گندم مکمل طور پر تیارہونے پر کٹائی کی جائے‘ زرعی ماہرین

گندم مکمل طور پر تیارہونے پر کٹائی کی جائے‘ زرعی ماہرین

لاہور (اے پی پی) ماہرین زراعت نے صوبہ بھر کے کاشتکاروں ، کسانوں ،زمیندارو ں کو بارش کے دوران گندم کی کٹائی نہ کرنے ، محکمہ موسمیات کی پیش گوئیاں غور سے سننے ،کٹائی و گہا ئی ، ذخیرہ کرنے میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مشاورت ، مشکل یا پریشانی کے سلسلہ میں فوری طور پر محکمہ زراعت کی فری ہیلپ لائن سے رابطہ کریں تاکہ گندم کی فصل کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچایا جا سکے۔ایک ملاقات کے دوران ماہرین زراعت نے کہا کہ جب تک گندم مکمل طور پر پک کر تیار نہ ہو جائے اس وقت تک اس کی کٹائی شروع نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ گندم کی کٹائی کے دوران موسمی صورتحال سے باخبر رہیں اور اگر بارشوں کا سلسلہ شروع ہو تو فوری طور پر گندم کی کٹائی بند کر دی جائے تاکہ کھیتوں میں پانی جمع ہونے سے کٹی ہوئی گندم کو نقصان پہنچنے کا احتمال نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بارش کا خطرہ ہو تو کٹائی کے بعد چھوٹی بھریاں بنائی جائیں اور کھلواڑے لگاتے وقت سٹوں کا رخ اوپر کی طرف رکھا جائے ۔

ماہرین زراعت نے مزید کہا کہ کھلواڑے لگاتے وقت اونچی جگہوں کا انتخاب کیا جائے اور ان کے ارد گرد بارش کے پانی کے نکاس کیلئے کھالیاں بنائی جائیں تاکہ بارش کا پانی زیادہ دیر وہاں کھڑا رہ کر گندم کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے گندم کی کٹائی ریپر یا کمبائن ہارویسٹر کے ذریعے کی جائے تاکہ فصل زیادہ دیر تک کھیت میں نہ پڑی رہے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو مزید ہدائت کی کہ گندم ذخیرہ کرنے کیلئے صاف اور ہوا دار گودام استعمال کئے جائیں اور گندم کی سٹوریج کے وقت اس میں نمی کا تناسب 10 فیصد سے زائد نہ ہو ۔ا سی طرح گندم کے ذخیرہ کیلئے نئی بوریاں استعمال کی جائیں اور پرانی بوریوں کی صورت میں ان پر مقررہ کرم کش زہروں کا سپرے کر لیا جائے ۔ علاوہ ازیں گوداموں میں موجود کیڑوں کی تلفی کے لئے بھی محکمہ زراعت کے سفارش کردہ زہر کے محلول کا سپرے یقینی بنایا جائے۔

مزید : کامرس