بیمار معیشت/کمزور حکومت

بیمار معیشت/کمزور حکومت
 بیمار معیشت/کمزور حکومت

  

ایک دوست کے ساتھ اوکاڑہ کے قریبی گاؤں جانے کا اتفاق ہوا۔ میزبان کے گھر کے ساتھ ہی لکڑی کا فرنیچر بنانے والے بڑھئی کی دُکان پر دو تین بزرگ بیٹھے تھے۔ بڑھ کر سلام دعا کی اوربیٹھ گیا۔ حالات حاضرہ پر رائے مانگی تو چا چا دینہ(بڑھئی) نے لمبی سانس لے کر کہا جب سے پاکستان بنا ہے یہی سن رہے ہیں کہ پاکستان بہت مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور ساتھ یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ تھوڑا عرصہ لگے گا حالات بہتر ہو جائیں گے۔لیکن حالات ہیں کہ بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں ۔عمران خان کے بارے میں سنا تھا کہ ایماندار ہے لوٹا ہو اپیسا واپس لائے گا لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔برخوردار ان حالات کی اصل وجہ جمہوریت ہے ۔

جو نہیں ہے ،لیکن عوام کو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت ہے۔میں نے استفسار کیا کہ تیس سال مارشل لاء بھی رہا اس نے کیا کیا۔دوسرا بزرگ عبدالرزاق گویا ہوا۔بیٹا جب کرسی بچانے کی فکر ہو، تو بھی عوامی فیصلے نہیں ہوسکتے۔میں سوچ میں پڑ گیا۔بزرگوں کے پاس تعلیم کم اور تجربہ پختہ تھا۔پاکستان بننے سے لے کر آج تک کا تجربہ۔میں نے اپنا تعارف نہیں کروایا اور میزبان کو بھی نہ بتانے کا اشارہ کیا۔ واپس نکلے تو گہری سوچ میں بزرگوں کے جملے گونج رہے تھے۔خاص طور پر چچا دینے کا یہ فقرہ کہ ساری زندگی دھوپ ،چھاؤں میں صرف دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے رہے زندگی کے آخری ایام ہیں اسی طرح قبر میں اتر جانا ہے۔اس فقرے میں دکھ ،کرب اور مایوسی جھلکتی تھی۔

بار بار سوچ گھوم پھر کے وہیں اٹک جاتی تھی ۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

نہ جانے کتنی نسلیں اور کتنے بابے دینے انہیں حسرتوں کے ساتھ منوں مٹی تلے چلے گئے۔ٹھیک ہی کہا بزرگوں نے 72 سال گزر گئے ہر حکمران کرسی کے لالچ کے ساتھ آیا اور پھر کرسی کو پکڑ کر بیٹھا رہا۔اسی خدشے میں حکمرانی ختم ہو گئی کہ کرسی نہ چھن جائے۔جس کی محبت تھی اس نے کسی سے وفا نہ کی اور جن(عوام) سے محبت کرنی تھی کسی نے زحمت ہی نہ کی۔غریب عوام ترستے رہے زندگی کی رعنائیوں کو اور تنگ دست سے ننگ دست ہوتے چلے گئے۔

موجودہ حکومت تحریک انصاف کی ہے یعنی انصاف کی تحریک چلانے والوں کی ۔آتے ہی معیشت کی زبوں حالی کے گورکھ دھندے میں الجھتی چلی گئی۔حکومت آنے سے ایک سال قبل ہی یعنی سنہ2017میں تمام مقتدر حلقوں کو معلوم تھا کہ عمران خان کنفرم وزیر اعظم ہے۔یہی بات میاں برادران پر عیاں تھی۔ انہوں نے ہوشیاری سے معیشت کو اس نہج پر پہنچا کر ان کے سپرد کی جس کا عمران خان تصوربھی نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان نے آتے ہی کرپشن پر کوئی لچک نہ دکھانے کا عندیہ دیا لیکن سٹیٹس کو کی سیاسی پارٹیاں جانتی ہیں کہ این آر او کے راستے پر چلنے کے لیے حکومت کو کیسے گھیرنا ہے۔اس لئے وہ ایسا ہرحربہ استعمال کر رہی ہیں جو حکومت کو گھیر کر این آر او کی طرف لے جائے۔

جیسے چیئرمین سینٹ اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی میں گھیرا گیا۔واقعی بابے عبدالرزاق نے سب ٹھیک کہا ہے کہ سارے فساد کی جڑ جمہوریت ہی ہے جس میں مفاد سب کو عزیز ہے ۔لیکن جمہور(عوام) کسی کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو قوی یقین ہے کہ وہ جمہوریت کے لبادے میں کرپشن کے کیسز سے اس طرح بری ہو جائیں گے جس طرح ماضی میں جمہوریت کے حسن نے ان کو دوام بخشا تھا اور ملک اربوں ڈالر کے قرضوں میں جھکڑتا چلا گیا۔

عمران خان کو اب گھیرا جا رہا ہے۔ہر وہ سیاسی حربہ استعمال کیا جا رہا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے پہلے کرپشن کیسز پر این آر او لے لیا جائے اس کے بعد حکومت گرانے کی منصوبہ بندی ہو گی۔ آج کل نیب کی کارروائیوں کے بعد آپ ان قائدین کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ ہم حکومت نہیں گرائیں گے یہ بالکل عمران خان کی محبت میں نہیں کہتے بلکہ ان کی پہلی ترجیح کرپشن کے کیسز سے نکلنا ہے ۔اگلی حکمت عملی بعد میں طے کریں گے ۔مولانا فضل الرحمن کو ذرا زیادہ جلدی ہے لیکن (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی میثاق جمہوریت یا میثاق معیشت کے نام پر اپنے کیسز ختم کروانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔اشرافیہ کرپٹ ہو تو احتساب کا عمل واقعی مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے اور ہمارے ہاں تو آوے کا آوہ ہی کرپٹ ہے پھر یہاں کس طرح احتساب ہو گا؟ یہ واقعی مشکل ترین سوال ہے۔

عمران خان کے چند مشیر جو اس خوف اور فکر میں مبتلا ہیں کہ عمران خان کا بے لچک رویہ کہیں آگے چل کر ان کو بھی احتساب کے دائرے میں نہ کھینچ لے وہ دبے لفظوں میں عمران خان کو یہ باور کروانے کی کوشش میں ہیں کہ حکمرانی میں لچک دکھانی پڑتی ہے اور حکومت عددی برتری میں کمزور پوزیشن میں ہے لہٰذا احتیاط سے کام لینا چاہیے۔تاریخ گواہ ہے کہ اگر کوئی لیڈر اپنے مشیروں کے مشورے پر چل کر حکومت بچانے کے لیے مصلحتاًکمزور فُٹنگ پر آتا ہے تو حکومت پھر بھی نہیں بچتی اسی لیے وہ عوامی مقبولیت بھی کھو دیتا ہے ۔عمران خان کے پیچھے گڑھا ہے اور آگے کھائی ہے اگر اپنے پاؤں پر مضبوطی سے کھڑا نہ رہ سکے تو حکومت بھی جائے گی اور عوامی مقبولیت بھی ختم ہو جائے گی۔

عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں خود کو آخری امید کہا تھا اب یہ واقعی سچ دکھائی دے رہا ہے۔تمام ملکی اور بین الاقوامی سٹیٹس کو کی طاقتیں عمران خان کو گھٹنوں پر لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔آخری امید کے طور پر عمران خان کو عوام سے کیا گیا وعدہ کہ عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لاؤں گاہر حال میں پورا کرنا ہو گا ۔اگر عمران خان یہ نہ کر سکے تو پھر شاید یہ کبھی نہ ہو پائے۔

مزید : رائے /کالم