جعلی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ، 6ماہ میں 1768میڈیکل سٹور سیل

جعلی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ، 6ماہ میں 1768میڈیکل سٹور سیل

 لاہور(خبرنگار) چیئر مین چیف منسٹر ٹاسک فورس برائے جعلی و غیر معیار ی ادویات اور پارلیمانی سیکرٹری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ صوبے سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے کاروبار کا خاتمہ اور عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنا نے کے لیے ٹھوس اقدامات جاری ہیں اور غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن بلا تفریق جاری رہے گا ۔خواجہ عمران نذیر نے گزشتہ 6ماہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتا یا کہ چیف منسٹر ٹاسک فورس برائے انسداد جعلی و غیر معیاری ادویات اور محکمہ صحت کے ڈرگ انسپکٹرز نے چھاپوں کے دوران 54753ادویات کے نمونہ جات ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو بھجوائے جن میں 437غیر معیاری جبکہ 29جعلی نکلے 6ماہ کے دوران 1768میڈیکل اسٹور سیل کئے گئے اور 158افراد کے خلاف FIRدرج کی گئیں ۔ چیئرمین ٹاسک فورس نے مزید بتا یا کہ 172کیسز پراونشل کوالٹی کنٹرول بورڈ جبکہ3397کیسزڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈز کو بھجوائے گئے انہوں نے بتایا کہ ادویات کے حوالے سے غیر قانونی اشتہار بازی کرنے والے65افراد کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ 1813افراد کے خلاف ڈرگ کورٹس کو مقدمات بھیجے گئے ۔ خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ ڈرگ کورٹس نے 1494کیسوں کا فیصلہ سنایا اور 6ماہ کے دوران غیر قانونی دھندے میں ملوث افراد کو 3کروڑ 88لاکھ 67ہزار روپے جرمانہ کیا گیا جبکہ گوجرنوالہ،لاہور ،بہاولپوراور راولپنڈی کی ڈرگ کورٹس سے جعلی و غیر معیاری ادویات کے کاروبار میں ملوث افراد کو 64سال اور 7ماہ کی سزائیں سنائی گئیں ۔ خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ ترمیم شدہ ایکٹ میں سزاؤں کو مزید سخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1