وی سی شپ کی مدت دو سال بھی زیادہ ہے

وی سی شپ کی مدت دو سال بھی زیادہ ہے

  

ایک اطلاع کے مطابق پنجاب کی حکومت اپنی پبلک یونیورسٹیوں میں سربراہ کی مدت چار کے بجائے دو سال کرنا چاہتی ہے، اس اطلاع سے یونیورسٹیوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے اور اساتذہ میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے جو قابل فہم ہے، ایک دو روز بعد یونیورسٹیاں کھل رہی ہیں اور نیا سیشن بھی شروع ہو رہا ہے، ملک پہلے ہی نازک حالات سے دو چار ہے جن کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنا یہ نا معقول، خلاف آئین اور قانون توڑ فیصلہ واپس لے!بظاہر یہ فیصلہ و ڈیرہ شاہی اور اس کی چھوٹی بہن نوکر شاہی کے فرعونی مزاج اور سامراجی خفیہ اشاروں کا آئینہ دار ہے، یہ لوگ نئے دور کے سامراجیوں کے عزائم کی خاطر غریب عوام کے نظام تعلیم میں ابتری پیدا کر کے سب کچھ اپنی مٹھی میں لینا چاہتے ہیں اس لئے انہوں نے ستر سال سے غریبوں کے اس نظام کو فٹ بال بنا رکھا ہے، اب بھی وہ اس فٹ بال کو نئی کک لگا کر ملک کو غیر مستحکم کرنے کی فکر میں ہیں!

سوال یہ ہے کہ اس فضا میں اس اقدام سے ملک و قوم کی کیا خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ صرف یہ کہ وائس چانسلر بھی پرائمری سکول کا ہیڈ ماسٹر بن جائے؟ یا ملک میں بعض لالچی لوگوں نے پیسہ کمانے اور پیسہ نہ دے سکنے والے غریبوں کو محروم رکھنے کے لئے پرائیویٹ یونیورسٹیوں کا جال بچھا رکھا ہے جہاں وائس چانسلر اور استاد مالکوں کے نوکر ہوتے ہیں اور ان کے ہر حکم کے تابع ہوتے ہیں اس لئے ہماری وڈیرہ شاہی اور نوکر شاہی پبلک یونیورسٹیوں سے بھی یہی کھیل کھیلنا چاہتی ہے جو شرمناک تو ہے ہی یہ نا ممکن بھی ہے، اساتذہ، طلبہ اور عوام ایسا نہیں ہونے دیں گے!

مگر یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایک وقت تھا جب ’’عوامی حکومت‘‘ نا پسندیدہ استادوں کو یونیورسٹیوں سے تبدیل کر کے سکولوں اور کالجوں میں بھیجنا چاہتی تھی، بعض طلبہ تنظیمیں بھی سب کچھ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی تھیں، میں اس وقت چونکہ اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کا جنرل سیکرٹری تھا اس لئے مزاحمت کی اور سزا بھی بھگتی مگر ہر بات کو جوتے کی نوک پر لکھا اور ہر کوشش کو ٹھوکر مار کر نا کام کیا تھا مگر یونیورسٹیوں اور اساتذہ کا تحفظ ہو گیا، اب بھی ایسے ہی ہوگا اس لئے حکومت کو یہ خلاف آئین و قانون مگر بے حد خطرناک فیصلہ واپس لے لینا چاہئے! ہاں اگر تعلیم کو فٹ بال بنانا ہے اور سب کچھ مٹھی میں کرنا ہے تو پھر دو سال کیا ایک ماہ بلکہ ایک دن کی مدت بھی کافی ہو گی۔ اس سے ہر یونیورسٹی میں تین سو ساٹھ استادوں کو فٹ بال بنانے، تماشا کرنے اور لطف اٹھانے کا ہر روز موقع ملے گا، رہی غریبوں کی تعلیم تو وہ بھاڑ میں جائے!

مہذب، باضمیر اور ترقی یافتہ دنیا (مغرب اور امریکہ) میں کسی بھی تعلیمی ادارہ کا سربراہ معاشرہ میں سب سے زیادہ قابل اور محترم ہوتا ہے، یونیورسٹی پروفیسر تو علم و فضل اور عزت و احترام کا بہاؤ سمجھا جاتا ہے اور یونیورسٹی کا سربراہ تو سب سے بڑے دو تین پروفیسروں میں سے چنا جاتا ہے اور یہ کام صرف سربراہ ملک یا حاکم کے سپرد ہوتا ہے مگر خالص میرٹ کی بنیاد پر، یہ عہدہ جب کسی کو ملتا ہے تو اس دن کے اخبارات کی سب سے بڑی سرخی اسی کا نام اور ذکر ہوتا ہے!مگر ہماری یونیورسٹیوں کی سربراہی کا انتخاب ایک کمیٹی کرتی ہے جو نوکر شاہی اور وڈیرہ شاہی کے چند پرزوں پر مشتمل ہوتی ہے، ان پرزوں پر سب وڈیروں کا دباؤ ہوتا ہے، لوگوں سے یوں درخواستیں طلب کی جاتی ہیں جیسے کوئی کلرک بھرتی کرنا ہوتا ہے، چونکہ دباؤ ڈالنے والے وڈیرے بہت ہوتے ہیں اس لئے سب کو راضی کرنے کے لئے مواقع مہیا کرنا ہوتے ہیں تاکہ کٹھ پتلی کے ذریعہ یونیورسٹی کے بجٹ پر ہاتھ صاف کرنا آسان ہو جائے اس لئے تعداد بڑھنا چاہئے اور تعداد بڑھانے کے لئے مدت گھٹانا ضروری ہے اس لئے چار سال کے بجائے دو سال مدت ہو تاکہ ہر دو سال بعد نئی سے نئی کٹھ پتلی آتی رہے اور یونیورسٹی میں کام نہ ہو سکے اور غریب عوام کے اہل بچے کہیں بہت زیادہ لائق اور اہل بن کر مغرب پلٹ وڈیرہ شاہی کے بچے کے لئے کوئی چیلنج نہ بن سکیں!

عوام کو بیدار ہو کر وڈیرہ شاہی کی اس گیم کو ختم کرنا ہوگا۔ کمیٹی کے پرزوں کی پسند اور ناپسند کے بجائے آئین اور قانون سے کام لیا جائے، یونیورسٹی کا سربراہ تین سینئر اور اہل اساتذہ کے پینل میں سربراہ ملک یا حاکم صوبہ میرٹ پر مقرر کرے! یہی وہ معیاری طریقہ ہے جو دنیا بھر میں مروج ہے، اب تک یہاں بھی ایسے ہی ہوتا رہا ہے مگر میرٹ پر قابل وی سی بننے والا چونکہ نوکر شاہی کے سامنے جھکتا نہیں اور وڈیرہ شاہی کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا اس لئے ہر دو سال بعد آنے جانے والی کٹھ پتلی ہی مفید رہے گی تو دو سال کیوں؟ روزانہ ایک کٹھ پتلی بدلو تاکہ ایک سال کے اندر ہی یونیورسٹی کا جنازہ آسانی سے نکل جائے اور غریب عوام کے بچوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کے ادارے جلد سے جلد نہایت آسانی کے ساتھ تباہ ہو جائیں!یہ کام اب با ضمیر یونیورسٹی اساتذہ اور غریب عوام کا ہے کہ وہ آپس میں ایک ہو کر اس ناپاک کھیل کو ٹھکرا دیں تاکہ غریب عوام کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو وڈیرہ شاہی اور نوکر شاہی کے اس کھیل سے پاک کیا جا سکے!

مزید :

کالم -