نظرثانی درخواستوں پر سماعت: ہم کیس چلاناچاہتے ہیں آپ کہانیاں نہ سنائیں ،سپریم کورٹ

نظرثانی درخواستوں پر سماعت: ہم کیس چلاناچاہتے ہیں آپ کہانیاں نہ سنائیں ...
نظرثانی درخواستوں پر سماعت: ہم کیس چلاناچاہتے ہیں آپ کہانیاں نہ سنائیں ،سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نظرثانی درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ عدالت فیصلے کرتی ہے، لوگوں کو جیل نہیں بھیجتی،ہم کیس چلاناچاہتے ہیں آپ کہانیاں نہ سنائیں ۔

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوزکے مطابق سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواستوں پرجسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ میرے بچے اور اہلیہ میرے زیرکفالت نہیں ،لندن جائیدادیں خریدتے وقت بھی اہلیہ اوربچے زیرکفالت نہیں تھے،میرے کیس میں عدالت نے تفریق سے کام لیا،لندن جائیدادوں کی کل مالیت ایف سکس کے ایک پلاٹ کے برابرنہیں ۔

جسٹس فائزعیسیٰ نے کہاکہ فروغ نسیم روسٹرم پر آکر جھوٹ بولتے رہے ،آپ فروغ نسیم کیخلاف توہین عدالت کا کیس کرسکتے تھے،انہیں جیل بھیج سکتے تھے،میرے سسر کا انتقال ہو گیا اس کی کسی کوفکر نہیں ،سال 2019 میں گرمیوں کی چھٹیاں لیں ،عمران خان کی طرح میری اہلیہ نے جائیدادنہیں چھپائی ،نیازی سروسز والاکیس ایف بی آرکو نہیں بھیجاگیا ،میرے سسر کاآپریشن تھا اسی دوران ہی مجھے تکلیف دی گئی ،چاہے مجھے باہر پھینک دیں یا عزت سے رکھیں لیکن میرا کیس سنا جائے۔

جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ عدالت فیصلے کرتی ہے، لوگوں کو جیل نہیں بھیجتی،ہم کیس چلاناچاہتے ہیں آپ کہانیاں نہ سنائیں ،جسٹس فائزعیسیٰ نے کہاکہ انور منصور ہر روز ٹاک شوز میں آتے ہیں ، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ ٹاک شوز میں کون آتا ہے ہماراسروکار نہیں ،جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ آپ ایف بی آر والے معاملے پر دلائل دیں ،جسٹس فائزعیسیٰ نے کہاکہ ایف بی آر نے آج تک مجھے نوٹس نہیں بھیجا۔سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس کی سماعت پیرتک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -