ہائے بوبی ہاؤ آر یو۔۔۔!

ہائے بوبی ہاؤ آر یو۔۔۔!
 ہائے بوبی ہاؤ آر یو۔۔۔!

  


آج میرا سرنامہِ تحریر وہ جملہ ہے جو شیخ رشید احمد صاحب نے استعمال کیا۔ اور لوگ جانتے ہیں کہ \"بوبی\" کس شخصیت کا محبت سے پکارے جانے والا نام ہے۔ تحریر کے آخر میں بتاؤں گا کہ اِس سر نامے کی ضرورت کیوں تھی۔

بات چیت کا وقت گزر گیا ہے اب کوئی بات چیت نہیں ہو گی، حکومت اگست کے آخر تک چلی جائے گی، نواز شریف ، شہباز شریف خود فیصلہ کر لیں کہ کہ پہلے کون جائے گا؟ یہ سب وہ بیانات ہیں جو کہ عمران خان صاحب اور ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے آرہے ہیں۔ طاہر القادری صاحب فرماتے ہیں کہ اگر مجھے گرفتار کر لیتے ہیں تو کارکن عمران خان کا ساتھ دیں کارکن میری پرواہ کئے بغیر عمران خان کے مارچ میں شامل ہوں۔یہ وہ بیان تھا جس نے قادری صاحب کی طرف سے عمران خان صاحب کی جانب بڑھتے ہوئے ہاتھ کا اشارہ دیا۔ پھر عمران خان نے ایک بیان دیا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو میرا بدلہ شریف خاندان سے لیا جائے اور یوم شہداء4 میں پاکستان تحریک انصاف کی شرکت کا اظہار کیا۔ پھر طاہر القادری صاحب نے آخر کار اپنے انقلاب مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیا جو کہ انہوں نے بھی 14 اگست ہی رکھی ہے یعنی حکومت کے لئے نہ شد دو شد پھر جس بیان کی جانب میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ ہے طاہر القادری صاحب کا وہ جملہ جو انہوں نے انقلاب مارچ کی تاریخ کے اعلان کے آخر میں کہا کہ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو شریف برادران کو میرے خون کے بدلے میں قتل کردینا یہ وہ موقع ہے جہاں آکر عمران خان اور طاہر القادری ایک ہو گئے۔ وزیر اعظم صاحب نے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جس میں پاکستان تحریک انصاف کا کوئی بھی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ نواز شریف صاحب کہتے ہیں کہ حلقوں کی دوبارہ گنتی کے عمل پر بات چیت کرتے ہیں یعنی نواز شریف صاحب بھی بات چیت نہیں کرنا چاہتے دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے ایک عجیب فیصلہ سنایا ہے کہ کنٹینرز لگانے سے انسانی حقوق متاثر نہیں ہو رہے ہیں۔ دست بستہ عرض ہے جناب آپ انسان صرف اشرافیہ کو خیال کرتے ہیں جن کے آنے جانے کیلئے روٹ لگائے جاتے ہیں یا جو صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے اور جہازوں کے ذریعے آتے جاتے ہیں، شاید وہی انسان ہیں۔ ویسے ایسے فیصلوں سے محسوس ہوتا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ٹریبونل کیا کرتا ہو گا اور کیسا فیصلہ دے گا۔ میں طاہر القادری صاحب کے حق میں نہیں ہوں بالکل نہیں ہوں ان کی بہت سے باتوں سے مجھے بھی اختلاف ہیں مگر یوم شہداء4 منانے سے کون سی قیامت ٹوٹ پڑنی تھی کیا ہو جانا تھا، اگر ان کو یہ سب کرنے دیا جاتا اور کسی قسم کی روک ٹوک نہ کی جاتی تو کیا ہو جانا تھا؟ اگر ان کو ایسا کرنے میں آزادی دی جاتی اور ان کی حفاظت کی جاتی تو کیا برائی تھی؟

میں اپنے تمام تجزیہ کاروں سے سوال عرض کرنا چاہونگا جو کہ رہے ہیں کہ طاہر القادری کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے یہ ایک سیاسی طاقت نہیں ہے میں سوال کرنا چاہونگا کہ طالبان بھی سیاسی طاقت نہیں تھے وہ بھی اس سسٹم کو نہیں مانتے تھے بلکہ وہ تو آئین کو ہی نہیں مانتے تھے، ان سے مزاکرات کا سلسلہ کیوں شروع ہوا اور کیوں جاری رکھا گیا؟ کیوں اس کی کامیابی کیئے دعائیں کی گئیں۔ کیوں ان کو ہمارے بڑوں نے ناراض بچے کہ کر مخاطب کیا؟ کیا طاہر القادری کے یہ لوگ یہ پاکستانی شہری جنہوں نے ووٹ بھی دئیے ہونگے اس قابل بھی نہیں کہ انہیں یوم شہداء4 منانے دیا جائے۔ کیا ایک پر امن شہری طالبان سے زیادہ خطرناک ہے؟ کیا ایک پر امن رہنے والاووٹ دینے والا پاکستانی شہری اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتی، اپنے حقوق نہ دیے جانے پر احتجاج اور وہ بھی پر امن احتجاج کا حق نہیں رکھتا؟ کیا اس کا ووٹ دینا اسے ملکی سیاست کا اس نظام کا حصہ نہیں بنا دیتا؟

کیا ایک عام شہری کو اس نظام کی خامیاں اور نظام کو غلط ہوتا دیکھ کر آواز بلند کرنے کا حق نہیں ہے؟ اس پر اکثر جگہ سے آواز آتی ہے کہ اگر ہم انہیں یہ کرنے دیں تو یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا مگر یہ سب \"اگر\" سے مشروط ہے اور جب تک کچھ ہوتا نہیں اس کے بارے میں ہم میں سے کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں دے سکتا کیونکہ اس اگر مگر کے تمام مفروضے طالبان سے بات چیت کے تمام مراحل میں طے ہو چکے ہیں۔ بہت مرتبہ یہ بات کی گئی کہ ان سے بات کی تو جائے انہوں نے ایسا کہا تو نہیں نہ انہیں دیکھا جائے کہ وہ کرتے ہیں یا نہیں۔ تو ایک عام پاکستانی شہری کو اپنی بات کہنے کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا۔

میں یہ بات خود کہتا ہوں کہ طاہر القادری کچھ نہیں تھے مگر انہیں اس حکومتی مزاحمت نے کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونے میں تبدیل کر دیا ہے اگر آپ خوفزدہ نہیں ہیں تو روکتے کیوں ہیں۔ اگر ان کے مطالبات غلط ہیں تو ان کو روکنے کا یہ طریقہ درست نہیں بلکہ ان کو دباؤ بنانے کا موقع نہ دیں ان کے بنائے ہوئے پریشر کو نکلنے دیں۔ میں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ طاہر القادری صاحب کا کردار پاکستان کی سیاست میں ذیادہ نہیں دیکھ رہا۔ کیونکہ انہوں نے خان صاحب کی مزاحمت کی تحریک آزادی مارچ کو تیز کرنا ہے اور یہ بات انہوں نے اپنا فرضِ عین بنا رکھی ہے۔ تو آپ کی توجہ صرف عمران خان صاحب پر ہونی چاہئے۔ قومی سلامتی کانفرنس کو ہی لے لیجئے اس کانفرنس میں چوہدری نثار صاحب اور شہباز شریف صاحب شامل نہیں تھے کہا یہ گیا کہ بارش ہو رہی تھی اس وجہ سے جا نہیں سکے خیر یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ چوہدری صاحب کے بارے میں ہم کچھ قیاس آرائیاں تو کر سکتے ہیں مگر شہباز شریف صاحب تو نواز شریف صاحب کے بھائی ہیں وہ تو ایسا نہیں کر سکتے خیر اس قومی سلامتی کانفرنس میں جو رویے سامنے آئے ہیں ان سے یہ کانفرنس بھٹو صاحب کی 1977 کی اس آخری میٹنگ کی یاد دلا رہی تھی جس میں انہوں نے بھی فوج کو ساتھ بٹھا کر فوٹو سیشن کروالیا تھا کیونکہ اسے اعتبار یا نیت کچھ کہ لیں جب اعتبار ٹوٹ جائے اور نیت بدل جائے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔اور آج شاید اعتبار ٹوٹ چکا ہے ورنہ اس کانفرنس میں رویے اتنے سخت نہ ہوتے کہ چہروں سے عیاں ہو جائیں۔

مگر اب سوچنا یہ ہے کہ ہو گا کیا؟ ایک عام پاکستانی کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ حکومت جارہی ہے کہ نہیں ، نواز شریف ہے کہ عمران خان، قادری ہے یا کوئی اور۔ اس کا مطلب اِس کی غرض صرف دو وقت کی روٹی ہے اس کا مسئلہ بجلی ، پانی اور بچوں کا مستقبل ہے جو عوام کو یہ تمام ضروریات دے گا وہی اس کا مسیحا ہے، وہی اس کا نجات دہندہ ہے کیونکہ ہم نے اپنے طرز عمل سے عوام کی آواز کی اہمیت ختم کر دی ہے ہم نے پاکستانی کو پہلے طبقات میں تقسیم کیا پھر اسے ختم کرنا شروع کر دیاآج بھی ہمارے اہل اقتدار ایک عام پاکستانی کو ایک کاغذ کے ٹکڑے (بیلٹ پیپر) سے زیادہ کی اہمیت نہیں دیتے۔

میں ان عام پاکستانیوں سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا کبھی انہوں نے عمران خان اور جناب طاہر القادری صاحب سے سوال کیا ہے کہ یہ نظام لپیٹ دیا جائے بخوشی لپیٹ دیں مگر اس کی جگہ کیا؟ کون آئے گا؟ کونسا نظام آئے گا؟ عمران صاحب اور طاہر القادری صاحب دونوں نے کوئی پلان آف ایکشن نہیں دیا اس نظام کے علاوہ کیا؟ نواز شریف حکومت چھوڑ دیں ، شہباز شریف پنجاب اسمبلی توڑ دیں تو کیا باقی صوبے بھی اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے؟ مڈ ٹرم الیکشن ہو ٹھیک، مگر کیسے آپ الیکشن کمیشن کی کسی بات کو اس وقت ماننے پر راضی نہیں ہیں۔ عمران خان صاحب کے بقول بہت سی الیکشن ریفارمز لازمی ہیں جن کے بغیر کسی بھی الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں میں یہ سب باتیں مان لیتا ہوں۔ مگر یہ تو بتائیں کہ نواز شریف صاحب چلے جاتے ہیں ن لیگ کی حکومت چلی جاتی ہے تو پھر یہ ریفارمز کیا عبوری حکومت کرے گی۔ عبوری حکومت کے پاس اس طرح کے عوامل کا مینڈیٹ ہی نہیں ہوتا تو اس کے بغیر الیکشن کا فائدہ کچھ نہیں کیونکہ صرف ایک چھوٹی سی حقیقت اپنے پڑھنے والوں کی نظر کرنا چاہتا ہوں۔ 2013 کے الیکشن میں ووٹر لسٹوں کا بھی بہت شور سنا گیا ہے کہ یہ لسٹیں اپ ڈیٹ نہیں ہوئیں ہیں اس میں بہت سی خرابیاں ہیں۔ اب الیکشن قوانیں کا کیا کیا جائے کہ جن میں یہ لکھا ہے کہ ہر سال ووٹر لسٹیں نئی مرتب ہونگی اور وہ بھی نادرہ کے ریکارڈ سے نہیں بلکہ گھر گھر جا کر مردم شماری کے انداز میں یہ فہرستیں مرتب کی جائیں۔ اب صرف اس ایک شق کو مکمل کرنے کے لئے کتنا عرصہ چاہئے کتنے لوگ درکار ہیں۔میری تحریر باشعور لوگ پڑھ رہے ہیں اس لئے مجھے مزید وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔ خان صاحب نے نہ تو اس بات پر اور نہ ہی مردم شماری کے ایشو پر کوئی بات کی ہے جو کہ عرصہ 16 سال سے رکی ہوئی ہے۔ شاید ان کی نظر میں نواز شریف صاحب اگر مستعفی ہو جاتے ہیں تو یہ سب کام خود بخود ہو جائیں گے۔

ان سب باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے میرا تخیل یہ کہتا ہے کہ ملکی نظام دوبارہ سے ایک خلا کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مگر قانون فطرت ہے کہ خلا نہیں رہ سکتا تو پھر کیا ہو گا؟ اور کون ہو گا جو اس خلا کو پر کرے گا؟ بہت آسانی سے سمجھ میں آنے والی بات ہے اگر ابھی الیکشن کروائے جاتے ہیں تو تمام کہی گئی باتیں جو الیکشن کمیشن ، الیکشن قوانین کے بارے میں کی گئی ہیں وہ سب اور ان قوانین میں تبدیلی یا قوانین کا اجراء4 کیسے ممکن ہو گا۔ ان تمام باتوں کو، تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو فعال بنانے عوامی فلاحی ریاست بنانے کے اقدامات اور ان اقدامات و قوانین پر عملدرآمد کے لئے ایک خاص عرصہ چاہئے تاکہ یہ قوانین یہ ادارے ایک خاص رنگ میں رنگے جائیں اور بظاہر تو وہ رنگ عوام کی فلاح و بہبود کا ہو گا اس میں فلاح کتنی ہوتی ہیاور عوامی بہبود کتنی ہوتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر اس سب کے بعد ہی الیکشن ہونا چاہئے ایک صورت اور ہو سکتی ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کو بدل دیا جائے اور نئے سربراہ کی قیادت میں ادارہ نئے الیکشن کروائے مگر اس طرح سے عمران خان صاحب کے لئے اقتدار میں آنا ایک بار پھر مشکل نظر آتا ہے کیونکہ عوامی رد عمل یہی ہو گا کہ کیا سب کچھ نواز شریف کے جانے سے ٹھیک ہو گیا ہے۔

اگر مختلف علاقوں میں انارکی پھیلے گی تو اثرات اسلام آباد تک بھی جائیں گے اور وہاں انارکی کا مطلب ہے کہ فوج سامنے آئے اور فوج اپنے ہم وطنوں پر نہ تو گولی چلاتی ہے اور نہ ہی انہیں مارتی ہے، کیونکہ پھر وہ اپنے عزیز ہم وطنو کس کو کہے گی۔ میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ اس بار میرے عزیز ہم وطنو نہیں ہو گا کچھ اور چہرے ہونگے جنہیں عرف عام میں ٹیکنو کریٹ کہا جاتا ہے۔ اس حکومت کا سربراہ کوئی وردی والا نہ ہو گا مگر وردی والے کے بغیر بھی نہیں ہو گا۔ اگر لاکھوں کے قریب پاکستانی اپنی ہی فوج کے سامنے ہوں تو شیخ صاحب بانہیں کھول کر یہ جملہ کہنے میں حق بجانب ہونگے جس کا جواب بھی شاید خوش دلی سے آئے اور وہ جملہ ہے \"ہائے بوبی ہاؤ آر یو۔۔۔ !

مزید :

کالم -