پاکستان ہماری امنگوں کا مرکز

پاکستان ہماری امنگوں کا مرکز
پاکستان ہماری امنگوں کا مرکز

  

                                            یوم پاکستان ہمارے ملی کیلنڈر میں ایک اہم دن کی حیثیت رکھتا ہے۔14اگست کو ہر برس ہم جشن آزادی پورے تزک و احتشام کے ساتھ مناتے ہیں۔کسی نہ کسی عہد کی تجدید کرتے ہیں اور ایک خاص سمت متعین کرتے ہیں۔ خوش کن الفاظ سے مزین سلوگن تیار کرتے ہیں،پھر ایک طرز کی رسم ادا کرکے اپنے اپنے ذاتی مفادات کی پناہ گاہ میں چلے جاتے ہیں۔ہمارا یہ رویہ دوچار برس میں پیدا نہیں ہوا، بلکہ اس کا تجزیہ اس کے تناظر کے بغیر ممکن نہیں اور یہ کام تو عمرانیات کے ماہرین کا ہے یا انسانی نفسیات میں ادراک رکھنے والوں کا .... لیکن قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہم جو بھی عہد کرتے ہیں، اس کی تکمیل کی راہ میں یا تو ہم خود رکاوٹ بن جاتے ہیں یا کسی نہ کسی سمت سے ایک بھاری پتھر ہمارے سامنے لاکھڑا کردیا جاتا ہے اور چلنے والے اس پتھر کو پاش پاش کرنے کی بجائے یا تو اسے چوم کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں یا اس کے سامنے سجدہ ریز ہو کر راحت محسوس کرتے ہیں، لیکن ایسا کرتے ہوئے ہم اپنے ماضی کو یاد نہیں کرتے کہ جب قیام پاکستان کی راہ میں انگریز اور ہندو سامراج کی جانب سے ایک دو نہیں، سینکڑوں پتھر لڑھکائے گئے تھے، لیکن ایک بھی پتھر ہمارا راستہ نہیں روک سکا تھا۔

ایسا کیوں کر ممکن ہوا؟ یہ سوچتے ہوئے ہم ہمیشہ تاریخ سے جواب طلب کرتے ہیں،اس لئے کہ تاریخ ہمیں ہمیشہ صحیح جواب دیتی ہے اور اس سلسلے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتی۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ راستے کے بھاری پتھر سے نمٹنے کے لئے صرف اولوالعزمی ہی کام آتی ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا آج ہمارے درمیان اولوالعزم قیادت موجود ہے؟ تحریک پاکستان کے فیصلہ کن دور میں یہ قیادت ہمیں ہمارے رب کی طرف سے ایک نعمت کی صورت میں میسر آئی۔مشیت الٰہی نے ہم محکوموں کی قیادت کے لئے قائداعظم ؒ کی ذات کو منتخب کیا،جس نے دشمن کے وضع کردہ ہتھیاروں ہی سے اس کو زیر کیا اور مطالبہ پاکستان منوا کر چھوڑا۔ مشرق و مغرب کا ایک ایک باشندہ اس امر سے پوری طرح آگاہ ہے کہ ہم نے حصول پاکستان کے لئے انگریز اور ہندو دونوں قوموں سے عسکری جنگ نہیں لڑی نہ اس سلسلے میں پانی پت کی چوتھی جنگ ہوئی اور نہ ہی جسمانی طور پر انگریزوں کو دھکیلتے ہوئے ہم نے انہیں سمندر کی لہروں کے حوالے کیا۔ہم نے دونوں قوموں سے یہ جنگ آزادی فکراور ذہنی محاذ پر لڑی اور صرف وہ طریقہ اختیار کیا جو جمہوری عمل کے دائرے میں آتا تھا۔

تحریک پاکستان کا منتہائے مقصود صرف یہ نہیں تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ خطہءارض حاصل کیا جائے، بلکہ یہ بھی تھا کہ انگریز کی پروردہ نئی اشرافیہ یا اس کی باقیات سے نجات بھی حاصل کی جائے۔

 قیام پاکستان کے بعد ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسی نئی اشرافیہ کے نمائندوں کو عوامی نمائندوں کے طور پر نہ صرف منتخب کیا، بلکہ انہیں برسراقتدار بھی لائے۔آج صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف انگریز کی تخلیق کردہ اشرافیہ کی باقیات اپنی بقاءکے لئے اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ مصروف عمل ہے تو دوسری طرف سرمایہ دار طبقہ، صنعتی خاندان آپس میں متحد ہو کر نظریہءپاکستان کی بجائے نظریہ¿ ضرورت کی بنیاد پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک بالکل جدید اشرافیہ کو تشکیل دے چکے ہیں اور عامتہ الناس اس ایلیٹ کلاس کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔جب حضرت قائداعظم ؒ کی آنکھیں بند ہوئیں،مسلم لیگ کی کوکھ سے جنم لینے والی جماعتیں عہدوں اور اقتدار کی رسا کشی میں مصروف ہوگئیں ،جو اب تک جاری ہے۔ایک سادہ لوح پاکستانی جب اس دور کے رہنماﺅں کی طرف دیکھتا ہے تو ان کے چہروں پر حصولِ اقتدار کی گرد جمی ہوئی نظر آتی ہے۔قائداعظمؒ نے درست فرمایا تھا کہ ہیں تو یہ کھوٹے سکّے، لیکن اپنی قیمت اصل سکوںسے بھی زیادہ لگوانا چاہتے ہیں۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قیام پاکستان کے بعد ہمارا اقتصادی وتجارتی اور صنعتی اتحاد زیادہ تر مغرب سے رہا۔اس طرح ہم نے یورپ کے اتحادی کی صورت اختیار کرلی ہے اور اس اتحاد کی صورت میں نتیجے کے طور پر جو سرمایہ داری، صنعتی و اقتصادی اور تجارتی ترقی کے نام پرعمل میں لایا جارہا ہے،بالائی طبقات اور زیریں طبقے میں بُعد پیدا ہوتا چلا جارہا ہے جو پاکستان کی آزادی اور وجود کے لئے نہایت مضر ثابت ہوگا۔بدقسمتی سے بھارت سمیت اسلام دشمن عناصر بضد ہیں کہ اسلام کی مرکزیت کو بکھیر دو،چنانچہ یوم پاکستان کی روح ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ جب تک موجودہ حکومت بیرونی قوتوں کے مخفی عزائم اور زمینی حقائق کا ادراک نہیں کرے گی۔بہتری کی کوئی سبیل نکلنے کا کوئی امکان نہیں ۔اگر اب بھی ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کو امریکہ اور آئی ایم ایف کے تابع رکھنے پر اکتفا کیا تو پھر یہ صورت حال ہماری آزادی پر ایک اور شب خون کی ابتداءہوگی۔

پاکستان جو ہماری امنگوں اور ارمانو ںکا مرکز ہے، ہم نہ تو اس کی روح کو قائم رکھ سکے اور نہ اس کے جسم کو، نہ ہمیں بنیادی طور پر سیاسی جمہوریت نصیب ہوئی، نہ اقتصادی جمہوریت، جذبہ حب الوطنی اور قومی کردار جو قومیت اور آزادی کے مقاصد کے حصول کے لئے لازمی اجزا ہیں، وہ نہ تو ہمارے سیاستدانوں میں پیدا ہوئے، نہ عوام کے اس طبقے میں، جسے اس ضمن میں مسلسل تربیت کی اصل ضرورت تھی، جس کے نتیجے میں متوسط اور غریب عوام اقتصادی خوشحالی اور سماجی انصاف سے بھی محروم ہوتے چلے گئے اور ملک عزیز کے تمام شعبے ترقی سے تشنہ تکمیل رہ گئے۔پاکستان بننے کے بعد آزاد ہونے والی قومیں اور ریاستیں تعمیر اور ترقی کی رفعتوں تک پہنچ چکی ہیں ، جبکہ ہم ابھی تک ٹھیک طور پر سنبھل ہی نہیںسکے ہیں۔ہم اب تک کسی شعبے میںخود کفیل بھی نہیںہو سکے ۔چینی کی ایک کہاوت ہے کہ دور سے پانی لا کر ہم اپنی پیاس نہیں بجھا سکتے، خواہ وہ F-16کے ذریعے امریکہ ہی سے کیوں نہ لایا جائے۔

ٹوائن بی نے کہا تھا کہ زندہ قومیں اپنے ماضی کو بھلا کر بہتر مستقبل کی طرف نہیں بڑھ سکتیں اور جو قومیں اپنی تاریخ کو بھلا دیتی ہیں ، ان کا جغرافیہ بھی انہیں بھلا دیتا ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستانی قوم عزت نفس رکھنے والی ایک بہادر اور خود دار قوم ہے، جو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے اور پاکستان کو حضرت قائداعظمؒ کے خوابوں کے مطابق تشکیل دینے کے تقاضے پورا کرنے کی آرزو مند ہے۔کیا ہی بہتر ہو کہ اس بار جشنِ آزادی کو ہم دعاﺅں سے سجا کر منائیں۔   ٭

مزید :

کالم -