نیب اور حمزہ شہباز میں ٹھن گئی؟

نیب اور حمزہ شہباز میں ٹھن گئی؟
 نیب اور حمزہ شہباز میں ٹھن گئی؟

  

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے اپنے گھر پر نیب کے دو چھاپوں کے باوجود گرفتاری نہیں دی اور لاہور ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت کرا کے بالآخر عبوری ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس دن سے یوں لگ رہا ہے کہ جیسے نیب اور حمزہ شہباز شریف میں ٹھن چکی ہے جس دن حمزہ شہباز نیب سے بچنے کے لئے گھر میں چھپے ہوئے تھے، اسی دن حفاظتی ضمانت ملنے کے بعد وہ اپنے گھر کی چھت پر آئے اور نیب پر تابڑ توڑ حملے کئے حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔

نیب نے ان چھاپوں کی ناکامی کے بعد حمزہ شہباز شریف کو اپنے ریڈار پر کچھ زیادہ ہی فوکس کر لیا ہے۔ انہیں 12 اپریل کو دوبارہ طلب کیا گیا تو وہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے نیب آفس پہنچے پھر یہ اصرار بھی کیا کہ وہ اپنے وکیل کے ساتھ پیش ہوں گے، لیکن یہ بات نہ مانی گئی ان سے اڑھائی گھنٹہ تفتیش کی گئی حالانکہ نیب عموماً ایک گھنٹے میں نئے سوالات کی فہرست دے کر واپس بھیج دیتا ہے۔ نیب افسران نے گویا یہ باور کرا دیا اگرچہ آپ گرفتاری سے بچ گئے ہیں تاہم معنوی طور پر اب بھی نیب کی حراست میں ہیں نیب نے حمزہ شہباز کے خلاف نئے کیسوں پر کام شروع کر دیا ہے اور اب تو ان کی والدہ اور بہنوں کو بھی نوٹس جاری کئے ہیں، نیز ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش بھی کر دی ہے۔

اس سے صاف لگ رہا ہے کہ نیب مزید تندہی کے ساتھ ان کا پیچھا کر رہا ہے اور کسی قیمت پر انہیں ریلیف دینے کو تیار نہیں۔اُدھر حمزہ شہباز شریف بھی کچھ کم نہیں کر رہے۔ انہوں نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس میں یہ الزام لگا دیا کہ نیب ان پر سیاسی شکست تسلیم کر کے حکومت کے خلاف نہ بولنے کی ضمانت مانگ رہا ہے، جس کے بعد کارروائیاں بند کر دی جائیں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے ڈی جی نیب پنجاب پر بھی یہ الزام لگایا کہ ان کی جعلی ڈگری کے کیس پر پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد واپس لینے کے لئے بھی پیغامات بھجوائے گئے ہیں۔ لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

جب انہوں نے یہ پریس کانفرنس کی تو تھوڑی ہی دیر بعد نیب کا پریس ریلیز سامنے آگیا، جس میں حمزہ شہباز کے الزامات کو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق قرار دیا گیا، نیب کے پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نیب میرٹ پر منی لانڈرنگ کے الزام میں حمزہ شہبازشریف کے خلاف تفتیش کر رہی ہے اور ٹھوس شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ وہ ثبوت فراہم کرنے کی بجائے سیاسی الزامات لگا رہے ہیں، جن میں کوئی صداقت نہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ منظر نامے میں نوازشریف اور شہباز شریف کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے اور حمزہ شہباز شریف فرنٹ پر آ گئے ہیں ان کی گرفتاری گویا نیب کے لئے ایک چیلنج بن گئی ہے۔

پھر جس طرح انہیں ہفتہ کو چھٹی کے باوجود حفاظتی ضمانت ملی اور حمزہ شہباز کے قریبی حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیا گیا کہ ان کی گرفتاری ممکن نہیں اس نے اس چیلنج کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ شاید اسی وجہ سے نیب یہ چاہتا ہے کہ حمزہ شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کے ثبوتوں کو اس طرح منظرِ عام پر لایا جائے کہ ان کی گرفتاری اگر کسی خاص وجہ سے نہیں ہو رہی تو اس دباؤ کے باعث اس وجہ کا بھی خاتمہ ہو جائے۔

نیب کو بڑی احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ اگر یہ تاثر گہرا ہو گیا کہ نیب ہر صورت حمزہ شہباز کو نشانہ بنانے پر تلی ہوئی ہے اور ذرا سا بھی یہ شائبہ پیدا ہوا کہ اس سارے کھیل کا مقصد سیاسی ہے تو اس کا نیب کو بہت نقصان پہنچے گا۔ پہلے ہی یہ پروپیگنڈہ موجود ہے کہ نیب حکومت کی آلہ کار بن کر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنا رہی ہے عوامی تاثر اب بھی نیب کے حق میں ہے کیونکہ جتنے شواہد وہ آصف زرداری اور حمزہ شہباز کے خلاف لے آئے ہیں انہیں عوام بھی جان چکے ہیں جو ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں اور جن کا شریف خاندان سے تعلق کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کیونکہ وہ کئی دہائیوں سے ان کے ملازم چلے آ رہے ہیں ان کے بیانات اور فراہم کئے گئے ثبوت نیب کے ہاتھ لگنے والی وہ طاقت ہیں جس نے نیب کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں قابل غور بات یہ ہے کہ حمزہ شہباز کی حمایت میں نوازشریف یا شہباز شریف کوئی بیان نہیں دے رہے۔

حمزہ شہباز خود ہی اکیلے اس ساری مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں بعض سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ شریف فیملی حمزہ شہباز کو آگے لانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اس لئے پوری مسلم لیگ (ن) کو نیب کے خلاف متحرک کرنے کا ٹاسک بھی انہی کو دیدیا گیا ہے۔ جس شد و مد سے کارکنوں نے حمزہ شہباز کو گرفتاری سے بچایا اور جس طرح عدالت میں پیشی کے موقع پر وہ اظہار یکجہتی کے لئے ان کے ساتھ آئے ہیں، اس نے یہ اشارہ تو دے ہی دیا ہے کہ حمزہ شہباز کی شخصیت مسلم لیگی کارکنوں میں مقبول اور انہیں متحرک بھی کر رہی ہے۔ تاہم حمزہ شہباز کے پاس بھی کچھ زیادہ گنجائش نہیں، وہ ایک ہی بات کو بار بار نہیں دہرا سکتے، نہ ہی انہیں نیب کے پے درپے کیسوں میں عدالت سے ضمانت کا فوری ریلیف مل سکتا ہے۔

انہیں ثبوت فراہم کرنے کے بعد ہی ریلیف مل سکتا ہے۔ بہتر تو یہی ہوگا کہ وہ سیاسی مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے وکلاء کے ذریعے نیب کے الزامات کو غلط ثابت کریں۔ جب کسی ریاستی ادارے کو سیاسی دباؤ ڈال کر رام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کی ساکھ بچانا ادارے کا سب سے بڑا ٹاسک بن جاتا ہے، ایسا تو ممکن نہیں کہ نیب اتنے زیادہ الزامات لگائے، اور اتنے اہم ثبوت فراہم کرکے چپ سادھ کے بیٹھ جائے۔ اسے تو اپنا کام کرنا پڑے گا۔ پھر اگر حمزہ شہباز ہر وقت یہ الزام لگاتے رہیں کہ ان پر نیب کے ذریعے حکومت دباؤ ڈال رہی ہے یا نیب کے افسران ان کی زبان بندی چاہتے ہیں ایسے میں نیب اگر ان کا پیچھا چھوڑ دیتی ہے تو نیب کی ساکھ کا کیا بنے گا۔

پھر معاملہ ایک کیس تک تو محدود نہیں، نیب شہباز شریف کے خلاف بھی کیسز بنا رہی اور ریفرنسز دائر کر رہی ہے۔ ان کا کیا بنے گا؟

حمزہ شہباز شریف کو اتنا تو معلوم ہو ہی چکا ہے کہ شور شرابے سے بات بنتی ہے نہ جان چھوٹتی ہے نوازشریف کی مثال سب کے سامنے ہے۔ آصف زرداری بھی اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں اور انہوں نے نیب عدالت میں اپنی گزشتہ پیشی پر کارکنوں کو آنے سے منع کر دیا تھا اور کہا تھا کہ قانونی جنگ وہ قانونی طریقے سے لڑیں گے۔ حمزہ شہباز کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ انہیں عدالتوں کی طرف سے غیر روایتی ریلیف مل رہا ہے۔

اس لئے نیب کے سامنے ایک سیاسی مزاحمت کار کے طور پر آنے کی بجائے انہیں قانون کے مطابق اپنی جدوجہد کرنی چاہئے۔ ان الزامات سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ نیب سیاسی بارگیننگ کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے۔ حمزہ شہباز اتنے بڑے لیڈر نہیں کہ ان پر قابو پانے کے لئے ایسے راستے اختیار کئے جائیں۔ لیڈر بننے کے لئے قانون سے فرار نہیں بلکہ اس کا احترام کرنا پڑتا ہے۔ حمزہ شہباز یہ بات آصف زرداری سے سیکھیں جو یہ نہیں کہتے کہ گرفتاری نہیں دوں گا بلکہ یہ کہتے ہیں میں جیل جانے سے نہیں ڈرتا وہ تو میرا دوسرا گھر ہے۔

مزید : رائے /کالم