دو منظر اور حکمت عملی 

دو منظر اور حکمت عملی 
دو منظر اور حکمت عملی 

  

یہ چونگی امر سدھو ہے پگڑیاں باندھے نورانی چہروں والے ایک ہاتھ میں تسبیح دوسرے میں ڈنڈے تھامے پوری سڑک پر قبضہ کیے ہوئے ہیں اچانک ایک پگڑی والا نعرہ لگاتا ہے اور پھر سبھی پگڑیوں والے جلالی کیفیت میں کسی گاڑی رکشے اور چنگ چی پر حملہ کر دیتے ہیں ذرا سی مزاحمت پر کسی بھی شخص پر پل پڑتے ہیں جب تک وہ لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ نہیں لگاتا اس کی کمر پر ڈنڈے برستے رہتے ہیں ایک پگڑی والا ڈنڈے برساتا ہے دوسرے پگڑی والے تسبیح پھیرتے ہوئے حال کی کیفیت میں نجانے کون سی روحانی دنیا میں پہنچے دکھائی دیتے ہیں عینی شاہد کے طور پر بتا رہا ہوں ان پگڑیوں والوں کے درمیان سے ایک تھکا ماندہ گرد آلو چہرے والا ایک پولیس کا سپاہی گزر رہا ہے جسے پکڑ لیا گیا اور پھر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وردی اتارو اور لبیک لبیک کے نعرے لگاؤ پولیس والا ڈنڈے اور تھپڑ کھاتے ہوئے پوچھ رہا ہے ”مجھے یہ بتاو کپڑے اتار کے لبیک لبیک کے نعرے کون لگاتا ہے“

اس بھیڑ میں سے ایک شخص سامنے آتا ہے جو علاقے کا ایک تاجر ہے کافی بحث کے بعد یہ نورانی چہرے والوں کے ہاتھوں  پھنسے اس گرد آلود چہرے والے پولیس اہلکار کو مارکیٹ کی طرف لے جا کے ایک کمرے میں اس کی حفاظت کے لیے بند کر دیتا ہے مجھے نہیں معلوم وہ پولیس والا کب اور کیسے گھر پہنچا ہوگا 

دوسرے منظر کا بھی میں عینی شاہد ہوں ایک معمول کے کام کے سلسلے میں میں علامہ اقبال ٹاؤن کی طرف جا رہا ہوں جہاں لاہور سے باہر کے ایک ضلع سے آئے کچھ لوگوں سے ملنا ہے گھر سے نکلتے ہی ایسے راستوں سے نکلنا پڑا جو میں پہلے نہیں جانتا تھا البتہ جگہ جگہ شناخت کا سلسلہ بہت دلچسپ تھا پگڑی والوں کو کلمہ اور پولیس والوں کو گانا سنا کے آگے بڑھنا پڑا تب تقریباً بیس منٹ کا سفر پونے تین گھنٹے میں طے ہوا۔پنجاب پولیس کے سربراہ نے پولیس فورس کو حکم دیا ہے کہ نہتے ہو کر باہر نکلیں سو نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت کم از کم سو سے زائد پولیس والے زخمی اور چند شہید ہو چکے ہیں۔

 مجھے نہیں معلوم موجود صورتِ حال کب تک رہتی ہے مگر یہ بات ہر ایک کو جان لینی چاہیے انتظامیہ کی مہربانی سے یہ جماعت ایک پرتشدد جماعت کے طور پر کسی بھی وقت ریاست کو جام کرنے کا ہنر جان چکی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -