بطور خوراک استعمال ہونیوالا معروف کمپنی کا ڈبے میں موجود دودھ بچوں کی جانیں لینے لگا، انتہائی پریشان کن خبرآگئی

بطور خوراک استعمال ہونیوالا معروف کمپنی کا ڈبے میں موجود دودھ بچوں کی جانیں ...
بطور خوراک استعمال ہونیوالا معروف کمپنی کا ڈبے میں موجود دودھ بچوں کی جانیں لینے لگا، انتہائی پریشان کن خبرآگئی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں لیکن پھر بھی خوراک کے طورپر چھوٹے بچوں کو ڈبے کا دودھ استعمال کرایا جاتاہے ، ایسے ہی ایک فیملی نے معروف کمپنی  کا تیار کردہ  دودھ    اپنی ایک ماہ کی بچی کو استعمال کرایا تو اس کی جان چلی گئی اور کئی ماہ سے کمپنی داد رسی کی بجائے اس سارے معاملے کو دبانے کے درپے ہے ۔

بول نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بچی کے والد عثمان نے بتایا کہ ’میری بیوی ٹھیک نہیں تھی تو ڈاکٹر کی تجویز پر دودھ کا ڈبہ لیا اور بچی کو پلادیا،  اس سے پہلےیہ دودھ کبھی بچوں کو نہیں دیا، جیسے ہی یہ دودھ پلایاتو  بچی کی طبیعت خراب ہوگئی،  میں نے سوچا کہ شاید یہ موسم کی وجہ سے ہے، اگلے دن پھر دوبارہ تھوڑا سا پلایا تو ڈوز زیادہ ہوگئی اور اس کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ اس کے بعد گھر کے قریب ہی  لاہور جنرل ہسپتال میں شفٹ کیا علاج چلتا رہا، لیکن بچی بچ نہ سکی۔ میرے لئے یہ بہت مشکل وقت تھا۔ بچی کو اگلے دن دفنانے کے بعد کچھ مہمان آئے ہوئے تھے تو ان میں سے ایک بچہ تھا ،انہوں نے پوچھا  کہ یہ دودھ ہم استعمال کرسکتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ ہمارے کسی کام کا نہیں، ہماری بچی اس دنیا میں ہی نہیں،  آپ پلادیں اپنے بیٹے کو۔ اس بچے نے پیا تو اس کی کنڈیشن بھی میری بیٹی کی طرح ہوگئی ،  تب میرے ذہن میں بات چلی کہ شاید یہ دودھ کا مسئلہ ہے۔ ایک طرف میں سوچ رہا تھا کہ   بڑی کمپنی ہے ، بڑے اچھے ڈاکٹرز لیول کے بندے ہیں مگر مائنڈ میں ایک ڈاﺅٹ تھا۔ آصف صاحب سے ذکر کیا، آصف صاحب نے پانی میں پلا کر پیا، ان کی 45 سال عمر ہے لیکن ان کو گلے میں خراش اور سانس کی پرابلم بھی ہونا شروع ہوگئی، اس کے بعد ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوئے تو  میں نے کمپنی کو  کال کردی، کہ آپ کے دودھ سے مجھے یہ  شکایت ہے،مجھے بتائیں یہ کیوں ہوا۔

پھر کسی ہائیر ڈیپارٹمنٹ  سے  فرحانہ سلطان صاحبہ نے جواباً کال کی اور کہا کہ آپ ہمیں وقت دیں، ملناچاہتے ہیں، ہم تحقیق  کریں گے ۔ میں نے ان کو موقع دیا ، مجھے لگا کہ وہ میرے ہمدرد ہیں  مگر انہیں دکھ نہیں تھا، بس وہ  اپنی کمپنی کی بدنامی سے بچنے کے لیے   میرے پاس آئے کہ تاکہ میں کسی کے سامنے کہہ نہ سکوں کہ ان کے دودھ سے ایسا ہوا۔ جب وہ میرے پاس آئے میری بیوی سے اور  مجھ سے ملے اور اظہار افسوس کیا  لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ان کا سب سے پہلا مطالبہ یہی تھا کہ ہمیں  یہ دودھ کا ڈبہ دے دیں، ہم انویسٹی گیٹ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ میں دودھ کا ڈبہ نہیں دے سکتا ، سیمپل لے سکتے ہیں۔ انہوں نے سیمپل لیا ، بیچ نمبر وغیرہ  لیا اور چلتے بنے۔ اور یقین دلایا کہ تین دن کے اندر اس کی انویسٹی گیٹ کرکے رپورٹ دیں گے۔ تین دن کے بعد کال آتی ہے کہ ہمیں تھوڑا اور ٹائم دیں ، ایسے کرتے کرتے 9 دن گزرگئے۔ ان 9دنوں کے اندر انہوں نے اس سیریل کا سارا سٹاک مارکیٹ سے اٹھوایا ، اس کو لیبارٹری سے ٹیسٹ کروایا۔ اور 13 تاریخ کو ان کی کال آئی کہ جب انہوں نے فائنل رپورٹ لے کر ملنے آنا تھا، انہوں نے کہا کہ جناب یہ دودھ ہمارا نہیں، آپ کا جو دل کرتا ہے وہ کریں۔ میں مجبور تھا، ایک چیز کا پتہ نہیں تھا۔ میں نے طبعی موت سمجھ کر بچی کو دفنادیا۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ بچی اس دودھ سے فوت ہوئی ہے تو میں پوسٹ مارٹم کروالیتا مگر یہ ٹائم میرے لئے بہت مشکل تھا کہ میری ایک ماہ کی بچی جسے میں نے دفنایا اور پھر دو تین مہینے کے بعد قبر کشائی کی ، بڑے مشکل حالات سے گزرا ہوں، جب میں کورٹ گیا تو مجھ پر کافی الزام لگے کہ میں بیٹی کے نام پر  پیسا کمانا چاہ رہا ہوں وغیرہ وغیرہ  مگر میں نے ہمت نہیں ہاری‘‘۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

ٹی وی چینل کے مطابق اب کمپنی بات کو دبانے کے لیے اثرو رسوخ استعمال کررہی ہے جبکہ پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کی ہلاکت دودھ پینے کی وجہ سے ہوئی ہے ،  ایک طرف دودھ کو اپنی کمپنی کی پراڈکٹ ماننے سے بھی انکاری ہے تو دوسری طرف عدالت میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں، شہری کو کمپنی کیخلاف مقدمہ درج کروانے میں بھی 11 ماہ لگ گئے ۔ دوسری طرف جب ڈیلی پاکستان نے ماہرین سے رابطہ کیا تو بتایاگیا کہ کمپنیوں کی مناپلی اور ایسے حربے اپنائے جانا کوئی نئی بات نہیں تاہم  یہ بھی لازمی نہیں کہ دودھ خراب ہو، ممکن ہے کہ انہیں کسی دکاندار نے زائدالمعیاد ڈبہ بیچ دیا ہو، جب بھی ایسی چیز خریدیں تو اس پر ایکسپائری ڈیٹ ضرور چیک کرلیں۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس