ترکی، ناکام بغاوت کے بعد 82ہزار ملازمین کو برخاست کرنیکی تصدیق

ترکی، ناکام بغاوت کے بعد 82ہزار ملازمین کو برخاست کرنیکی تصدیق

انقرہ(اے این این) ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ پچھلے ماہ کی ناکام بغاوت کے بعد پانچ ہزار سرکاری ملازمین کو برخاست اور 77 ہزار کومعطل کیا جا چکا ہے۔انقرہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ جن پانچ ہزار سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے برخاست کیا جا چکا ہے ان میں سے تین ہزار کا تعلق ملک فوج سے تھا۔15 جولائی کو ہونی والی ناکام بغاوت 76597 سرکاری ملازمین کو باغیوں کے ساتھ رابطوں کے وجہ سے معطل کیا گیا اور ان میں سے 4897 کو ان کی ملازمتوں سے برخاست کیا جا چکا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ شبہ ہے کہ برخاست اور معطل کیے جانے والے ملازمین کا تعلق امریکہ میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولنکی تنظیم سے ہے۔ترک وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ امریکی نائب صدر جو بائڈن 24 اگست کو ترکی کے دورے پر آئیں گے۔ ترک وزیراعظم نے ایک بار پھر امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فتح اللہ گولنکو ترکی کے حوالے کرے۔وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ امریکہ سے بہتر تعلقات کا انحصار فتح اللہ گولن کے ترکی کے حوالے کرنے پر منحصر ہے اور اس معاملے پر بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ترکی میں امریکہ مخالف جذبات کے بڑھنے یا نہ بڑھنے کا انحصار فتح اللہ گولن کی حوالگی سے جڑی ہوئی ہے۔ترکی کے اخبار حریت کے مطابق ترک وزیر اعظم نے کہا کہ فتح اللہ گولن کی ترکی حوالگی کے معاملے پر امریکی موقف میں بہتری آ رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا 15 جولائی کو ہونی والی ناکام بغاوت 76597 سرکاری ملازمین کو باغیوں کے ساتھ رابطوں کے وجہ سے معطل کیا گیا اور ان میں سے 4897 کو ان کی ملازمتوں سے برخاست کیا جا چکا ہے۔ترک وزیر اعظم نے کہا کہ بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والوں 50 ہزار لوگوں کا اپنا کمیونیکشن نیٹ ورک تھا۔برطانوی خبر رساں ادارے روائٹر کے مطابق استبنول کے چیف پراسیکیوٹر نے امریکہ کو خط ارساں کیا ہے جس میں امریکہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ فتح اللہ گولن کو اپنی تحویل میں لے لے۔ترک حکومت کا دعوی ہے کہ گذشتہ ماہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے پیچھے امریکہ میں جلاوطنی اختیار کرنے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہے تاہم وہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ترک حکومت نے مقامی میڈیا کے ایسے 140 سے زیادہ ایسے ادارے بھی بند کر دیے ہیں جن پر امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے حامی ہونے کا شبہ تھا۔

مزید : عالمی منظر