وہ دن جب بی بی سی نے ایسا اعلان کیا کہ پوری دنیا چکرا گئی اور آج بھی وہ دن سب یاد کرتے ہیں

وہ دن جب بی بی سی نے ایسا اعلان کیا کہ پوری دنیا چکرا گئی اور آج بھی وہ دن سب ...
وہ دن جب بی بی سی نے ایسا اعلان کیا کہ پوری دنیا چکرا گئی اور آج بھی وہ دن سب یاد کرتے ہیں

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) آج میڈیا اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ دنیا کے کونے کونے سے پل پل کی خبر لوگوں کو گھر بیٹھے مل رہی ہے۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ خبریں سننے کے لیے کوئی ٹی وی چینل یا ریڈیو کھولیں اور بلیٹن میں آپ کو خبروں کی بجائے صرف یہ ایک فقرہ سنائی دے کہ ”آج کوئی خبر نہیں ہے۔“یقینا آج ایسا ممکن نہیں مگر برطانوی نشریاتی ادارے کی 94سالہ تاریخ میں ایک دن ایسا بھی آ چکا ہے جب اس معتبر نشریاتی ادارے کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ اس کے پاس کوئی خبر نہیں ہے۔ یہ تاریخی دن آج سے 82سال قبل 18اپریل 1930ءکو آیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب رائٹرز جیسے عالمی خبررساں ادارے خبریں فراہم کرتے تھے اور بی بی سی انہیں ایڈٹ کرکے اپنے بلیٹن میں نشر کرتا تھا۔ اس سال بی بی سی نے اپنے سیوائے ہل میں واقع نیوز روم میں ”فل سروس“ نیوز ایجنسی ٹیپ مشینیں نصب کی تھیں اور اپنے ادارتی سٹاف میں دوگنا اضافہ کیا تھا۔

ان مشینوں کے ذرےعے حکومتی اداروں کی خبریں بی بی سی کے پاس آنے لگی تھیں جو زیادہ تر سرکاری اعلانات پر مشتمل ہوتی تھیں۔ یہ اعلانات عموماً کرسمس اور ٹریفک کی صورتحال کے متعلق ہوا کرتے تھے۔ یہ اعلانات اس قدر زیادہ ہوتے تھے کہ بی بی سی کو ان کے لیے الگ وقت مخصوص کرنا پڑا تاکہ اس کا سٹاف اصل خبروں پر توجہ مرکوز کر سکے۔لیکن حکومت کی طرف سے اصل خبروں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بی بی سی کے اس اقدام کے آڑے آ رہی تھی۔اسی صورتحال کے پیش نظر بی بی سی کو یہ اقدام اٹھانا پڑا۔ چنانچہ 18اپریل 1930ءکو جب لوگوں نے بی بی سی کا بلیٹن سننے کے لیے ریڈیو کھولا تو انہیں صرف یہ ایک فقرہ سنائی دیا ”آج کوئی خبر نہیں ہے۔“ اور اس کے بعد ریڈیو سے پیانوکی دھنیں بکھرنے لگیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس