گرینڈا صلاحی جرگہ تحصیل درگئی نے احتجاجی دھرنے کاآغاز کردیا

گرینڈا صلاحی جرگہ تحصیل درگئی نے احتجاجی دھرنے کاآغاز کردیا

سخاکوٹ( نمائندہ پاکستان) گرینڈا صلاحی جرگہ تحصیل درگئی نے احتجاجی دھرنے کاآغاز کردیا۔مہنگائی،سوئی گیس وبجلی کی لوڈ شیڈنگ،درگئی ٹمبر مارکیٹ کو لکڑی کی سپلائی کی بندش،ملاکنڈ تھری رائیلٹی کو عوام کی بلوں میں ایڈجسٹ کرنے، ہری چند روڈ پر کام مکمل کرنے اور درگئی کی بجائے بٹ خیلہ میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام کے فیصلے کے خلاف درگئی بازار کے مین چوک میں پرامن دھرنے کاآغازکردیا۔تفصیلات کے مطابق گرینڈ اصلاحی جرگہ تحصیل درگئی کے مشران جن میں صدر حاجی اکرم خان، جنر ل سیکرٹری مکرم خان صباء، ٹمبر مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سابق فنانس سیکرٹری حاجی امیرزمان خان، نیازمحمد خان، عظیم اللہ بابو، محمدحسن ماما، امین اللہ خان، ضلعی کونسلر سفیدخان دریاب، تحصیل کونسلر قاضی رشیدخان،یوسف خان،احترام الحق صابر،ڈسٹرکٹ پریس کلب ملاکنڈ کے صدر ظاہر شاہ خان، ممتاز صحافی صابر حجازی، امیررزاق امیراور دیگر علاقہ عمائدین نے جرگے میں اعلان کردہ وعدے کے مطابق اتوار کے دن سے درگئی بازار کے مین چوک کے قریب ایک پرامن دھرنے کاآغاز کردیا۔اس موقع پر مقررین نے کہاکہ تحصیل درگئی کے عوام سوئی گیس کے لوڈ شیڈنگ سے تنگ آگئے ہیں ،پرمٹوں کے نام پر واپڈانے بجلی لوڈ شیڈنگ شروع کررکھی ہے اور ہرماہ کئی کئی دن پرمٹ لے کر بجلی بند کردی جاتی ہے ۔ ساتھ ہی دوپہر کو بجلی چالو کرنے کے بعد بھی معمول کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے ،ملاکنڈ ٹیکس فری زون ہے لیکن ہر قسم کی بلوں سے لے کرہر ایک چیز پر ٹیکس کی کئی کئی اقسام لاگو ہیں،مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کردیاہے،کوئی پوچھنے والا نہیں ہے،آئے روز ضروری اشیاء سمیت دواؤں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیاگیاہے جو غریب عوام کی بس سے باہر ہوچکی ہے ۔ہری چند روڈ پر کئی سال گزرنے کے باوجود کام مکمل نہیں کیا جاتا،مین چوک درگئی بازار کے قریب کوٹ اڈہ میں عوام کو آنے جانے میں سخت مشکلات کا سامناہے ، سڑک کے اوپر سبزی اور فروٹ فروشوں نے اودھم مچایاہوتا ہے ۔ملاکنڈ تھری کی رائیلٹی جو یہاں کے عوام کا حق ہے کسی ایم پی اے اور ایم این اے کا نہیں کہ وہ جہاں چاہے کسی کی راستہ پختہ کرے اور کسی کو ڈنگہ یا سڑک بنا لے اسی رائیلٹی کو تحصیل درگئی کے عوام کے بجلی بلوں میں ایڈجسٹ کر لیاجائے تاکہ سب کو یکساں فائدہ پہنچ سکے،ایشیاء کی سب سے بڑی ٹمبر مارکیٹ کو ایک منظم ساز ش کے تحت ویراں کیاجارہاہے اور یہاں کے ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا جارہاہے اوپر سے یہاں جو سرکاری ڈپو ہے اس کی اور اس کے چوکیداروں سمیت دیگر اخراجات بھی ٹمبر ایسوسی ایشن اپنی جیب سے دیتے ہیں جو صوبائی حکومت اور محکمہ فارسٹ فوری طور پر اپنے ذمہ لے کر ادائیگی شروع کرے۔ساتھ ہی اس مارکیٹ کو ٹمبر کی سپلائی کی بندش ظلم ہے یہاں کے 3000سے زائدوابستہ لوگوں کے منہ سے نوالہ چھینناہے فوری طور پر ٹمبر کی سپلائی بحال کی جائے،درگئی کیلئے منظورشدہ یونیورسٹی کو بٹ خیلہ میں لے جانے کی مذمت کرتے ہیں ، یہاں کے طلباء اور طالبات کے مشکلات کو دیکھتے ہوئے تحصیل درگئی میں یونیورسٹی یا یونیورسٹی کیمپس قائم کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ان مسائل کے حل کیلئے ہم نے ہر در پر دستک دی لیکن کہیں سے بھی شنوائی نہ ہوسکی لہٰذا تحصیل درگئی کے تمام یونین کونسلوں کے مشران نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیاہے کہ ان مسائل کے حل تک درگئی بازار کے مین چوک میں یہ اپرامن دھرنا جاری رہے گاجب تک ہمارے ضروری مسائل کاتصفیہ نہیں کیاجاتا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر