کیا کرونا ہمارے لئے نوید صبح ثابت ہوگا

کیا کرونا ہمارے لئے نوید صبح ثابت ہوگا
کیا کرونا ہمارے لئے نوید صبح ثابت ہوگا

  

آج جب میں ضروری امور کی انجام دہی کے بعد ہسپتال سے گھر آیا تو مجھے گھر میں داخل ہوتے ہی ایک نیا منظر دیکھنے کو ملا کہ میری صاحبزادی کھانا پکانے میں اپنی والدہ کی مدد کررہی تھی۔ جس سے مجھے ایک گونہ مسرت حاصل ہوئی کہ یہ منظر میں پہلے نہیں دیکھ سکا کہ بچے صبح صبح اپنے اپنے تعلیمی اداروں کو چلے جاتے ہیں اور ہم اپنے دفتروں کو۔ اور جب ہم رات کوتھکے ماندے گھر واپس آتے ہیں تو اس وقت یا تو بچے سو چکے ہوتے یا پھر اپنے ہوم ورک میں مصرو ف ہوتے ہیں اور جب میں شام کو ایک کتاب کا مطالعہ کررہا تھا تو میرے بیٹے نے آکر مجھ سے علامہ محمد ا قبالؒ کے ایک شعر کے معنی و مفہوم کے علاوہ اس کی تشریح پوچھی۔ یہ آج کے دن کی میری دوسری خوشی تھی اور مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہم تقاضائے غم روزگار کی تکمیل کے کٹھن مراحل طے کرنے میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ ہمیں ان عام مگر اہم ترین باتوں کا احساس ہی نہیں رہتا اور ہم بچوں کو وقت نہیں دے پاتے۔ اس کی انہیں اشد ضروت ہوتی ہے کہ اولاد کی تربیت و پرورش میں والدین کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملا جو کرونا کی وباء سے شہر میں لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے میسر آیا اور میں نے تہیہ کر لیا کہ میں آئندہ اپنے ٹائم ٹیبل میں بچوں کے لئے بھی وقت نکالوں گا۔ کرونا کی وجہ سے جہاں سڑکیں ویران ہوئی ہیں تو گھر آباد ہوگئے ہیں۔ اس وبا سے صاحبان ہوش وخرد کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر عروج کا زوال اور ہر زوال کا عروج لازم ہے۔ ہمیشہ بُرے وقت کے بعد اچھا وقت بھی آتا ہے اور مشکل کے بعد آسانی بہ شرطیکہ آپ کے اندر انفرادی یا اجتماعی طور پر اس وقت کا مقابلہ کرنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کی خواہش اور صلاحیت موجود ہو۔

اگر ماضی بعید پر نظر دوڑائیں تو 6اور 9اگست 1945 میں جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے جس میں لاکھوں آدمی لقمہ اجل بنے۔ جاپان تباہ ہو کر رہ گیا مگر اس جاپان نے اس تباہی و بربادی سے بہت کچھ سیکھا اور آج 75سال بعد اسی جاپان نے ترقی کی اعلی منازل طے کیں اور آج وہ دنیا کے امیر اور ترقیاتی ممالک کی صف میں نمایاں نظر آتا ہے اور اگر حال کا جائزہ لیں تو چین کے صوبہ ہیوبے کے درالحکومت ووہان میں کرونا کا پہلا کیس 17نومبر 2019 میں سامنے آیا اور گیارہ ملین کی آبادی کے اس شہرمیں 2500افراد اس وباء سے جان کی بازی ہار گئے مگر چین نے ہمت اور استقامت سے اس کٹھن وقت کا پامردی سے مقابلہ کیا اور ووہان کو لاک ڈاؤن کردیا اور ضروری احتیاط اور اقدامات سے کرونا کی وباء پر کنٹرول حاصل کر لیا اورگزشتہ بدھ 8اپریل2020 کو اس شہر کو کھول دیا گیا۔

چین نے اس وباء کے خلاف نعرہ لگایا کہ ''فیصلہ کن جنگ فیصلہ کن جیت'' اور وہ جیت گئے۔ چین وہ ملک تھا جس کی آبادی کی اکثریت کو افیون کے نشے کی لت تھی اور ہم سے تقریبا دو سال بعد یکم اکتوبر 1949 کو آزادی حاصل کرنے اور دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا یہ ملک آج بلا خوف و تردید دنیا کی معاشی سپر پاور بن چکا ہے۔ کرونا ایک وباء ضرور ہے۔ اللہ تعالی جلد ہمیں اس سے چھٹکارا عطا فرمائے آمین۔ مگر سیکھنے والوں کے لئے اس نے بڑی کہانیاں اور نشانیاں چھوڑی ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، یورپ اور مغربی معاشرے میں جہاں ا سلام فوبیا ایک وباء کی طرح پھیل چکا تھا۔ آج وہاں سینکڑوں سال سے بند مساجد میں اذانوں کی آواز گونج رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتا ہے کہ اگر ماسک کم پڑجائیں اور میسر نہ ہوں تو حجاب اسلامی استعمال کریں اور اس طرح غیر اسلامی ملکوں اور معاشروں میں اللہ رب العزت کی قدرت اور اسلام کی حقانیت تسلیم ہورہی ہے۔ جہاں تک وباؤ ں کا تعلق ہے یہ آتی اور جاتی رہیں گی ان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ دستیاب شواہد کے مطابق اس کی تاریخ پانچ ہزار سال قبل از مسیح سے شروع ہوتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بھی چین سے شروع ہوئی جس میں لاتعداد اموات ہوئیں۔ کرونا سے پہلے بیس وباؤں کی تاریخ ملتی ہے اور کرونا اب تک کی آخری اور 21ویں وباء ہے۔یہ بھی چین سے شروع ہوئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر وبا سے اس عہد کے انسان نے کئی سبق حاصل کئے اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے اور رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔ جہاں تک پاکستان میں اس وبا ء کا تعلق ہے تو اس کے خطرناک ہونے کے باوجود کئی مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں جن سے باشعور پاکستانیوں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور مزید سیکھنے کی ضرورت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

لاک ڈاؤن کی بدولت والدین اور بچوں کو ایک دوسرے سے مل بیٹھنے کے لیے خاصا وقت میسر آیا ہے۔ جس کے باعث گھریلو امور کے علاوہ بچوں کی تعلیم اور تعلیمی مسائل کو سمجھنے کا موقع ملا۔جس سے ان امور میں بہتری آئی اور جو گھریلو روایات بتدریج عنقا ہوتی جارہی تھیں وہ بحال ہونا شروع ہوگئیں اور گھریلو مسائل پر مشترکہ اور مثبت سوچ کاادراک بھی ہوا۔ اور اسے تقویت بھی ملی۔کرونا کے حوالے سے ماہرین کی طرف سے جو احتیاطی تدابیربتائی گئیں جن پر ہر آدمی عمل بھی کررہا ہے۔ نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کی اکثریت ان احتیاطی تدابیر کو عادت کے طور پر مستقل اپنا لے گی جو معاشرتی اور طبی طور پر سود مند ہوگا۔ جس سے شہریوں میں شعور پیدا ہوگا اور معاشرتی اقدار میں خاطر خواہ بہتری آئے گی جس کے باعث لوگ انتخابات میں صحیح نمائندے منتخب کر سکیں گے جو ملک کے وسیع تر مفاد میں ہوگا۔ تعلیمی اداروں کے بند ہونے کے باعث متعدد اداروں نے Virtualکلاسوں (ذاتی حیثیت میں)کا اجرا شروع کردیا ہے تاکہ طلبا کا تعلیمی حرج نہ ہو اور انہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے کلاسیں لینا شروع کردی ہیں اور طلبا گھروں میں بیٹھے تعلیم حاصل کررہے ہیں،جس کے باعث انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اہمیت اور اس کا رحجان بڑھ رہا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے کہ اس سے علوم جدید سے آشنائی میں اضافہ ہوگا۔ جس سے ملکی ترقی کی راہیں آسان اور خوشگوار راہوں پر گامزن ہوں گی اور وطن عزیز کے لوگ ہجوم سے قوم بن جائیں گے۔

اس وباء سے بڑی بڑی گاڑی والوں اور عالیشان گھروں میں رہنے والوں کے دلوں میں بھی سوئی ہوئی انسانیت جاگ اٹھی ہے اور وہ بھی غریبوں میں راشن تقسیم کررہے ہیں۔ ضرورت مندوں کی مالی امداد کررہے ہیں جو ملک میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ ایک اور تبدیلی جس کی ملک و قوم کو اشد ضرورت ہے اور وہ ہے سیاستدانوں کا طبقہ جس میں تبدیلی سے پاکستان ترقی و خوشحالی کی اعلیٰ منازل سرعت کے ساتھ طے کرے گا۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے سیاستدان اب بھی ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر بیان بازی سے باز نہیں آرہے۔ یہ معمول کے حالات نہیں ہیں یہ غیر معمولی صورت حال ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اس وباء کے خاتمہ تک متحد ہوکر عوامی بھلائی کو مد نظر رکھتے ہوئے کرونا وائرس کے خلاف اکٹھے جنگ لڑیں اور اس پر مکمل کنٹرول تک سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال دیں۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک کرونا کے سامنے بے بس ہیں اور ہم ایک ترقی پذیر ملک ہیں اور ہمارے وسائل محدود جبکہ مسائل لا محدود ہیں۔

اپوزیشن کا کردار حکومت پر تنقید کرکے اسے درست اقدام اٹھانے کے لیے مجبور کرنا ہوتا ہے۔ کرونا کا معاملہ صرف حکومت کا ہی نہیں، اس سے براہ راست عوام کا تعلق ہے۔ یہ حکومت ہویا اپوزیشن دونوں عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کے دعویدار ہوتے ہیں۔ ہم ہر دو سے یہ کہیں گے کہ وہ سیاسی اور ذاتی مفادات کو تج کر ملک و قوم کے لئے متحد ہوکر اس موذی وبا کے خلاف کام کریں تو یقینا یہ ہمارے لیے نوید صبح خوشگوار ہوگی۔ یہ آزمائش اور ابتلاء کا وقت ہے جو بھی سیاستدان وہ حکومت سے تعلق رکھتا ہو یا اپوزیشن سے اگر اس مشکل گھڑی میں عوام کا ساتھ دے گا تو اس کے ووٹ بینک میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی عوامی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوگا یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ مشکل میں ساتھ دینے والے کو کوئی نہیں بھولتا اور ہمارے عوام باشعور ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ اس مشکل وقت میں کون ان کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ اسی کا ساتھ دیں گے جو اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ دے گا۔

مزید :

رائے -کالم -