پٹرول بحران:بڑے عہدوں پربیٹھنااورملک کولوٹنا،ایسا نہیں ہونے دینگے، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ، اوگراکے ابتک کے تمام چیئرمین طلب

پٹرول بحران:بڑے عہدوں پربیٹھنااورملک کولوٹنا،ایسا نہیں ہونے دینگے، چیف ...
پٹرول بحران:بڑے عہدوں پربیٹھنااورملک کولوٹنا،ایسا نہیں ہونے دینگے، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ، اوگراکے ابتک کے تمام چیئرمین طلب

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پٹرول کے مصنوعی بحران سے متعلق کیس میں لاہورہائیکورٹ نے اوگراکے اب تک کے تمام چیئرمینوں کوطلب کرلیا اور ڈی جی ایف آئی اے کوبھی آئندہ سماعت پررپورٹ سمیت پیش ہونےکاحکم دیدیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہ بغاوت کے لیول کاجرم ہے،پٹرول نہ ہوتوملک تباہ ہوجاتے ہیں،بڑے بڑے عہدوں پربیٹھنااورملک کولوٹنا،ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں پٹرول کے مصنوعی بحران سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس قاسم خان نے کہاکہ بنیادی طورپرآپ حکومت کی کٹھ پتلی ہیں،اوگرااپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا،ذخیرہ اندوزی کرکے منتھلیاں اوپرتک جاتی ہیں،عدالت نے کہاکہ آج تک اوگرا کے جتنے چیئرمین آئے ہیں سب اس میں شامل ہیں،نوٹس لینے پر 42 کمپنیوں کوتھوڑاتھوڑا جرمانہ کردیاگیا۔چیف جسٹس قاسم خان نے کہاکہ یہ بغاوت کے لیول کاجرم ہے،پٹرول نہ ہوتوملک تباہ ہوجاتے ہیں،عدالت نے کہاکہ بڑے بڑے عہدوں پربیٹھنااورملک کولوٹنا،ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہاکہ قانون ملک کے غریب لوگوں کیلئے بنایاگیا ہے،قانون بڑے لوگوں کوتحفظ دینے کیلئے نہیں،ملک کولوٹ کرکھوکھلاکر کے رکھ دیا۔چیف جسٹس قاسم خان نے کہاکہ بھارت سواارب کی آبادی میں صرف 10 آئل کمپنیاں ہیں،یہاں 36 کمپنیاں موجود،36 پائپ لائن میں تیارہیں، وکیل نے کہاکہ جتنی کمپنیاں ہوں گی اتنامقابلہ ہوگا،اچھی چیزفراہم کی جائےگی،چیف جسٹس قاسم خان نے کہاکہ باقی ساری دنیاپاگل ہے صرف آپ ہی سمجھدار ہیں ، جہاں آپ کیخلاف کارروائی ہوگی وہاں آپ کی سن لیں گے،بڑے بڑے لوگ مافیاکے کیس میں ہی آتے ہیں،ان کمپنیوں نے پاکستان کوتباہ کردیاتھا،کسی بھی کمپنی کے پاس 10 سے 15 دن سے زیادہ ذخیرہ نہیں ہوناچاہیے،عدالت نے اوگراکے اب تک کے تمام چیئرمینوں کوطلب کرلیا اور ڈی جی ایف آئی اے کوبھی آئندہ سماعت پررپورٹ سمیت پیش ہونےکاحکم دیدیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -