کبھی نہ کبھی ،کہیں نہ کہیں ،کوئی نہ کوئی تو آئے گا!

کبھی نہ کبھی ،کہیں نہ کہیں ،کوئی نہ کوئی تو آئے گا!
کبھی نہ کبھی ،کہیں نہ کہیں ،کوئی نہ کوئی تو آئے گا!

  

جب چند روز پہلے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 16سے 20اپریل کے درمیان پانچ دنوں کو خطرناک قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کو انتہائی قابلِ یقین ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ انڈیا ان ایام میں پاکستان پر کوئی بڑا حملہ کر سکتا ہے تو اس پر میڈیا میں کافی بحث و تمحیص ہوئی تھی(اور میں نے بھی ایک کالم اسی موضوع پر لکھا تھا) لیکن اس نکتے پر سبھی خاموش تھے کہ وزیرخارجہ کی معلومات کا سورس کیا ہے۔ ہم بالعموم ان ذرائع اور منابع کو رموزِ مملکت کی ذیل میں سمجھ کر بھول جاتے ہیں کہ جوں جوں زمانہ آگے بڑھ رہا ہے ان رموزِ مملکت کو خسروانِ مملکت تک محدود نہیں رکھا جا سکتا اور آج کل کے عوام بھی خواجہ حافظ شیرازی کے زمانے والے کوئی ایسے گدایانِ گوشہ نشین نہیں رہے کہ چپ کی اوڑھنی اوڑھ کر سو جائیں گے۔ یہ دور میڈیا کی بیداری کا دور ہے۔

اس دور کی ڈکشنری میں شب خوابی نام کا کوئی لفظ نہیں۔ یہ میڈیا اب 24گھنٹے جاگتا ہے اور جو خبر کسی معمولی سے نقابِ اخفا میں رکھی معلوم ہوتی ہے اس کا پردہ فاش کرنے کے لئے آخری حدوں تک چلا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں شائد یہ میڈیائی کلچر ابھی متعارف نہ ہوا ہو لیکن ترقی یافتہ اور جدید معاشروں میں کسی خبر کا ماخذ اور منبع چھپا کر رکھنے کا رواج تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

اب تو افریقہ بھی کوئی ’تاریک براعظم‘ نہیں رہا ۔۔۔اور جہاں تک ہمارے براعظم کا تعلق ہے تو اس میں تو دنیا کے نو جوہری ممالک میں سے آدھے یہاں پائے جاتے ہیں (چین، پاکستان، انڈیا، اسرائیل، شمالی کوریا) ان پانچ ملکوں میں نہ صرف جوہری ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں کافی ترقی ہوئی ہے بلکہ ٹیکنالوجی کی دوسری فیلڈز میں بھی اب یہ براعظم ، شمالی امریکہ اور یورپ کی ہمسری کرنے لگا ہے۔ انہی فیلڈز میں ایک فیلڈ انٹیلی جنس کی بھی ہے۔ جن آلات سے کسی ملک کی جاسوسی کی جا سکتی ہے، انہی آلات کے سکے کے دوسرے رخ سے اسی جاسوسی کا توڑ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یعنی انٹیلی جنس اور کاؤنٹر انٹیلی جنس کا یومِ ولادت اب ایک ہی ہو چکا ہے۔

دنیا کا کوئی ملٹری ویپن اب ایسا نہیں کہ اس کا توڑ (کاؤنٹر) دریافت نہ کر لیا گیا ہو۔ ایک اور بات جس کی خبر میرے اکثر دوستوں کو نہیں وہ یہ ہے کہ کوئی بھی نیا ہتھیار جب ایجاد ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا ردّ (Counter) بھی دریافت کر لیا جاتا ہے۔۔۔ یہ گویا دو جڑواں بچے ہیں۔ جب شاہ محمود قریشی ان مبینہ انڈین حملوں کی پلاننگ کی خبر دے رہے تھے اور اسے انتہائی مصدقہ قرار دے رہے تھے تو ان کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ ذریعہ ء معلومات جس کو وہ چھپا رہے تھے، تادیر چھپایا نہیں جا سکتا۔ ان کو معلوم ہو گا کہ ٹینک، طیارہ، آبدوز اور میزائل کی ایجاد کے ساتھ ہی ٹینک شکن، طیارہ شکن، آبدوز شکن اور میزائل شکن ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی بھی عام ہو چکی ہے۔

انڈیا اور اس سے پہلے چین نے اپنے جو سیارے خلا میں بھیج رکھے تھے ان کو گرانے کے تجربات بھی کوئی نئی بات نہیں رہے۔ امریکہ، فرانس، روس اور برطانیہ نے عشروں پہلے یہ سیارہ شکن ٹیکنالوجی ایجاد کرکے اس کے تجربات بھی کر لئے تھے۔ یہ ’سیارہ شکن‘ ٹیکنالوجی جس طرح امریکہ سے چین اور چین سے انڈیا پہنچی تو کیا اسی طرح پاکستان نہیں پہنچ سکتی؟۔۔۔ یہ ضرور پہنچی ہے۔۔۔ اگر کوئی فرق ہے تو صرف وقت کا فرق ہے۔ آج نہیں تو کل پاکستان بھی اپنا کوئی سیارہ ’’ٹھاہ‘‘ کرکے گرا دے گا۔ اور انڈیا سے حساب برابر کر دے گا۔۔۔ انٹیلی جنس کی دنیا ویسے تو ایک عجیب و غریب اور اہم تر دنیا مانی جاتی رہی ہے لیکن وکی لیکس اور پاناما لیکس نے تو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا بڑے بڑے برج مسمار کر دیئے۔ انڈیا کے یہ انٹیلی جنس ذرائع کس باغ کی مولی ہیں کہ ان کا سراغ عوام کو نہیں ملے گا۔

یہ بات حیران کن ہے کہ وزیرخارجہ سے کسی پاکستانی صحافی نے دورانِ پریس کانفرنس یہ سوال نہیں کیا کہ جس خبر کو مصدقہ اور باوثوق بتا رہے ہیں، اس کا ذریعہ کون سا ہے؟۔۔۔

ایک اور بات پر بھی میرے دوستوں نے شائد کم غور کیا ہے کہ جو ملک آج ترقی کے اوجِ کمال پر سرافراز ہیں، انہوں نے مشینی ذرائع معلومات پر اعتبار کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اب وہ مشینی ذہانت (Artificial Intelligence) کی بجائے انسانی ذہانت (Human Intilligence) پر زیادہ تکیہ کرنے لگے ہیں۔ یہ مشینی ذہانت جسے مصنوعی ذہانت (A1) بھی کہا جا رہا ہے نسبتاً ایک جدید اصطلاح ہے اور اس پر بہت سا مواد آپ کو نیٹ پر مل جائے گا۔

مشینی انٹیلی جنس کی اچھی بات یہ ہے کہ وہ انسانی دماغ کے مقابلے میں لاکھوں گنا تیز رفتار اور ذہین ہے اور بری بات یہ ہے کہ یہ انسانی جذبات اور انسانی دل و دماغ کے احساسات سے عاری ہے۔ مشینی آلات میں احساسِ مروت نہیں ہوتا اس لئے وہ بے رحم ہیں، دوست دشمن میں تمیز نہیں کر سکتے اور اسی لئے انسانی ذہانت کی طرح ہمہ گیر، ہمہ صفت اور ہمہ پہلو نہیں ہو سکتے۔

فرض کیجئے آپ نے ایک بین البراعظمی بلاسٹک میزائل تو بنا لیا، اس کی رینج بھی دس بیس ہزار کلومیٹرز تک لے گئے، اس کی نوک پر ایک جوہری وار ہیڈ بھی اٹکا دیا اور اس کا ٹارگٹ بھی پِن پوائنٹ (Pin Point) کر دیا لیکن جب وہ میزائل ،جوہری بم لے کر ٹارگٹ کے نزدیک پہنچا تو آپ کو اچانک ’’مصدقہ‘‘ خبر / اطلاع موصول ہوئی کہ جس ٹارگٹ پر یہ میزائل ترازو کیا گیا تھا وہ درحقیقت ’دشمن ٹارگٹ‘ نہیں تھا ’دوست ٹارگٹ‘ تھا۔ لیکن کیا اب آپ اس میزائل کو ٹارگٹ پر جا لگنے سے روک سکتے ہیں؟۔۔۔ نہیں۔۔۔ آپ بالکل ایسا نہیں کر سکتے۔

مصنوعی ذہانت (یا مشینی ذہانت) کا المیہ یہی ہے کہ وہ محض مشین ہے، محض روبوٹ ہے اور اس سے کسی انسانی ذہن کی سی جیتی جاگتی ذہانت والا کام نہیں لیا جا سکتا۔ اہلِ مغرب آج کل اسی سوال پر پریشان ہیں۔ اورمصنوعی ذہانت کے حق میں اور اس کی مخالفت میں بڑی زور دار بحثیں ہو رہی ہیں۔ جن ذرائع سے شاہ محمود قریشی کو انڈین اٹیک کی پلاننگ کی خبر موصول ہوئی وہ اگر براہِ راست انسانی ذریعہ ہے تو زیادہ قابلِ قبول اور زیادہ قابلِ اعتبار ہو گا۔ اس سلسلے میں صرف ہماری وزارتِ خارجہ ہی نہیں، ہمارا آرمی ہیڈکوارٹر (GHQ) بھی برابر مصروفِ جستجو ہے۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ اگر ہمارا کوئی آدمی، انڈین ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں بیٹھا ہوا ہے تو اس کی طرف سے فرستادہ معلومات بھی تو محلِ نظر ہو سکتی ہیں۔

اور اسی لئے یہ وسیلہ ء جاسوسی قابلِ اعتبار بھی نہیں ہو سکتا۔۔۔ بہرحال 16اپریل زیادہ دور نہیں اور 20اپریل بھی زیادہ فاصلے پر نہیں۔ اس خبر کے لیک ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ اوورآل وار یا سرجیکل سٹرائیک وغیرہ شروع کرنے سے پہلے انڈیا کو ہزار بار سوچنا پڑے گا کہ وہ 26فروری کو دہرائے یا اس سے باز رہے!

آپ نے دیکھا ہو گا کہ جس موضوع کو چھپانا مقصود ہو اس کی پوشیدگی اور اخفاء کے لئے ہزار جتن کئے جاتے ہیں۔ ’’چَھل حملہ‘‘ (Feint) ایک بہت قدیم عسکری اصطلاح ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اصل مقامِ حملہ کوئی اور ہوتا ہے جبکہ بظاہر ساری تیاریاں اور ابتدائی اقداماتِ حملہ کسی اور مقام پر لئے جاتے ہیں تاکہ دشمن کو دھوکہ دیا جا سکے۔ یہ ’’چھَل حملہ‘‘ (Feint) اب ہر طرح کے حملوں میں استعمال ہونے لگا ہے۔ مثال کے طور پر اسی 16سے 20اپریل پر حملے کی پلاننگ کو لیجئے۔۔۔ عین ممکن ہے اس ممکنہ حملے کی اصل تاریخیں کوئی اور ہوں۔

لیکن ان تاریخوں (16تا 20اپریل) کو ’درست‘‘ ظاہر کرنے کے لئے ہو سکتا ہے انڈیا کوئی جھوٹ موٹ کی سرجیکل سٹرائیک کی تیاری کرنے لگے، اپنی روائتی فورسز کو کسی ایسے محاذ کی طرف Move کرنے کے احکام دے جو اصل مقامِ حملہ سے دور ہوں۔۔۔ لیکن دوسری طرف یہ سارے داؤ پیچ ہماری افواج کو بھی خوب معلوم ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔ ہم نے گزشتہ پاک بھارت جنگوں میں بھی ان چھَل حملوں (Feints) کو کئی بار استعمال کیا ہے۔ اس لئے اب ان کو کسی نئے روپ میں زیرِ عمل لانے میں بھی کوئی امر مانع نہیں۔ دونوں ممالک وار ٹیکنالوجی میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ یہ وار ٹیکنالوجی ایک بسیط اور پیچیدہ (Complicated) موضوع ہے۔

قارئین تک(اور وہ بھی اردو زبان کے قارئین) ان کو پہنچانے اور سمجھانے کا کلچر پاکستان میں عام نہیں ہو سکا۔ ہم تو الا ماشا اللہ اور طرح کے کلچرز کو سمجھنے سمجھانے میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔ اور انہی کو اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے۔ ان سے جان چھوٹے تو دھیان کی روکسی اور سمت کا رخ کرے۔ سارا ای میڈیا، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا خود بھی کسی اور طرح کے کلچر کا عادی ہو چکا ہے اور اپنے حاضرین، سامعین، ناظرین اور قارئین کو بھی عادی بنا چکا ہے۔ کون ہے جو ان ابلاغی اداروں کے کرتا دھرتاؤں سے یہ پوچھے کہ بلبل نے کیا کہا، پھول نے کیا سنا اور بادِ صبا نے کیا کیا:

اکنوں کرا دماغ کہ پرسد ز باغباں

بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صباچہ کرد؟

آپ نے شائد اہلِ مغرب کے سیاستدانوں اور عسکری قائدین میں ایک اور بات بھی نوٹ کی ہو گی۔ جس خبر کو وہ چھپانا چاہتے ہیں، اس کا ذکر ہی نہیں کرتے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔۔۔ اصل خبر کے علاوہ دوسری ہزاروں باتیں اور خبریں پھیلانا اور گلوبل میڈیا کے ذریعے ساری دنیا میں عام کر دینا ان کا ایک ایسا وتیرہ بن چکا ہے جس نے رفتہ رفتہ ایک ’’آزمودہ فن‘‘ کا مقام حاصل کر لیا ہے۔ وہ لوگ میڈیا پر کچھ اور بریک کر رہے ہوتے ہیں اور اندر خانے کچھ اور طرح کی کچھڑی پک رہی ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی اس قسم کی ’’فنکاریوں‘‘ کو بھی طشت ازبام کرنے کے لئے بھی کوئی محکمہ یا ادارہ قائم کریں۔ لیکن ایسی گزارشات اور خیالات کو کوئی پڑھے بھی تو بات بنے۔

اور اگر پڑھے تو سوچے بھی کہ ان پر حکومتی سطح پر کوئی عمل کرنا یا کروانا بھی ہے یا نہیں۔۔۔ سوچتا ہوں کہ ہم جیسے کالم نگاروں کا کام اب یہ رہ گیا ہے کہ اپنے دل کی بھڑاس نکالتے رہیں، کبھی تو کسی کو اس کا مداوا کرنے کی توفیق ہو گی۔۔۔ چلئے زیادہ گرفتہ خاطر نہ ہوں۔ایک رجائی نوٹ پر اس تحریر کو ختم کرتے ہیں۔۔۔ ایک پرانی فلم (شرابی) میں محمد رفیع کا یہ گیت میری نسل کے بزرگوں کو تو یاد ہو گا، اسی کو گنگنا لیتے ہیں:

کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی تو آئے گا

اپنا مجھے بنائے گا، دل میں مجھے بسائے گا

کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی تو آئے گا

مزید : رائے /کالم