اِک دریا جو سمندر میں اْترگیا

اِک دریا جو سمندر میں اْترگیا
 اِک دریا جو سمندر میں اْترگیا

  


میرے بس میں ہوتا تو مَیں گزرتے وقت کو اْس وقت روک لیتا جب میرے والدستارۂ امتیاز جناب محمد شفیع ملک (مرحوم) دنیا کے سٹیج پر اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے بعد رخصت ہورہے تھے لیکن وقت بڑی ہی ظالم چیز ہے، اسے چاہے جتنا بھی روکنے کی کوشش کرو، مٹھی میں پکڑی ریت کی طرح پھسلتا ہی چلا جاتا ہے ۔اگست 2007ء میں اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوگئے مگر مجھے اکثر تنہائی میں سنائی دینے والی قدموں کی آہٹ، کندھے پرشفقت بھرے نادیدہ ہاتھ کی تھپکی اور آس پاس دکھائی نہ دینے والی کسی مہربان شخصیت کی موجودگی کے احساس سے یوں لگتا ہے کہ وہ روحانی طور پر ابھی بھی ہم میں موجود ہیں۔ اگست 2014ء میں اْن کے انتقال کو سات سال بیت گئے لیکن مجھے ہمیشہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔جب وہ ہم سے جدا ہوئے تو مجھے غم کے ساتھ شدید روحانی اذیت بھی برداشت کرنا پڑی کیونکہ اُن کی صورت میں صرف میرے والد ہی نہیں بلکہ میرارہنما اور تحریکِ پاکستان کاایک ایسا کارکن بھی ہمیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلا گیا جو اِس پاک وطن کے قیام کے ہر مرحلے میں شریک رہا، جسے اُس عظیم قائدمحمد علی جناح ؒ کے ہمراہ کام کرنے کااعزاز حاصل ہے جن کی تصویر کو دیکھ کر ہی ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے۔

میرے والد ستارۂ امتیاز محمد شفیع ملک مرحوم گیارہ اپریل 1916ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کا آغاز قرآنِ پاک سے کیا بعد ازاں میونسپل ہائی سکول مزنگ سے تعلیم حاصل کی۔ بچپن ہی سے علامہ محمد اقبال ؒ کے عاشق تھے۔ بتاتے تھے کہ پانچ چھ سال کی عمر میں سکول میں ہونے والی اجتماعی منظوم دعا ۔۔۔’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری۔۔۔ زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری‘‘۔۔۔ کے ذریعے علامہ محمد اقبال سے غائبانہ تعارف ہوا۔ عمر بڑھتی گئی، علامہ محمد اقبال ؒ کی بچوں کے لئے لکھی ہوئی نظمیں ایک مکڑا اور مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری، بچے کی دعا، ہمدردی، ماں کا خواب اور پرندے کی فریاد وغیرہ پڑھیں جنہوں نے ننھے سے دل میں علامہ اقبال ؒ کی عظمت کا ایک ایسا نقش ثبت کیاجو زندگی بھر نہ مٹ سکا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 1930ء میں جب اُن کی عمر صرف چودہ برس تھی تو علامہ اقبال ؒ کا خطبہ صدارت الٰہ آباد سنا تو اُن کے مرید ہوگئے ۔ عظیم شاعر علامہ محمد اقبال ؒ کا جب انتقال ہوا تو ملک محمد شفیع مرحوم کی عمر بائیس برس تھی، انہوں نے علامہ کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ علامہ کے تابوت کو کندھا دیا۔

اُن ہی دنوں غازی علم دین شہید ؒ نے شاتمِ رسول راجپال کو جہنم واصل کیا اور اِس \"جرم\"میں غازی شہید ؒ کو پھانسی دے دی گئی۔ اُن کی نمازِ جنازہ یونیورسٹی گراؤنڈ میں پڑھائی گئی۔ میرے والد کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے غازی علم دین شہید ؒ جیسے عاشقِ رسولؐ کے جنازے کو بھی کندھا دیا۔ اِسی طرح جب قائدِ ملت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ قوم کو داغ مفارقت دے گئے تو اُن کے جنازے میں شریک ہونے والے لاکھوں مسلمانوں میں میرے والد محترم بھی موجود تھے۔ ایک مرتبہ انہیں مقبوضہ کشمیر میں جانے کا اتفاق ہوا اور سیرو تفریح کے دوران وہ درگاہ حضرت بل تشریف لے گئے جہاں آقائے دوجہاں حضورِ اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کا موئے مبارک ایک شیشے کی نلکی میں محفوظ ہے جس کی زیارت کا شرف انہیں حاصل ہوا۔ انہوں نے ہمیں یہ ایمان افروزبات بتائی کہ جب موئے مبارک کی زیارت کے وقت زائرین درود شریف پڑھتے ہیں تو شیشے کی نلکی میں موئے مبارک حرکت کرتا ہے جسے بآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ موئے مبارک واقعی آقائے دوجہاں حضورِ اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ہی ہے۔

علامہ محمد اقبال ؒ نے جب دوقومی نظریہ پیش کیا اور اُس کے بعد تحریکِ پاکستان کا آغاز ہوا تو محمد شفیع ملک مرحوم بھی قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی سرکردگی میں حصولِ پاکستان کے لئے انتہائی سرگرمی سے مصروفِ عمل ہوگئے۔اُن ہی دنوں ایک واقعہ پیش آیا۔ \"ان دنوں شملے میں دو پہیوں والے رکشا چلتے تھے۔ یہ رکشے بالعموم تین چار مرد کھینچتے تھے ۔ پہاڑی سڑکوں پر رکشا کھینچنا بڑی ہمت کا کام تھا، علاوہ ازیں اس کام میں مہارت بڑی اہم تھی کیونکہ اگر رکشا پر گرفت ڈھیلی ہوجائے اور چڑھائی چڑھی جارہی ہو تو رکشا کے نیچے جاگرنے کا خطرہ ہوتا جس سے رکشا سوار کی جان بھی جاسکتی تھی ورنہ کم سے کم شدید چوٹیں ضرور آتیں۔ ایک بار قائد اعظم ؒ رکشا میں سوار تھے کہ آناً فاناً رکشا کھینچنے والے ایک شخص کا پاؤں پھسلا، اس خوف سے کہ کہیں قائد اعظم ؒ زخمی نہ ہوجائیں۔ سڑک کے کنارے مسلمان برق رفتاری سے لپکے ،رکشا کو تھام لیااور لڑھکنے نہیں دیا۔ قائد اعظم ؒ بڑے سکون سے رکشا میں بیٹھے رہے اور مطلقاً پریشان نہیں ہوئے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے لوگوں کے جذبہ محبت کا شکریہ ادا کیا اور ان کی پریشانی پر اظہار مسرت بھی کیا۔

ان لوگوں میں حسن اتفاق سے میرے والد محمد شفیع ملک مرحوم بھی شامل تھے جو ان دنوں ایک مضبوط اور چاق و چوبند نوجوان تھے۔ قائد اعظم ؒ نے اُن سے دریافت کیا کہ کہاں کے رہنے والے ہو۔ جب میرے والد نے لاہور کا نام لیا تو قائد اعظم ؒ کے بارعب چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ قائد اعظم ؒ کی سرکردگی میں تحریکِ پاکستان زور پکڑتی گئی اور ساتھ ہی سکھوں اور ہندوؤں کے مظالم بھی۔ محمد شفیع ملک مرحوم نے ہندوؤں اور سکھوں کے ظلم و تشدد کے بہت سے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ قیامِ پاکستان کے لئے شہید ہونے والے مرد، خواتین اور بزرگوں کی لاشوں کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔ ہمیں یہ واقعات سناتے ہوئے اُن کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب رواں ہوتا تھا۔، قیامِ پاکستان کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مسلمانوں کی قربانیوں کا دُکھ وہ مرتے دم تک نہیں بھولے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی محنت اور مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں اور 14اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ میرے والد اُن غازیوں میں شامل تھے جو قیامِ پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ صحیح سلامت پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے لیکن پاکستان کے لئے شہید ہونے والوں کا دُکھ ساری عمر نہیں بھول پائے۔ انہوں نے مہاجرین کی آبادی کاری کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق ہرممکن کوشش کی جبکہ بعد ازاں وہ دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے سرگرمِ عمل ہوگئے جس پر انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

1945ء میں محمد شفیع ملک مرحوم سے ایک ملاقات کے دوران قائد اعظم ؒ نے کہا کہ مَیں ایک ایسے پاکستان کا قیام چاہتا ہوں جہاں غریب عوام آرام اور سُکھ سے زندگی گزار سکیں، چنانچہ میرے والد مرحوم نے قائد اعظم ؒ سے وعدہ کیا کہ اگر زندگی اور حالات نے اجازت دی تو وہ قیامِ پاکستان کے بعد غریبوں کی فلاح و بہبود کے لئے تن من دھن نچھاور کردیں گے۔پاکستان آنے کے بعد انہوں نے بادامی باغ میں آٹوسپیئر پارٹس کی ایک چھوٹی سی دکان سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور ترقی کرتے کرتے ایک بڑے صنعتکار بنے ، حالات بہتر سے بہتر ہوتے گئے مگر وہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھولے، چنانچہ 1975ء میں انہوں نے ممتاز بختار ہسپتال کی بنیاد رکھی اور کسی بڑی سرکاری شخصیت کے بجائے جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی جناب مفتی محمد حسن ؒ کے صاحبزادے مولانا عبدالرحمن اشرفی سے ہسپتال کا افتتاح کرایا۔ بارہ کنال کے وسیع و عریض رقبے پر قائم یہ ہسپتال آج بھی غریب و مفلس لوگوں کو علاج و معالجے کی جدید ترین سہولتیں فی سبیل اللہ مہیا کررہا ہے۔

محمد شفیع ملک مرحوم نے اس ہسپتال کو چلانے کے لئے ایک ٹرسٹ بنایا اور اچھی خاصی جائیداد ہسپتال کے اخراجات کے لئے وقف کردی تاکہ کبھی بھی کوئی پریشانی نہ ہو۔ ہسپتال میں ایک سو بیڈز ہیں اور جنرل وارڈ سمیت سارا ہسپتال مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ ہے، جبکہ ایمرجنسی چوبیس گھنٹے مریضوں کے لئے کھلی رہتی ہے۔ 1987ء میں انٹرنیشنل لائنز کلب کے صدر برائن سٹیونسن نے دکھی انسانیت کے لئے محمد شفیع ملک مرحوم کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں سپیشل لائنز کلب ایوارڈسے بھی نوازا۔ بعد ازاں اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ میاں محمد نواز شریف نے بھی انہیں خصوصی ایوارڈ دیا۔ ہم سب بھائیوں بہنوں کو انہیں نے ہمیشہ یہی درس دیا کہ دولت آنی جانی شے ہے۔ اسے تجوریوں میں بند کرنے یا بنکوں میں رکھنے کے بجائے خلقِ خدا میں دل کھول کر خرچ کرنا۔ ہر سال چودہ اگست کا دن ہمارے خاندان کے لئے غم آمیز مسرت کا پیغام لے کر آتا تھا۔ مسرت اپنے پیارے وطن کے قائم ہونے کی، آزاد وطن کا باسی ہونے کی، جبکہ غم اُن لاکھوں شہدا کا جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

چودہ اگست کی شب کو محمد شفیع ملک مرحوم تمام اہلِ خانہ کو اکٹھا کرکے پاکستان کی سالگرہ کا کیک کاٹتے تھے۔2007ء کے اوائل میں ان پر فالج کا حملہ ہوا جس کی وجہ سے اُن کا ایک بازو بیکار ہوگیا، چودہ اگست آئی اور شدید بیماری کے باوجود انہوں نے حسبِ معمول ہمیں اکٹھا کیا، کیک منگوایا اور اپنے تندرست ہاتھ سے پاکستان کی ساٹھویں سالگرہ کا کیک کاٹا۔ اُسی رات وہ کومے میں چلے گئے اور دو دن بعد انہوں نے اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کردی اور ہم سب ایک گھنے شجرِ سایہ دار، ایک رحم دل شخص اور تحریکِ پاکستان کے ایک سرگرم کارکن سے محروم ہوگئے۔وقت کے بہتے دریا نے ہمارے والد کو ہم سے جدا کردیا، ایک دن مَیں بھی دریا بن کر سمندر میں اُتر جاؤں گا لیکن میرے نام کے ساتھ یہ اعزاز ہمیشہ جڑا رہے گا کہ مَیں ملک محمد شفیع صاحب جیسے اُس سپاہی کا حصہ ہوں جنہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ مَیں دعاگو ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آقائے دوجہاں حضورِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے صدقے میرے والد میاں محمد شفیع صاحب اور اُن لاکھوں گمنام شہیدوں کی قبروں پر تاقیامت شبنم افشانی فرمائے جنہوں نے جان و مال کی قربانیاں دے کر اپنی آئندہ نسلوں کا مستقبل محفوظ بنادیا۔

مزید :

کالم -