70سے زائد برطانوی قانون سازوں کی اسانج کو سویڈن کے حوالے ،والد کی آسٹریلیا واپس لانے کی اپیل

70سے زائد برطانوی قانون سازوں کی اسانج کو سویڈن کے حوالے ،والد کی آسٹریلیا ...

لندن، کینبرا(نیوز ایجنسیاں ) 70سے زائد برطانوی قانون سازوں نے حکومت سے اپیل کی ہے بانی وکی لیکس جولیان اسانج کو سویڈن کے حوا لے کیا جائے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزیر داخلہ ساجد جاوید کے نام اس دستخط شدہ خط میں قانون سازوں نے موقف اپنایا کہ اگر سویڈن جولیان اسانج کے خلاف جنسی حملوں کے الزامات سے متعلق مقدمہ دوبارہ شروع کرتا ہے، تو اسانج کو سویڈن کے حوا لے کر دینا چاہیے۔ سویڈن نے دو برس قبل اس مقدمے پر کارروائی معطل کر دی تھی۔ادھروکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کے والد جان شِپٹن نے آسٹریلوی حکومت سے اپیل کی ہے کہ لندن میں گرفتار ان کے بیٹے کو وطن واپس لایا جائے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شپٹن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاگرفتاری کے بعد اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر انہیں شدید صدمہ ہوا ہے۔ ہر سال کرسمس کے موقع پر وہ ایکواڈور کے سفارتخانے میں اسانج سے ملنے باقاعدگی سے جاتے تھے۔ اسانج کو واپس لانے کیلئے انہوں نے ملکی وزیراعظم اور وزارت خارجہ سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن کہہ چکے ہیں انکی حکومت اسا نج کو کوئی رعایت نہیں دے گی۔واضح رہے جمعرات کے روز اسانج کو لندن میں قائم ایکواڈور کے سفارتخانے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ اسانج سات برس تک اس سفارتخانے میں پناہ لیے رہے۔

اسانج

مزید : صفحہ اول