اسرائیل پر حملہ ، ایران کامیاب ہوا یا ناکام ۔۔؟ عالمی میڈیا نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا

اسرائیل پر حملہ ، ایران کامیاب ہوا یا ناکام ۔۔؟ عالمی میڈیا نے اپنی رائے کا ...
اسرائیل پر حملہ ، ایران کامیاب ہوا یا ناکام ۔۔؟ عالمی میڈیا نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (خصوصی رپورٹ)اسرائیل پر حملہ ، ایران  اپنے مقاصد  حاصل کرنے میں کامیاب ہوا یا ناکام ۔۔؟ اس حوالے سے  عالمی میڈیا پر بحث و مباحثے جاری ہیں ۔ عالمی میڈیا میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا ایران کا اسرائیل پر حملہ ناکام ہو گیا؟ جبکہ ایران کا کہنا ہےکہ اس نے مقاصد حاصل کرلیے ، اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نےحملہ ناکام بناتے ہوئے 99 فیصد ڈرون مار گرائے ہیں، تہران کا دعویٰ ہے کہ اس نے ڈرون سے زیادہ تر اسرائیل کے فوجی اہدافت کو نشانہ بنایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایران کی اسٹرٹیجک سوچ کے بارے میں اسرائیل اور امریکا کی سمجھ کی اجتماعی ناکامی ہے کہ ایران براہ راست جواب نہیں دے گا۔ ایران کے حملے کا پیغام یہ ہے کہ "ایران پر حملہ بند کرو ورنہ حقیقی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا"۔

وال سٹریٹ جرنل نے لکھا اسرائیل اور اسکے اتحادیوں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ساتھ اردن نے 300 سے زیادہ ڈرونز اور بیلسٹک اور کروز میزائلوں میں سے تقریباً سبھی کو روک دیا۔

گارڈین کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملے کو کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقاصد حاصل کرلیے گئے اور آپریشن ختم ہو گیا ۔ایران کے اندر، اس بات کا کوئی سرکاری اعتراف نہیں کیا گیا کہ 99 فیصد ڈرون مار گرائے گئے ۔

نیویارک ٹائمز نےاسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ایران نے 185 ڈرون، 36 کروز میزائل اور 110 سطح سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے ہیں۔ اسرائیل کے اعلیٰ فوجی ترجمان ڈینیئل ہاگری نے کہا کہ ایران کی طرف سے داغے گئے 120 سے زیادہ بیلسٹک میزائلوں میں سے صرف چند ہی اسرائیلی علاقے میں داخل ہوئے، جہاں وہ نیواتیم اسرائیلی فوجی ایئربیس پر گرے اور بنیادی ڈھانچے کو کم سے کم نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرونز میں سے کوئی بھی ملک میں داخل نہیں ہوا۔ درجنوں کو اسرائیلی جنگی طیاروں، ملک کے فضائی دفاعی نظام، اور اسرائیل کے اتحادیوں سے تعلق رکھنے والے طیاروں اور فضائی دفاعی نظاموں نے روک لیا۔اور ایران نے جو 30 سے زیادہ کروز میزائل داغے، ان میں سے کوئی بھی اسرائیلی حدود میں داخل نہیں ہوا، 25 کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے اسرائیل کی حدود سے باہر روکا۔

ایرانی بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے دعویٰ کیا کہ ایران کا حملہ حسابی اور محدود تھا۔تہران میں مقیم ایک پروفیسر محسن عبداللہی نے کہا ایران خطے میں جنگ کو وسعت نہیں دینا چاہتا تھا۔ ایران کے حملے کا پیغام یہ ہے کہ ’’ایران پر حملہ بند کرو ورنہ حقیقی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔

یو این انسٹی ٹیوٹ برائے تخفیف اسلحہ کی تحقیق کے لیے کام کرنے والے ایک ایرانی عبدالرسول ڈیوسلر نے کہا کہ یہ حملہ ایران کی سٹریٹجک سوچ کے بارے میں اسرائیل اور امریکہ کی سمجھ کی اجتماعی ناکامی ہے کہ ایران براہ راست جواب نہیں دے گا، ایرانی قونصل خانے پر حملہ کرنے کی تزویراتی غلطی کا باعث بنا۔

"جنگ " کے مطابق   عالمی میڈیا کے مطابق ایران کے پہلی مرتبہ اپنی سرزمین سے اسرائیل پر براہ راست حملے کو اسرائیل اور اس کے اتحادی ناکامی سے دوچار قرار دے رہے ہیں کہ 99 فیصد ڈرون مار گرائے گئے ۔

ایرانی حکومت نے کہا کہ فوجی آپریشن اب ختم ہوچکا ، اس نے زیادہ تر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جس کا ارادہ اس پر اسرائیلی حملے کا بدلہ تھا۔ چیف آف جنرل سٹاف نے کہایہ کارروائی صرف اسلامی انقلابی گارڈزکی فورسز نے کی ۔ اور اگر صیہونی حکومت ہمارے خلاف کارروائی کرتی ہے، یا تو ہماری سرزمین پر یا شام میں ہمارے مراکز میں، یا کوئی اور ملک کرتا ہے، ہمارا اگلا آپریشن بڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن 10 گنا بڑا ہو سکتا تھا۔باقری نے اصرار کیا کہ صرف فوجی اہداف تھے اور ایران اپنے دفاع میں کام کر رہا تھا۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی چھ ماہ کی خلاف ورزیوں کے مقابلے میں ایران کے اقدامات متناسب اور ذمہ دار تھے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اسرائیل پر ایران کے حملے میں 300 سے زیادہ میزائل اور ڈرون داغے گئے جن میں سے زیادہ تر ایرانی سرزمین سے داغے گئے۔