پاکستانی معیشت پر کرونا وائرس کے اثرات

پاکستانی معیشت پر کرونا وائرس کے اثرات

  

چینی شہر ووہان سے پھیلنے والے بظاہر معمولی سے وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ وہ تمام لوگ جو اس وباء کے حوالے سے کسی غلط یا خوش فہمی کا شکار تھے آج صدمے سے دوچار ہیں۔ دنیا تھم چکی ہے۔ کورونا وائرس(کوویڈ 19)آج ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جو کرہءِ ارض پر ہر کسی کو کسی نہ کسی شکل میں متاثر کیے ہوئے ہے۔لیکن چین نے پانچ ماہ کے مختصر عرصہ میں اس وائرس پر قابو پا کر دنیا کو ورطہءِ حیرت میں ڈال دیا۔ جنوبی کوریا اور سنگاپوربھی اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کا سدِ باب کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں لیکن اٹلی، فرانس، اسپین اور امریکہ جیسے دوسرے بہت سے ممالک اس حوالے سے خوش قسمت ثابت نہیں ہو پائے۔ یہ وباء دنیا کے لیے دوسری جنگ عظیم سے زیادہ تباہ کن ہے۔ ترقی یافتہ قومیں اس بیماری کا واضح طور پر سامنا کررہی ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک ابھی اس مرض کی تباہ کاریوں کے نتائج کھل کر سامنے نہ آ پانے کے باعث ابھی ان حالات کا سامنا کرنے سے محفوظ ہیں۔ پاکستان اس وبا کے دہانے پر معیشت کی کمزور سی رسی کے سہارے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شاید آئندہ سال ملک کو سب سے مشکل چیلنج کا سامنا کرنا پڑے جس میں حوصلہ، قابلیت اور نظم و ضبط کی ضرورت ہوگی۔تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو خاکم بدہن اگر ہم ناکام ہوگئے تو، ہمارے خواب تاریکیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ملیں گے۔

اس معاملے میں تجزیہ کرتے ہوئے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تاحال اس وائرس کا کوئی علاج دستیاب نہیں ہے۔ یہ انتہائی متعدی مرض ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ کورونا مریض کے چھونے والی سطحوں پر رہ جاتا ہے۔ آج تک1.4 ملین سے زیادہ انسان متاثر ہوئے ہیں اور دنیا بھر میں 95 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ ابتدائی طور پرپاکستان میں ایران سے آنے والے زائرین کے ذریعے یہ وائرس پھیلا اس کے بعد مشرق وسطیٰ اور یورپ سے تارکین وطن کے پاکستان آنے سے اس مرض کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ پاکستان میں اب تک 4 ہزار سے زائد کیسز ہیں اور پانچ درجن سے زائد اموات ہو چکی ہیں جن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس کے پھیلاؤ کا صرف ابتدائی دور ہے اس انفیکشن کا پورا دھچکا ابھی تک محسوس ہونا باقی ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کا واحد راستہ معاشرتی دوری اور احتیاط ہے شہروں اور دیہاتوں میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کرنے سے مطلونہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا توانفیکشن کے بڑے پیمانے پرپھیلنے کا خطرہ ہے جو صحت کے انفراسٹرکچر کو بُری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرانسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے۔ دوسری طرف لاک ڈاون نے ملکی معیشت کا دم گھوٹ کے رکھ دیا ہے۔ معاشی مشکلات جن کا سامنا ہماری قوم پہلے سے ہی کر رہی تھی، اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ معاشرے کے غریب ترین طبقات کو دو وقت کی روٹی کا حصول بھی جوئے شِیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ بیک وقت معاشی مشکلات پر قابو پانا اور وائرس کے تدارک کے لیے کوششیں کرنا ایک مشکل ٹاسک ہے۔ کوویڈ 19 سے معیشت پر پڑے منفی اثرات کے پہلوؤں کو مناسب حکمتِ عملی سے کم نقصان دہ بنایا جا سکتا ہے۔

کوویڈ 19 سے مالیاتی نظام کے مضمرات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا اثربین الاقوامی اور بیرونی ہے۔ کورونا وائرس نے عالمی سطح پر درآمدات و برآمدات کی نقل و حرکت اور پیداوار میں شدید خلل ڈالاہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان اپنے آرڈرز کے مطابق کاروبار کرنے سے قاصر ہیں اور زیادہ ترآرڈرز میں یورپ، امریکہ اور بیرونی منڈیوں کے کاروبار بند ہونے کی وجہ سے پچھلی ادائیگیوں میں بھی تاخیر کا سامنا کر رہے ہیں۔ سامان اور کارگو کی نقل و حرکت بھی مسدود ہے جس کی وجہ سے کاروبار کے بہاؤ کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ لاک ڈاؤن نے دنیا کے ہر بڑے شہر کو بند کردیا ہے۔ لوگ دفاتر نہیں آرہے حکومتوں اور کمپنیوں نے گھر وں سے کام کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

یہ ماڈل آئی ٹی اور سروسز مہیا کرنے والی کمپنیوں کے لیے انتہائی موزوں ثابت ہو رہا ہے لیکن اس کے باوجود مجموعی تجارتی سرگرمیوں کو پہنچنے والے نقصان کا اس سے ازالہ ہونا ممکن نہیں۔ پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں نجی کمپنیاں ہیں جو اپنا کاروبار کامیابی کے ساتھ چلانے کے لئے درآمدات پر بھاری انحصار کرتی ہیں۔ تجارتی درآمد کنندگان تاخیر کا شکار ہوں گے یا ترسیلی چین کا سلسلہ بند ہوجائے گا جبکہ صنعتی درآمد کنندگان کو خام مال کی عدم فراہمی کی وجہ سے پیداوار کو روکنا پڑے گا۔ ابتدائی مدت کے بعد محصولات میں کمی کے نتیجے میں تنخواہوں میں کمی ہوگی اور آخر کار بہت سے لوگ بے روزگاری کا منہ بھی دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔ پی آئی ڈی ای (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس) کے مطابق لاکھوں افرادان حالات میں ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں خاص طور پر نیم ہنر مند اور روزانہ اجرت کمانے والوں کوشدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔ کورونا کی وجہ سے سالانہ جی ڈی پی کے تقریباً 2.4فیصد میں کمی کا خدشہ ہے جس سے ملک میں کساد بازاری میں اضافہ ہونے کے خدشات ہیں۔

اس کا دوسرا پہلو داخلی ہے اسکولوں، دفاتر، فیکٹریوں اور بازاروں کی بندش سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار متاثر ہوں گے۔ بڑے پیمانے پر دیوالیہ پن کا امکان ہے۔ درمیانی اور نچلی آمدنی والے طبقات دو وقت کی روٹی اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لئے خاطر خواہ آمدنی حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں ان حالات میں ممکن ہے انہیں مناسب ذرائع آمدن میسر نہ آسکیں جس کے نتیجے میں افراط زر، بے روزگاری اور معیشت کو شدید بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس منظرنامے کا ادراک کیا اور پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن پر سخت عمل درآمد نہ کرنے پر کافی تنقید کی ہے۔ ان کے الفاظ میں ہمیں بیک وقت کورونا وائرس اور معاشرے کے پِسے ہوئے طبقات پر اس کے معاشی اثرات کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

آنے والے طوفان سے نمٹنے کے لئے حکومت پاکستان نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ خیال یہ ہے کہ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہاتی زندگی اور زراعت پر بھی اس کے معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ تعمیراتی صنعت کے لیے خطیر سرمایہ سے مراعات دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ سرمایہ کاری کے لئے ذرائع آمدنی سے متعلق ٹیکس چھوٹ اور جانچ پڑتا ل نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم روزانہ مزدوری کرنے والے مزدوروں کو شامل کرنے کے لئے جامع منصوبہ شروع کرے گی۔ یہ قدم معیشت کے استحکام اور بے روزگاری کے اثرات زائل کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ اسی طرح غریب ترین خاندانوں میں نقد رقم کی ترسیل کے سلسلے میں امدادی سرگرمیاں تیز کی جارہی ہیں۔

تقریبا 10 ملین خاندانوں کی مالی امداد کی جائے گی جو براہ راست وائرس اور لاک ڈاؤن کی زد میں آچکے ہیں۔ وزیر اعظم نے غریب خاندانوں کو خوراک اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے بطور رضا کار ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ عطیات کے لئے ایک قومی امدادی فنڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ چین کی حکومت مالی اور تکنیکی معاملات میں مدد کرنے کے لئے مصروف عمل ہے۔ پاکستان کے 500 اسپتالوں میں 500 وینٹی لیٹر پہنچائے جاچکے ہیں اور مزید کام جاری ہے۔ ایکسپو سینٹرز جیسی جگہوں کو اضافی سہولیات دے کر کورونا مریضوں کے لئے قرنطین مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ سیکشن 245 کے تحت فوج کو کورونا کے خلاف جنگ میں حصہ لینے اور پورے پاکستان میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کے لئے کہا گیا ہے۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس سے بچنے کی حکمتِ عملی بنانے کے لئے ایک قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر تشکیل دیا جا چکاہے۔ یہ سیلاب سے بچنے کے لیے دیوار بنانے کے مترادف ہے۔امید رکھی جا سکتی ہے کہ اس مرض کے اثرات سے بچاؤ کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے جائیں گے۔

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ صدقہ دینے اورکم عمر افراد کی آبادی کے حامل ملکوں میں شامل ہے۔پاکستان اور اس کی معیشت کو ان دونوں معاونین کا بر محل استعمال کرتے ہوئے اس مشکل سے نکلنے کے لیے کار آمد بنانا ہو گا۔ عالمی چیلنج کے اس وقت کے دوران ہماری زندگیاں اور ہماری معاش خطرے میں ہے۔شایدیہ اب تک کا سب سے مشکل چیلنج ہے۔ ہر ایک کو اس آزمائش سے ایک دوسرے کو بچانے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بین الاقوامی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک پاکستانی گارڈ کا کہنا تھا کہ”ہم دولت مند نہیں ہیں لیکن ہمارے دل بہت بڑے ہیں ہم اسی کے ساتھ کورونا وائرس کو شکست دے دیں گے“۔

مزید :

رائے -کالم -