیس کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے کا فیصلہ ،اعلٰی سطحی کمیٹی قائم

لاہور(لیاقت کھرل)محکمہ پولیس کے بنیادی ڈھانچے کو نئے سرے سے تبدیل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ محکمہ پولیس میں کئی سال سے رائج فرسودہ نظام کو یکسر ختم کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔ وزیراعظم سے منظوری کے بعد محکمہ پولیس میں نئے سرے سے اصلاحات کا نفاذ کیاجائے گا ،پہلی ترجیح ہی تھانہ کلچر کی تبدیلی ہے۔ ’’روزنامہ پاکستان‘‘کو انتہائی باخبر ذرائع نے بتایا ہے محکمہ پولیس میں نئے سرے سے اصلاحات لانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے ، اس مقصد کیلئے وزیراعظم پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جو اپنی رپورٹ وزیر اعظم کوپیش کرے گی۔ ذرائع کا کہناہے سابق آئی جی اے ڈی خواجہ کی تیار کی گئی تجاویز کو اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے، اس حوالے سے آئی جی پولیس سے بھی تجاویز لی گئی ہیں۔تبدیلی کا بنیادی مقصد تھانہ کلچر کی تبدیلی بتائی گئی ہے۔تجاویز میں شامل ہے تھانوں میں آنے والے سائلین کا گریجویٹ لیڈی پولیس افسر استقبال کرے گی۔ تھانوں میں سائلین کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جائے گا۔ سائلین کے لیے ریفریشمنٹ کا بھی انتظام ہو گا ۔ مقدمہ کے اندراج کے لیے گریجویٹ ایڈمن افسر بطور محرر ڈیل کریں گے،پہلے مرحلہ میں رجسٹریشن ہوگی،مزید براں مقدمہ کی تفتیش کیلئے تفتیشی شعبہ میں نئے سرے سے اصلاحات نافذ کی جائیں گی ۔ قتل، ڈکیتی ایسے سنگین واقعات کی تفتیش ایس پی کی نگرانی میں چاررکنی بورڈ کرے گا اور تھانوں اور انویسٹی گیشن کے شعبہ کو کرپشن فری بنایا جائے گا۔ تھانہ میںآنے والے سائلین کے لیے ویٹنگ رومز تعمیر کیے جائیں گے۔ ریفریشمنٹ کا انتظام ہوگا اور تھانوں میں خفیہ کیمروں سے آئی جی خود مانیٹرنگ کریں گے ۔ خستہ حال عمارتوں میں قائم تھانوں کو رواں سال میں نئی عمارتوں میں شفٹ کیا جائے گا۔ اور ایس ایچ او سمیت تفتیشی افسروں کو مراعات میں 50فیصد سے 200فیصد اضافہ کیا جائے گا ، پنجاب پولیس میں مبینہ کرپشن اور سیاسی دخل اندازی میں ملوث پولیس افسران کو فارغ کیا جائے گا ۔ تھانوں میں ایس ایچ او اور انچارج انویسٹی گیشن کی تعیناتی کا پہلا طریقہ کار ختم کردیا جائے گا۔ تھانوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ اور جدید اسلحہ جبکہ نئی گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔

تھانہ کلچر تبدیلی

مزید : صفحہ اول