ملکی ترقی کے لئے چینی تجربات سے استفادہ کرنا ہوگا‘احمدحسن

ملکی ترقی کے لئے چینی تجربات سے استفادہ کرنا ہوگا‘احمدحسن

فیصل آباد (بیورورپورٹ) ملک میں اس وقت 85فیصد ورکر غیر ہنر مند ہیں جبکہ آئندہ تین سالوں میں ہمیں اپنی ملکی اور برآمدی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 80فیصد ہنر مند افرادی قوت درکار ہو گی۔ یہ بات ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور سی پیک بارے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین انجینئر احمد حسن نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ چوتھے صنعتی انقلاب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے چین تیزی سے مصنوعی ذہانت اور روبوٹک پر کام کر رہا ہے۔ جبکہ ہمیں بھی چینی تجربے سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کام کرنے والے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے تمام اداروں کے بارے میں مصدقہ حقائق اور معلومات کو یکجا کیا جائے۔ اسی طرح تربیتی اداروں کی فہرست بھی مرتب کی جائے تاکہ ان میں صرف صنعتوں کی ضروریات کے مطابق ہی تربیتی پروگرام شروع کئے جا سکیں۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سابق صدر انجینئر محمد سعید شیخ نے غیر مستحکم روپے کی وجہ سے برآمدات پر پڑنے والے منفی اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ اس صورتحال کی وجہ سے ہوم ٹیکسٹائل والے بے حد پریشان ہیں۔ مزید برآں ڈالر کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے جس سے خاص طور پر چھوٹے کاروبار کرنے والے تباہی کے دھانے تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی اور برآمدی خسارے کو پورا کرنے کیلئے ہمیں ہر حال میں برآمدات کو بڑھانا ہو گا کیونکہ صرف بیرونی ترسیلات سے اس خسارے پر قابو پانا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر خرم طارق نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کیلئے ڈالر کے منفی اثرات کو زائل کرنے کیلئے برآمدی اداروں کو فوری طور پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ریلیف دیا جائے ورنہ برآمدات میں ہونے والا معمولی اضافہ دوبارہ تنزلی کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈالر کی وجہ سے برآمدات میں استعمال ہونے والی تمام درآمدی اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اور برآمد کنندگان زیادہ دیر تک اس صورتحال کو برداشت نہیں کر سکتے ۔

اجلاس میں سابق صدر مزمل سلطان اور انجینئر عاصم منیر نے بھی شرکت کی اور موجودہ معاشی صورتحا ل میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔

مزید : کامرس