چوروں ڈاکوؤں کے بھی اصول ہوتے ہیں؟

چوروں ڈاکوؤں کے بھی اصول ہوتے ہیں؟
چوروں ڈاکوؤں کے بھی اصول ہوتے ہیں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ممتاز دانشور،صحافی و کالم نویس جناب شاہد ملک نے اپنی ’وال‘  پر ڈاکوؤں کی لوٹ مار کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے جس کے مطابق ”چوتھائی صدی سے کچھ پہلے لاہور، شیخوپورہ روڈ پر صبح کاذب کے وقت بس روک کر مسافروں کو ترتیب وار لوٹا جا رہا تھا۔ ایک معمر بزرگ کی باری آئی تو مسلح نقاب پوش باقی ساتھیوں کو یہ حکم دیئے بغیر نہ رہ سکا ”اوئے ایہنوں کچھ ناں کہناں، ایہہ چاچا صدیق جے“۔ 
یہ واقعہ پڑھ کر بچپن سے اپنے بڑے بوڑھوں کے منہ سے سننے والے اس محاورے کا مطلب بھی سمجھ آ گیا کہ ”چوروں ڈاکوؤں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں“۔جس سے دل میں اس سنہرے دور کی یادیں بھی تازہ ہو گئیں جب ہر سطح پر ”ادب آداب“ موجود تھا۔موجودہ حالات میں جہاں سیاسی، سماجی اور انفرادی ہر سطح پر ”طوفان بد تمیزی“ ہے وہیں چوروں ڈاکوؤں نے بھی اپنے ”سُنہرے“ اصول ترک کر دیئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی وارداتیوں نے کسی قسم کا احترام رمضان ملحوظ خاطر نہیں رکھا اور تواتر کے ساتھ وارداتوں میں مصروف ہیں۔وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کے مختلف تھانوں کے اعداد و شمارپر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ شہر میں ڈکیتی، چوری اور راہزنی کی وارداتوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہو گیا ہے۔مصدقہ ذرائع اور دستیاب ڈیٹا کے مطابق ماہ مقدس کے پہلے دو عشروں کے دوران سٹریٹ کرائمز کی 827 وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ جس میں سٹریٹ کریمینلز نے 78 شہریوں سے قیمتی گاڑیاں چھینی یا چوری کیں جبکہ پولیس گزشتہ 20 روز میں چوری ہونیوالی ایک بھی گاڑی برآمد نہیں کر سکی۔علاوہ ازیں رحمت اور مغفرت کے پہلے دو عشروں میں 454 موٹر سائیکلز بھی چوری ہوئے یا چھینے گئے جبکہ چوری ہونیوالے موٹر سائیکلوں کی کم سے کم مالیت ایک کروڑ 36 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔ اسی طرح ماہ صیام کے پہلے دو عشروں میں 345 شہریوں سے گن پوائنٹ پر موبائل فون چھینے گئے۔کرائم شیٹ کے مطابق راولپنڈی میں ہر روز سٹریٹ کرائم کی کل 82 وارداتیں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ادھر صوبائی دارالحکومت لاہور بھی رمضان المبارک کے دوران جرائم کے نرغے میں آیا ہوا ہے۔ چور اور ڈاکو ہر قسم کے ادب آداب کو خاطر میں لائے بغیر روزہ داروں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق ماہ صیام کے پہلے عشرے میں 600 سے زائد وارداتوں میں شہریوں، دکانوں اور مکانوں کے ساتھ ساتھ گودام بھی خالی کئے گئے۔ شاہدرہ میں پلاسٹک گودام اور شاد باغ میں موبائل فون شاپ پر ڈکیتی کی گئی۔ ماڈل ٹاؤن میں گھر کی دہلیز پر ڈاکٹر کو لوٹ لیا گیا۔ پہلے عشرے میں ہونیوالی سینکڑوں وارداتوں میں سٹی اور صدر ڈویژن جرائم پیشہ گینگز کا آسان ٹارگٹ رہے۔حالانکہ چند سال پہلے تک فیلڈ رپورٹنگ کے دوران جب اپنے ساتھی کرائم رپورٹرز سے گفت و شنید ہوتی تو وہ ہمیشہ کہتے کے رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی جرائم کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ روزے شروع ہوتے ہی پہلے روزمسجد میں آپ کو ایسا ایسا بندہ بھی نظر آ جاتا تھا جو سارا سال کبھی قریب بھی نہ پھٹکا ہو۔
خیر موجودہ حالات میں یہ بے حسی صرف ڈاکوؤں میں ہی نہیں دیگر طبقات میں بھی بدرجہ اتم دیکھی گئی ہے بلکہ میرا ذاتی خیال ہے کہ ڈاکو تو بے چارے ایسے ہی بد نام ہیں اگر آپ سیاستدانوں اور قومی رہنماؤں کے کرتوت ملاحظہ کریں تو آپ کو چور ڈاکو بہت پیچھے نظر آئیں گے۔اسی بے حسی سے متعلق آج ایک خبر روزنامہ ”پاکستان“ کے صفحہ اوّل کے اپر ہاف میں جلی حروف کے ساتھ تین کالم شائع ہوئی ہے۔جس کی تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے کئے گئے ٹیلی تھون سے حاصل ہونیوالے اربوں روپے جلسے جلوسوں پر خرچ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے تین ٹیلی تھون کئے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سیلاب متاثرین کیلئے ڈونرز نے 15 ارب روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں عمران خان نے اس سلسلے میں اندرون ملک اور بیرون ملک امداد بھی وصول کی۔ اس سلسلے میں پنجاب اور خیر پختونخوا میں صوبائی حکومتوں کے اکاؤنٹس، انصاف ریلیف فاؤنڈیشن امریکہ نے بھی سیلاب متاثرین کیلئے امداد ی چیک وصول کئے۔ تاہم 14 جون 2022ء سے سیلاب متاثرین کے نام پر جو بھی فنڈز اکٹھے کئے گئے اس کی کوئی تفصیل کسی بھی جگہ پیش نہیں کی گئی۔ اربوں روپے کے ان جمع شدہ فنڈز کن متاثرین کو دیئے گئے یا پھر انہیں کس قسم کی فلاحی سرگرمیوں پر خرچ کیا گیا، اس کی بھی کوئی تفصیل کسی جگہ موجود نہیں ہے۔عمران خان نے ثانیہ نشتر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ سیلاب متاثرین کیلئے جمع کی گئی رقم میں سے ایک ارب روپیہ سند ھ کے سیلاب زدگان کو دیں گے تاہم انہیں بھی آج تک کوئی رقم فراہم نہیں کی گئی۔
پس ثابت ہوا کہ بے حسی میں سیاستدانوں نے چوروں اور ڈاکوؤں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ ایک وقت وہ بھی تھا جب کابینہ کے اجلاس کے دوران ملازم نے آکر قائد اعظم سے پوچھا کہ وزرائے صاحبان کو چائے پیش کرنی ہے یا کافی، تو قائد اعظم نے کہا کہ کیوں؟ وزیر اپنے گھروں سے چائے یا کافی پی کر نہیں آئے؟ اگر کسی نے پینی ہے تو وہ گھر جا کر پیئے، قوم کا پیسہ قوم کیلئے ہے، وزیروں کیلئے نہیں۔بہرحال یہ ساری باتیں بھی سنہری دور کی ہیں، آج کل کے اعداد و شمار تو یہی بتا رہے ہیں کہ چوروں ڈاکوؤں کے ساتھ ساتھ  سیاستدانوں، لیڈروں، بیورو کریٹوں، ججوں اور جرنیلوں کے بھی کوئی اصول نہیں رہے۔

مزید :

رائے -کالم -