جدید عسکری تاریخ میں مسلمانوں کا مقام    (2)

      جدید عسکری تاریخ میں مسلمانوں کا مقام    (2)
      جدید عسکری تاریخ میں مسلمانوں کا مقام    (2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 زوکوف کی کہانی اتنی سبق آموز ہے کہ اس کو سن اور پڑھ کر آنکھوں میں قرونِ اولیٰ کے مسلم جرنیلوں کی کہانیاں گردش کرنے لگتی ہیں۔ گزشتہ قسط میں لکھا گیا تھا کہ زوکوف کے بارے میں اگلی قسط پر کچھ تبصرہ کروں گا۔ بعض دوستوں نے فون کیا کہ اگر یہ کہانی اتنی ہی سبق آموز ہے تو اس کو اسی صفحہ میں قسط وار شائع کیا جائے۔ہر عظیم شخصیت کی داستانِ حیات بنی نوع انسان کے لئے ایک عظیم سبق ہے اور جب یہ کہانی خود اس عظیم شخصیت کے قلم سے نکلے تو اس کی صداقت اور اورجنلٹی میں کیا کلام ہو سکتاہے۔

براسی کے انسائیکلوپیڈیا آف ملٹری ہسٹری (سال اشاعت 1994ء) کے مطابق زوکوف یکم دسمبر 1896ء کوکالوگا کے ایک غیر معروف گاؤں سٹرل کوکا (Strelkovka) میں پیدا ہوا۔ پورا نام جارجی کانسٹن ٹین زوکوف تھا لیکن زوکوف نے اپنی خودنوشت میں اپنی تاریخ پیدائش 19نومبر 1896ء لکھی ہے۔ یہ خودنوشت جو روسی زبان میں لکھی گئی اور فروری 1969ء میں پہلی بار ماسکو سے شائع ہوئی سات سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں تقریبا 100صفحات پر مشتمل تصاویر ہیں جو متن کے علاوہ ہیں۔ درجن بھر نقشے بھی ہیں۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ 1971ء میں لندن سے شائع ہوا اور اس کے پبلشر کا نام جوناتھن کیپ تھا۔ یہ ایڈیشن 1980ء کے عشرے کے وسط میں آرمی سنٹرل لائبریری، راولپنڈی میں میری نظر سے گزرا تھا۔ لیکن اس وقت جو ایڈیشن میرے سامنے ہے وہ نئی دہلی سے طبع ہوا ہے جس پر سال اشاعت 1985ء درج ہے۔ اسے اوپندراروڑہ نے ڈیرہ دون سے نٹ راج پبلشرز کے لئے شائع کیا ہے۔ بعد ازاں بھارت میں اس خودنوشت کے کئی اور ایڈیشن بھی نکلے۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ زوکوف نے اس سوانح عمری میں سوویت عسکری افکار و خیالات پر جگہ جگہ بھرپور نقد و نظر کیا ہے۔ مزید برآں سوویت آپریشنل پلاننگ کی جو تفاصیل اس خودنوشت میں ملتی ہیں، وہ بھارتی قارئین کے لئے بالعموم اور بھارتی عسکری قیادت کے لئے بالخصوص اس لئے مشعل راہ بنیں کہ بھارت کا بیشتر اسلحہ اور ساز و سامان جنگ روسی نژاد تھا اور تادمِ تحریر روسی نژاد ہے۔

مارشل زوکوف کی یہ خودنوشت اس لئے بھی لائق توجہ ہے کہ اس نے اپنی تحریر میں کمال درجے کی صداقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، قاری سے کوئی بھی بات نہیں چھپائی۔اپنی ذاتی کمزوریوں کا اعتراف کھلے دل سے کیا ہے۔ سٹالن اور خروشچیف نے اس کو اپنے آمرانہ طرز حکمرانی کارقیب جان کر برسہا برس تک مسند اقتدار سے دوردراز علاقوں میں بھیجے رکھا۔ ان کے بارے میں بھی جب وہ کہیں ذکر کرتا ہے تو اس کا قلم کسی تعصب اور انتقام سے آلودہ نظر نہیں آتا۔ زوکوف نے اس خودنوشت میں صداقت و دیانت کا جو اسلوب اپنایا ہے اس کا اندازہ اس کتاب کے ان پہلے چند افتتاحی پیراگرافوں سے لگایا جا سکتا ہے جو اس نے اپنے والدین کے بارے میں تحریر کئے ہیں …… وہ لکھتا ہے:

”میں 19نومبر 1896ء کو صوبہ کالوگا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں جس کا نام سٹرل کوکا تھا، ایک خستہ حال سی جھونپڑی میں پیدا ہوا۔ یہ گھر جسے جھونپڑی کی بجائے ایک کیبن کہنا زیادہ مناسب ہوگا، صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا جس میں دو کھڑکیاں بھی تھیں۔ یہ ایک نہایت بوسیدہ سا کمرہ تھاجس کا ایک کونہ زمین کے اندر دھنس گیا تھا اور چھت پر گھاس اُگ آئی تھی۔ اس کے باہر جو چار دیواری سی تھی وہ بھی جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی تھی اور اس میں لگی ٹیڑھی میڑھی اینٹوں کے کونے صرف ہاتھ سے چھو کر توڑے جا سکتے تھے“۔

”میرے والدین کو کچھ معلوم نہ تھا کہ یہ کیبن کس نے تعمیر کیا تھا اور کب تعمیر کیا تھا۔ گاؤں کے بڑے بوڑھے کہتے تھے کہ اس کمرے میں کبھی ایک بیوہ رہائش رکھتی تھی جس کا نام اینا زوکووا (Anna Zhokove)تھا۔ اس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ چنانچہ وہ ایک روز کسی یتیم خانے میں گئی اور دو سال کا ایک بچہ وہاں سے اٹھا لائی۔ یہی بچہ بعد میں میرا باپ بنا۔ کسی کو بھی کچھ خبر نہیں کہ میرے اس والدکے والدین کون تھے اور خود میرے والد نے بھی جوان ہو کر یہ جاننے کی کبھی کوشش نہ کی کہ ان کے ماں باپ کون تھے؟ یتیم خانے کے مہتمم کا کہنا تھا کہ کوئی ماں اس بچے کو اس وقت وہاں چھوڑ گئی تھی جب اس کی عمر صرف تین ماہ تھی۔ وہ جاتے ہوئے اپنے لخت جگر کے گلے میں ایک پرچی بھی باندھ گئی تھی جس میں لکھا تھا کہ اس بچے کا نام کانسٹن ٹین (Konstantin) ہے۔ اس کے علاوہ اس پرزۂ کاغذ پر اور کچھ نہیں لکھا ہوا تھا۔ اس غمزدہ ماں نے اپنے بیٹے کو کیوں اس حال میں چھوڑا، اس کے بارے میں صرف قیاس ہی کیا جا سکتا ہے تاہم وجہ کوئی بھی ہو یہ بات واضح تھی کہ وہ کوئی ایسی سنگدل، شقی القلب یا ظالم ماں نہیں تھی جس نے اپنا جرم چھپانے کے لئے یہ ”حرکت“ کی۔ قیاس کہتا ہے کہ شدید غربت کے ہاتھوں تنگ آکر ہی اس نے تین ماہ کے دودھ پیتے بچے کو اپنے سینے سے الگ کیا ہوگا“۔

”جب میرا والد آٹھ سال کا ہوا تو اس کی یہ منہ بولی ماں بھی اسے داغ مفارقت دے گئی۔ اس کی موت کے بعد والد نے ایک دوسرے گاؤں زاود (Zavood)میں ایک چمار کے ہاں ملازمت کر لی۔ بعد میں والد ہمیں بتایا کرتے تھے کہ اس کفش دوز کے ہاں  وہ اس کے گھر کے سارے متفرق کام کاج بھی انجام دیا کرتے تھے۔ گھر کے برتن صاف کرنا اور جھاڑو دینا تک ان کاموں میں شامل تھا۔ مالک کے بچوں کو باہر لے جانا اور کھلانا پلانا بھی ان کے فرائض میں شامل تھا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ جب اس گھر کے کام بہت بڑھتے گئے تو والد کو وہاں سے بھاگ کر ماسکو آنا پڑا۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے ایک جفت ساز کی دکان پر نوکری کر لی…… ان کو اور کچھ آتا جو نہیں تھا……“

حالی نے کیا اچھا کہا تھا:

کمالِ کفش دوزی علمِ افلاطوں سے بہتر ہے

یہ وہ نکتہ ہے سمجھے جس کو مشاّئی نہ اشراقی

اس کے بعد زوکوف آگے چل کر لکھتا ہے:

”مجھے زیادہ تفصیلات کا علم نہیں لیکن جیسا کہ والد نے بتایا 1905ء کے انقلابی اقدامات میں ان کو ماسکو بدر ہونا پڑا۔ انہوں نے مزدوروں کے کسی احتجاجی جلسے میں شرکت کی تھی جس کی پاداش میں حکومت نے ان کو اور ان کے ساتھ بہت سے دوسرے نوجوانوں کو شہر سے نکال دیا تھا۔ اس کے بعد وہ گاؤں گاؤں مارے پھرتے رہے اور لوگوں کے جوتے پالش کرکے یا ان کی مرمت کرکے پیٹ پالتے رہے۔ اسی عالم میں 1921ء میں ان کا انتقال ہو گیا“۔

”میری ماں کا نام استینیا آرٹیومیونا (Ustinia Artyomyevna) تھا۔ وہ بھی ایک انتہائی غریب خاندان کی فرد تھی۔ جب میرے والدین نے شادی کی تو والدہ کی عمر 35برس اور والد کی 50برس تھی۔ دونوں کی یہ دوسری شادی تھی دونوں کے پہلے جیون ساتھی شادی کے چند ماہ بعد فوت ہو گئے تھے“۔

”والدہ بہت صحت مند خاتون تھیں۔ وہ 180 پاؤنڈ (سوادومن) کی گندم کی بوری اٹھا کر بڑی آسانی سے کئی کئی فرلانگ کا فاصلہ طے کرلیتی تھی۔ ان کے والد یعنی میرے نانا بھی بہت قوی ہیکل شخص تھے۔ میں نے لوگوں سے سنا تھا کہ وہ اپنے گھوڑے کے پیٹ کے نیچے کھڑے ہو کر اس کو آسانی سے کندھوں پر اٹھا لیتے اور اس کی دم پکڑ کر ایک جھٹکے سے اسے اپنی پچھلی ٹانگوں پر نیچے زمین پر پٹخ دیا کرتے تھے“۔

”میرا باپ جوتیاں گانٹھتا تھا اور ماں شہر کی غلہ منڈی میں جا کر اناج کی بوریاں ایک دکان سے دوسری دکان تک لاتی لے جاتی تھی۔ لیکن میرے ہی والدین اس کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے تنہا افراد نہ تھے۔ علاقے کے اور بہت سے لوگ مفلسی اور ناداری کی اسی فضا میں سانس لیتے تھے“۔ 

(جاری ہے)

(پہلی قسط گذشتہ پیر کو شائع ہوئی)

مزید :

رائے -کالم -