بھٹو حکومت کے ایک وزیر کو ٹی وی انٹرویو کیلیے تیار کرنا میری ذمہ داری تھی،جیسے ہی ریکارڈنگ شروع ہوئی وہ رکنے کا اشارہ کرکے چلے گئے

بھٹو حکومت کے ایک وزیر کو ٹی وی انٹرویو کیلیے تیار کرنا میری ذمہ داری ...
بھٹو حکومت کے ایک وزیر کو ٹی وی انٹرویو کیلیے تیار کرنا میری ذمہ داری تھی،جیسے ہی ریکارڈنگ شروع ہوئی وہ رکنے کا اشارہ کرکے چلے گئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:73
 ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے اب مجھے بھٹو حکومت کے سر چڑھے وزرا ء سے بھی نبٹنا تھا جو میرے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔  اس سلسلے میں مجھے پہلا سابقہ اپنے ہی وزیر ملک حاکمین خاں سے پڑا۔ وہ ایک معمولی سا انسان تھا لیکن پارٹی سے وفاداری کے صلے میں اس کو وزارت کے عہدے سے نوازا گیا تھا۔ 
ایسے ویسے کیسے کیسے ہو گئے
 کیسے کیسے ایسے ویسے ہو گئے
مجھے اس سے جڑے 2 واقعات یاد آ رہے ہیں۔ ملک حاکمین کو ایک ٹیلیویژن انٹرویو کے لیے تیار کرنا میری ذمہ داری تھی۔ چنانچہ میں نے اسے بتایا سمجھایا کہ کیمرہ کے سامنے کیسے پیش ہونا ہے اور ہاتھ پاؤں اور منہ کو کب اور کیسے ہلانا ہے۔ جیسے ہی کیمرہ نے ریکارڈنگ شروع کی  ملک صاحب نے کیمرہ مین کو رکنے کا اشارہ کرکے دفتر کے ملحقہ اپنے ریٹائرنگ روم میں چلے گئے۔ ہم سب پریشان تھے کہ ان کو ایسی کیا  ہنگامی صورت حال پیش آگئی تھی کہ وہ سب کچھ بیچ میں ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ جلد ہی ہمیں ان کے یوں اٹھ جانے کی وجہ سمجھ میں آگئی، دیکھا تو وہ کمرے میں جا کر اپنے کپڑوں پر خوشبو چھڑک رہے تھے۔ ان کو شاید علم نہیں تھا کہ یہ خوشبو کم از کم ٹیلیویژن کے ذریعے ناظرین تک پہنچنے سے تو رہی۔
 ایسے ہی دوسرے واقعہ میں انھوں نے جہلم میں ایک نئی ہاؤسنگ سکیم کا افتتاح کرنا تھا۔ میری افتتاحی تقریر کے بعدملک حاکمین خان تقریر کرنے کے لیے اٹھے۔ اور تقریر کا آغاز بھٹو صاحب کے دئیے ہوئے مقبول نعرے سے ”مانگ رہا ہے ہر انسان، روٹی کپڑا اور مکان“ کیا لیکن حیران کن طور پر اس کو مجمع کی طرف سے کسی قسم کا کوئی رد عمل نہ ملا۔ 
اس کے فوراً بعد اس نے اپنی تقریر کا موضوع بدلا اور اسے ویت نام کی جنگ پرلے گیا کہ کس طرح ایک چھوٹے سے ملک نے دنیا کی سپر پاور امریکہ سے ٹکر لے کر اسے شکست سے دو چار کیا۔ یہ 1976 کا واقعہ ہے جب کہ اس جنگ کو ختم ہوئے بھی کافی عرصہ بیت گیا تھا۔ اس کا پرائیویٹ سیکریٹری میرے ساتھ ہی اسٹیج پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے منہ سے ایک گندی سی گالی پھوٹی اور کہنے لگا کہ میں نے کئی بار ان کو سمجھایا ہے کہ یہ جنگ تو مدت ہوئی ختم ہو گئی ہے وہ اس کا ذکر نہ کیا کریں،لیکن یہ ہر جلسے میں پھر یہی قصہ چھیڑ بیٹھتے ہیں۔ 
دو تین مہینے بعد ملک حاکمین خان کی جگہ رئیس شبیر کو لگا دیا گیا جو رحیم یار خان کے زمیندار تھے اورانتہائی شریف اور دھیمے مزاج کے انسان تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنا ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ ہم بجائے اِدھر اُدھر خجل ہونے اور بے جا اخراجات کرنے کے سیدھا ان کے مہمان بن جاتے تھے۔ انھوں نے نہ صرف مجھے آموں کی پیٹیاں بھیجیں بلکہ مجھے رحیم یار خان میں اپنے گاؤں بھون آنے کی دعوت بھی دی۔ یہاں ان کے خاندان والوں نے ایک عالیشان مسجد تعمیر کروائی ہے جس سے متصل لنگرخانے میں جہاں روزانہ ہزاروں زائرین اور سیاح جو مسجد دیکھنے آتے ہیں، لنگر سے ان کی تواضع کی جاتی ہے۔ اگر اس طرح کے لوگ سیاست میں آئیں تو یقیناً اس سے طرز حاکمیت اور انتظامی امور کی بہتر بجا آوری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -