گزشتہ ماہ3 سو سے زائد فلسطینیوں کو بیرون ملک سفرسے روک دیا گیا،رپورٹ

گزشتہ ماہ3 سو سے زائد فلسطینیوں کو بیرون ملک سفرسے روک دیا گیا،رپورٹ

رام اللہ (اے این این)اسرائیلی حکام کی جانب سے نام نہاد سیکیورٹی وجوہات کی آڑ میں فلسطینی شہریوں کے بیرون ملک سفر عائد ناروا پابندیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ جولائی کے دوران صہیونی حکام نے 308 فلسطینیوں کو بیرون ملک سفر سے روکا، جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی پولیس کا کہنا ہے کہ کاغذات اور سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود اسرائیلی حکام نے الکرامہ گذرگاہ سے اردن داخل ہونے والے308 فلسطینیوں کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔ ان میں سے بعض شہریوں کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہیں سفر سے کیوں روکا گیا ہے۔

فلسطینی پولیس کا کہنا ہے کہ عموما فلسطینی شہریوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بیرون ملک سفر سے روکا جاتا ہے۔گذشتہ مہینے کے دوران الکرامہ گذرگاہ سے 2 لاکھ 47ہزار فلسطینیوں کو دو طرفہ آمد ورفت کے لیے گذرنے کی اجازت دی گئی۔ اس دوران صہیونی فوجیوں نے درجنوں فلسطینیوں کو مشتبہ قرار دے کر گرفتار بھی کیا۔فلسطینی شہریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام کی جانب سے شہریوں کے بیرون ملک سفر پرعاید پابندیاں انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہیں اور اسرائیلی انتظامیہ فلسطینیوں کو بلیک میل کرنے اور انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے ان پرسفری قدغنیں عائد کر رہی ہے۔

مزید : عالمی منظر