سرکار۔۔۔کا مطلب اور مقصد

 سرکار۔۔۔کا مطلب اور مقصد
 سرکار۔۔۔کا مطلب اور مقصد

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سرکار ۔۔۔کا لفظ
یہ فارسی زبان سے اردو میں داخل ہوا ہے۔ بلحاظِ جنس مؤنث ہے لیکن بعض مقام پر مذکر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ 
یہ مفرد نہیں بلکہ مرکب ہے۔ سر + کار ۔ قواعد کی رُو سے مرکبِ اضافی ہے لیکن عکِ اضافت سے سر کے " ر " سے علامتِ اضافت(زیر) دور کر دی گئی ہے۔ 
فارسی میں " سر " سے مراد فرماں بردار  مطیع  وغیرہ ہے اور " کار " لاحقہ فاعلی ہے۔ اس طرح سرکار کا لفظی معنی اپنے مطیع یا فرماں بردار کے کام آنے والا۔ 
اس لفظ کے مختلف معانی ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:
1 - خدمت، دربار، حضور، امراء وغیرہ کی سجائی گئی مجلس۔
2 - شاہی عدالت جو فریاد رسی یا فیصلہ کرنے کے لئے قائم کی جاتی ہے۔
3 - حکومت، ریاست، بادشاہی، مملکت، گورنمنٹ، صدر مقام، دارالحکومت۔
4۔ (تعظیم کے طور پر) رئیس، دولت مند شخص۔
5 - بطور کنایہ نبی الکریم ﷺ
6 - (کنایۃً) محبوب ، معشوق۔
7 - (بلحاظِ مذکر کلمہ تعظیمی) آقا   مالک، حضرت  وغیرہ۔
8 - انتظام یا بندوبست کرنے والا، منتظم، نگران، افسر۔
9 - لفظ سرکار کنایہ کے طور پر اولاد، خاندان، مرتبہ اور عزت کے لئے بھی مستعمل ہے۔
10 - حضور، رحمتِ خداوندی اور مشیتِ خداوندی کے لئے بھی مجازً مستعمل ہے۔ 

    ابجد خواں: سمیع اللہ حضروی
انتخاب : سلیم خان

نوٹ : ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -