صدر: بے چارہ پیادہ تو ہے اِک مہرہ ناچیز

صدر: بے چارہ پیادہ تو ہے اِک مہرہ ناچیز
 صدر: بے چارہ پیادہ تو ہے اِک مہرہ ناچیز

  

اب کی بار معمولی سی بھی صدارتی اور غیرآئینی مہم جوئی پاکستان کو وہ نقصان پہنچاسکتی ہے کہ اس کی تلافی درجن بھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی نہیں کر سکیں گے۔ صدارتی نظام پاکستانی عوام کی نہیں،شاطر امریکہ کی ضرورت ہے۔باجگزار ممالک میں فردِواحد سے معاملہ کرنا بے حد آسان ہوا کرتا ہے۔فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ!۔۔۔ لیکن اب یہ مہم جوئی اوّل تو ممکن ہی نہیں اور اگر نمائندگان پینٹاگان اور بحرِاوقیانوس کے پار بیٹھے ان کے آقائے ولی نعمت نے کچھ کرنے کی ٹھان ہی لی ہے تو۔۔۔؟

اللہ کرے میرے خدشات اور تجزیہ دونوں غلط ہوں، کسی کے ہاتھ نہ صرف کچھ نہیں آئے گا، بلکہ کچھ بچے گا بھی نہیں۔ پچاس کی دہائی کے اخبارات دیکھے جائیں تو جملہ صحافتی سرگرمیاں غیرمحسوس طریقے پر ایک ہی نکتے کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں: سیاست دانوں کی بدعنوانی پرمٹ کی شکل میں، راشن ڈپو کی الاٹمنٹ، متروکہ املاک میں خردبرد، اوریہ مالیاتی مشاغل ارکان اسمبلی اور بلدیاتی ارکان کی سطح پریعنی مقامی سوچ رکھنے والوں کا طرۂ امتیاز رہا تھا۔ اوپر کی سطح کے تمام سیاستدان لفظ بدعنوانی سے ناآشنا رہے، لیکن اخبارات کی چیخ و پکار ۔۔۔ ٹی وی چینل کے مثل۔۔۔ اسے سیاستدانوں کے نامۂ اعمال کی سیاہی ہی گردانتی رہی، تاوقتیکہ ایک نجات دہندہ الموسوم بہ فخر ایشیا ( ایک اور روایت کے مطابق ایشیا کا ڈیگال) نمودار ہوا۔ پہلے تو موصوف نے مارشل لا چیف والی ٹوپی سے کام چلایاپھر انہیں فیلڈ مارشل کہلانے کا شوق عود کر آیا۔

بالآخر صدرِ پاکستان پر آ کر انہوں نے قرار پکڑا۔ قرار بھی ایسا پکڑا کہ چھپن فی صد آبادی بے قرار و بے چین رہی۔ ایسے لوگوں کی شناخت محب وطن کی سی ہوا کرتی ہے اورمحب وطن ہمیشہ حزب اقتدار سے تعلق رکھتے ہیں۔ حزب اختلاف کے لوگ ظاہر بات ہے ہمیشہ غدار ہوا کرتے ہیں۔ پھریہ ہوا کہ تحریک پاکستان کے ایام میں گھر گھر جا کر مسلم لیگ کے لئے کام کرنے والا بھی غدار قرار پایا۔اور یہ سارے کام صدارتی نظام کی چھتری تلے ہو رہے تھے۔ ملک متحد اور اس کے دونوں حصے باہم شیر و شکر تھے۔ ملک میں ترقی ہو رہی تھی۔ اور ترقی بھی ایسی کہ ترقی کرتے کرتے ایک دن ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے۔فرزیں سے بھی پوشیدہ ’’تھا ‘‘شاطر کا ارادہ!

آئزن ہاور اور فاسٹر ڈاکٹرائن نے اس ملک کے ابتدائی ایام ہی میں ہمارے گرد بوساطت محبان وطن سیٹو(SEATO) اور سینٹو(CENTO) کا ایسا شکنجہ کس دیا تھاجس پر عمل درآمد کرانے کے لئے ایک ’’ مردِ آہن ‘‘ درکار تھا۔ وہ صدرِپاکستان ہی ہو سکتا تھا۔ پارلیمانی نظام میں یہ ممکن ہی نہ تھا کہ بڈھ بیر سے یو ٹو کی اُڑان ہوتی۔ پارلیمان کا ادنیٰ سا رکن بھی اٹھ کر پوری حکومتی کارروائی کا پول کھول کر رکھ دیتاہے ۔ صدارتی نظام کے اس مہرے نے اقتدار سنبھالتے ہی بڈھ بیر کا علاقہ کچھ اس طرح امریکیوں کو دیا کہ یہاں ایک ہزار سے زیادہ امریکی آبسے اور امریکی پریس اسے ’’لٹل یو ایس اے‘‘ لکھنے لگا۔بے چارہ پیادہ تو ہے اِک مہرہ ناچیز۔

یکم مئی 1960ء کو پشاور سے یو ٹو کی خفیہ اُڑان نے سوویت یونین کو کچھ اس طرح بے چین کیا کہ تھوڑے عرصے کے بعد اس نے ہندوستان کے ساتھ معاہدہ دوستی کیا۔ ان دونوں کے اس سفارتی و فوجی تعاون کا نتیجہ بشکل بنگلہ دیش نکلا۔ ملک کے اندر بڑی ترقی ہو رہی تھی، واہ واہ سبحان اللہ اور پتہ نہیں داد و تحسین کی کون سی شکل تھی جو صدر صاحب کو دان نہیں کی جا رہی تھی۔انہوں نے ملک کوصدارتی نظام کا طواف کرتا آئین دیا اور 25 مارچ 1969ء کو خود ثابت کر دیا کہ ملک میں صدارتی نظام ناکام ہے۔ اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا اور یوں ملک ترقی کرتے کرتے پتہ نہیں ٹوٹ کیوں گیا۔ امریکہ نے ان دونوں سے جو کرانا تھا وہ کرا چکا تھا اور یہ کام فردِواحد ہی سے کرایا جا سکتا تھا۔فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ! صدارتی نظام پاکستانی عوام کی نہیں امریکہ کی ضرورت ہے۔

جنرل ضیا الحق بھی اسی ٹبر کا رکن رکین تھا جس کے دو صدر پہلے گزر چکے تھے، لیکن جنرل ضیا کی انفرادیت کچھ یوں تھی کہ ان کے خمیر میں مقامی روایات اور مذہب کا عنصر بہت ہی نمایاں تھا۔ وہ خودشاطرتھا ۔چند لوگ کچھ اور کہتے ہیں تو بھلے کہتے رہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ طویل عرصے تک سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کو پاکستان اکیلے ہی سہتا رہا۔ جنرل ضیا نے ملک کے صدر کا عہدہ تو سنبھالا تھا، صدر کے اختیارات بھی کچھ اتنے کر دیے کہ آئین کی پارلیمانی شناخت گہناکر رہ گئی، لیکن اپنی تمام فوجی مہم جوئی کے باوجود انہوں نے ملک کے پارلیمانی نظام کے ساتھ کوئی بڑی اکھاڑ پچھاڑ نہیں کی۔

بعد میں جب امریکی افغانستان کے سوویت دنگل میں اُترے توجنرل ضیا نے امریکیوں کو خوب استعمال کرتے ہوئے نصف درجن سے زائد اسلامی ریاستیں سوویت یونین سے واگزار کرا لیں اور خود شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے۔ اللہ ان کو جنت میں کسی اعلیٰ مقام میں جگہ دے۔ آمین۔ ان تمام باتوں کے باوجود جب وہ ملک سے رخصت ہوئے تو ملک میں اٹھارہ گھنٹے یومیہ کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی،لیکن دیگر صدور اور جنرل ضیا میں بنیادی فرق یہ رہا کہ وہ بجائے خود ایک اعلیٰ پائے کے مدبر اور تاریخ کا گہرا شعور رکھنے والے تھے اور ایسے افراد سالوں نہیں صدیوں بعد کہیں جا کر پیدا ہوا کرتے ہیں۔

آرمی ہاؤس کے امام کا بیان ہے کہ میں نے ان کو تہجد کی نماز بھی کبھی قضا کرتے نہیں دیکھا اور وہ بھی مسجد میں۔ ادھر آج کل مدینہ کی اسلامی ریاست کے جس خلیفۃ المسلمین کا کھریرا کرکے اسے تیارکیاجا رہا ہے، اس کے بارے میں فیس بُک پر محققین ابھی تک یہ تحقیق فرما رہے ہیں کہ موصوف نے گزشتہ عید کی نماز کہاں پڑھی تھی، پڑھی بھی تھی یا نہیں؟ اور اگر نہیں پڑھی تو تمہیں کیا؟

حالیہ ’’ مردِ آہن ‘‘ صدر پرویز مشرف نے صدارتی نظام کی ڈھال تلے اس ملک کو جس بُری طرح بلُوتھرا (قارئین کرام ملک کے ساتھ موصوف نے جو سلوک کیا ،اس کے بیان کے لئے مجھے اس بلیغ پوٹھواری اصطلاح سے زیادہ اچھا لفظ اردو میں کہیں نہیں مل سکا۔ ادھیڑنا کے قائم مقام سمجھ لیں، لیکن مولوی مدن کی سی بات کہاں) اس کی تفصیلات انہی کے ساتھی جنرل شاہد عزیز کی کتاب ’’یہ خاموشی کہاں تک‘‘ میں دیکھ لیں۔افغانوں کے دلوں میں جنرل ضیا ، جنرل اختر عبدالرحمن اور کرنل امام جیسے شہدانے جو جگہ بنائی تھی، اس بزدل صدر نے اس کے برعکس ملک کی ہوائیں، فضائیں، ہوائی فضائی اڈے اور کیا کچھ امریکیوں کو نہیں دیا۔

جن کی مدد سے انہوں نے افغان مرد بیمار کے رہے سہے حصوں کو کھنڈر تو بنانا ہی تھا، پاکستان کے لئے جو سفارتی کامیابی جنرل ضیا اور جنرل اختر عبدالرحمن نے بڑی محنت سے حاصل کی تھی، اسے ہندوستان لے اڑا۔ فردِواحد کے ساتھ معاملہ کرنا بے حد آسان ہوا کرتا ہے۔اختیارات ایک ذات میں مرتکز کر دئیے جائیں توباجگزار قوموں کے مشرقی پاکستان، عراق، لیبیا اور شام کی شکل میں کھنڈر بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ وہ تو اس دفعہ اللہ نے کرم کیا کہ پارلیمنٹ موجود تھی ورنہ اکیلا وزیراعظم صورتِ حال سے ہرگز نہ نمٹ پاتا اور آج ملک ایک نئی طرح کی فرقہ واریت کی لپیٹ میں ہوتا۔ اور کیا یمن، کیا ایران توران ،کُل عالم اس ملک کو دہشت گردی کے نئے نئے آداب و القاب سے نواز رہا ہوتا۔

بے چارہ پیادہ تو ہے اِک مہرہ ناچیز

فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ!

فردِواحد کے ہاتھوں میں مرتکز اختیارات قوموں اور اداروں کو کہاں گہری کھائی میں منہ کے بل دھکیل دیتے ہیں، اس کے لئے جماعت اسلامی کی مثال اور ایک ہی مثال کافی ہے کہ جب جماعت میں بالائے شوریٰ فیصلے ہونے لگے۔ عالم اسلام کا یہ نہایت ہی قیمتی اثاثہ کچھ اس طرح اغوا کیا گیا کہ ’’جی دلی کے لال قلعے پر پرچم آپ ہی نے لہرانا ہے۔

‘‘ کوئی پوچھے نصف صدی بعد بھی بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو امریکہ سمیت صرف آٹھ نو غیرمعروف ممالک ہی نے جواز بخشا۔ اس تنہا سپرپاور کی ہاں میں ہاں ملانے والے صرف اسی کے حاشیہ بردار چند ممالک تھے باقی دو سو سے زائد ممالک عدل اور انصاف سے کندھا ملائے کھڑے تھے۔ ادھر ہم ہیں کہ ہندوستان کی سرحدی ترکیب بدلنے چلے تھے۔ امیرِجماعت سے بالائے شوریٰ اتنے فیصلے کرائے گئے، کہ میں نے آج کل فیس بُک پر جماعت کے منجھے ہوئے ارکان کو مولانا فضل الرحمن کو امید کی کرن بیان کرتے دیکھا۔ ’’کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا۔‘‘

مجھے طاہرالقادری کے پیروکاروں کے اخلاص میں ایک شمہ برابر شک نہیں ہے۔ دسمبر کی ٹھٹھرتی راتوں میں نوزائیدہ بچوں کی مائیں بھی اسلام آباد کے پہلے دھرنے میں شریک تھیں کیوں؟ انہیں عدل و انصاف کا ٹانک پلایا گیا تھا اور اس پر ان لوگوں کا واقعی ایمان تھا، لیکن قارئین کرام کیا طاہرالقادری کے بارے میں بھی کوئی وہی معمولی سا گمان بھی کر سکتا ہے جو میں نے ان کے پیروکاروں کی بابت کیا ہے۔ ذرا امریکہ میں مقیم باخبر پاکستانیوں سے پتہ کر لیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق امریکہ میں موصوف کی نقل و حرکت ایف بی آئی کے حصارمیں ہوتی ہے۔ کبھی کسی نے غورکیا کہ کیا آج کل ملک میں یکایک اسلامی نظام رائج ہو گیا ہے جو موصوف اسکرین سے غائب ہو چکے ہیں۔

مجھے اس سارے قضیے میں امید کی کرن اگر نظر آتی ہے تو عدلیہ کے اندر معدودے چندعناصر سے نظر آتی ہے۔معلوم نہیں اس دفعہ ملک کے مستقبل کے ساتھ بے دردی سے کھیلنے والے اپنے تھیلے میں سے کیا اور کیسے نئی بلی نکالیں گے۔ ملک کا سب سے بڑا تِھنک ٹینک اگر کوئی ہے تو وہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اس دفعہ ’’شفاف ترین‘‘ انتخابات کرائے تھے۔ موجودہ چیف جسٹس عدلیہ کو واپس اسی ڈھب پر لانے کے لئے کوشاں ہیں جس کا تقاضا آئین کرتا ہے اور جس طرح جنرل کیانی نے پرویز مشرف کے بعد فوج کو اباؤٹ ٹرن کا حکم دیا تھا۔

اب معمولی سی صدارتی اور غیرآئینی مہم جوئی پاکستان کو وہ نقصان پہنچاسکتی ہے کہ اس کی تلافی درجن بھر ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی نہیں کر سکیں گے۔ ملک کو عوام کی مرضی کے مطابق چلنے دیں جسے عوام اپنے نمائندوں سے چلاتے ہیں۔ فی الحال ملک نہ تو عوام کے نمائندوں سے چلایا جا رہا ہے اور نہ آئندہ کچھ عرصے تک اس کی کوئی شکل دکھائی دیتی ہے، لیکن آئینی تبدیلی تو کسی وقت بھی ہو سکتی ہے۔ آئینی تبدیلی اور صرف آئینی تبدیلی۔ اس آئینی تبدیلی میں کسی صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔صدارتی نظام پاکستانی عوام کی نہیں امریکہ کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم