پنجاب میں فوج

پنجاب میں فوج
 پنجاب میں فوج

  

کون وطن کا دشمن ہو گا جو یہ چاہے گا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر پورے دل و جان کے ساتھ عمل درآمد نہ ہو، فوج آپریشن ضرب عضب کے ذریعے جو کامیابیاں حاصل کر رہی ہے اسے سول حکومتوں کی طرف سے پوری طرح سپورٹ نہ دی جائے مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا واقعی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تو اس کا جواب کچھ ایسا گورکھ دھندا ہے کہ آپ اسے جس کے حق یا مخالفت میں چاہے استعمال کر سکتے ہیں۔ میں بہت سارے دیگر سینئر صحافیوں کے ساتھ ایوان وزیراعلیٰ میں موجود تھا جہاں بنیادی طور پر مسنگ چلڈرن کے بارے بریفنگ دی جار ہی تھی، وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان بھی موجود تھے، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی سربراہ صبا صادق بھی، ہوم سیکرٹری اعظم سلیمان اوررانا مقبول کے ساتھ ساتھ سی سی پی او اور دیگر پولیس افسران بھی ، وہ یقین دلا رہے تھے کہ پنجاب کے کسی بھی شہر میں بچوں کو اغوا کرنے کے لئے کسی بھی مسلح گروہ نے حملہ نہیں کر رکھا، بچوں کو اغوا کرنے کے بعد ان کے اعضا نکالنے کی افواہیں بھی مکمل طور پر بے بنیاد ہیں کہ پانچ سال سے چھوٹے بچوں کے آرگن ٹرانسپلانٹ نہیں ہوتے اور اگر بڑے بچوں کو بھی اس مقصد کے لئے اغوا کیا جائے تو اغوا کرنے والوں کو کیسے علم ہو گا کہ جس بچے کو وہ اغوا کر رہے ہیں اس کا بلڈ گروپ کیا ہے، اس کا کراس میچ ہو گا یا نہیں اور پھر وہ اس ہسپتال میں کس طرح کلئیرنس ہو گی جہاں اعضا ٹرانسپلانٹ کرنے کی سہولتیں موجود ہوں۔ مجھے یہ جان کر بہت شرمندگی ہوئی کہ ایک چینل نے خود بچے کے اغوا کی خبر بنوائی۔ مجھے میڈیا کے لئے غیر ذمہ دار کا لفظ استعمال کرتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے مگر سوشل میڈیا میں پھیلائے گئے خوف و ہراس پر تو کوئی ایسا موزوں لفظ نہیں جو لکھا جا سکے اور وہ مہذب بھی ہو۔

آفیشل ٹاپک مسنگ چلڈرن تھے مگر رانا ثناء اللہ خان نیشنل ایکشن پلان پر سست عملدرآمد بارے ظاہر کئے گئے تحفظات پرجوابات سے بھی گریز نہیں کر رہے تھے ،میں نے پینسل انگلیوں میں گھمائی اور سوچا پنجاب حکومت کو میڈیا کا استعمال آ گیا ہے، ایک وقت تھا مجھے پوری دیانتداری کے ساتھ رانا ثناء اللہ پنجاب حکومت پرایک بوجھ محسوس ہورہے تھے مگرمیاں برادران نے ماڈل ٹاؤن اور فیصل آباد میں ہونے والے افسوس ناک واقعات پر بہت زیادہ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کے باوجود انہیں اپنی کشتی سے کسی بوجھ کی طرح اتار کر نہیں پھینکا، ایک شخص جس نے ان کی جلاوطنی کے دوران انتہائی بہادری کے ساتھ وفاداری نبھائی تو شریف خاندان نے بھی قرض چکا دیا، رانا ثناء اللہ مجھے سیاسی گاڑی کے اس ٹائر کی طرح لگ رہے ہیں جو گاڑی کا بوجھ اٹھائے، اسے دوڑائے پھرتا ہے مگر کسی سخت رستے پر اس کی ہوا نکل جاتی ہے، پھر گاڑی اس ٹائر کو اٹھاتی ہے ، پنکچر لگواتی، نکل جانے والی ہوا بھرواتی ہے اور ایک مرتبہ پھر وہی ٹائر گاڑی کو اڑائے پھرتا ہے۔ رانا ثناء اللہ خان کی ذات، فیصلوں اور پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگران کی بہادری ، وفاداری اور ثابت قدمی سے نہیں۔رانا ثناء اللہ خان اس تاثر کی نفی کر رہے تھے کہ پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہورہا، وہ اعداد و شمار پیش کررہے تھے کہ بہت سارے دہشت گرد پکڑے گئے، بہت ساروں کو سزائیں ہوئیں، پنجاب میں لاوڈ سپیکر پر نفرت آمیز مسلکی تقاریر پر مکمل قابو پا لیا گیا، صوبے میں ایسے ہی نفرت انگیز لٹریچر کے شائع کرنے والے چھاپہ خانے تک بند کر دئیے گئے۔ میں نے ایک روز قبل سندھ اور خیبرپختونخوا کے وزرائے داخلہ کا موقف بھی سنا تھا، ان کے پاس بھی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد بارے کافی اعداد وشمار تھے اور ایک بڑی دلیل یہ تھی کہ صوبوں میں قائم اپیکس کمیٹیوں میں وزرائے اعلیٰ ہی نہیں ہوتے بلکہ متعلقہ کور کمانڈر بھی ہوتے ہیں، ہماری خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ بھی ہوتے ہیں اور اگر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تویقینی طور پر یہ معاملہ اپیکس کمیٹیوں کے اجلاسوں میں اٹھایا جا نا چاہئے ، سستی اورناکامی کے ذمہ داروں کو وہاں طلب کر کے ان سے وضاحت طلب کرنی چاہئے کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں نتائج کیوں نہیں دے رہے۔ یقینی طور پر ان کے پاس جواب موجود ہوں گے اور انہی جوابوں کی روشنی میں ان کو درپیش مسائل یا کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے گا کہ یہ حساس کام کسی سویپنگ سٹیٹمنٹ کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔

ہمارے بہت سارے دوست کہتے ہیں کہ پنجاب میں رینجرز یا فوج کیوں نہیں بلائی جاتی، ان کی نظر میں پنجاب کے حالات سند ھ اور قبائلی علاقوں سے بھی برے ہیں کیونکہ انہوں نے یہاں سیاسی حکومت کو ٹف ٹائم دینا ہوتا ہے۔کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی کے بعدکومبنگ آپریشن کی اصطلاح زبان زد عام ہو گئی ہے اور یہی سوال پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر قانون سے تھا کہ کیا یہاں کومبنگ آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ رانا ثناء اللہ خان نے سب سے پہلے کومبنگ آپریشن کی وضاحت کی کہ یہ کیا ہوتا ہے، اس میں ایک علاقے کا پوری طرح محاصرہ کر لیا جاتا ہے پھر مشکوک اور مطلوب افراد کو قابو کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں دو برسوں سے کومبنگ آپریشن جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا پنجاب میں 1098 کومبنگ آپریشنز کئے گئے، ان میں سے 898 آپریشنز پولیس اور سی ٹی ڈی کے تھے جبکہ 190 آپریشنوں میں فوج، رینجرز، آئی ایس آئی اور ایم آئی ساتھ تھی۔ انہوں نے مزید اعداد وشمار دئیے کہ ان آپریشنوں میں345 ریکوریاں ہوئیں اور67 افراد کو نظر بند کیا گیا۔میں نہیں جانتا کہ پنجاب میں فوج اور رینجرز کے آپریشنوں سے پہلے اس قسم کی اجازت لی گئی یا نہیں جس قسم کی اجازت کا شور ہر مرتبہ سندھ میں مچ جاتا ہے۔ یوں بھی ہماری اسمبلیاں جماعتی بنیادوں پر کام کرتی ہیں اور اگر اس صوبے کی سیاسی جماعت کے فیصلہ سازوں کو اعتراض نہ ہو تو انہیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

رانا ثناء اللہ خان نے جو اعداد وشمار سینئر صحافیوں کے سامنے رکھے وہ یقینی طور پر درست ہوں گے اور انہیں ہمارے اعتراض کرنے والے دوست کاونٹر چیک بھی کر سکتے ہیں۔ہمارے حکمران دوست چاہے وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس کو جواز فراہم کرتے رہیں کہ ان کی پریس کانفرنس، کوئٹہ میں لیڈر آف دی اپوزیشن خورشید شاہ اور اعتزا ز احسن کی طرف سے وزارت داخلہ کی کارکردگی کو جنگل میں بندر کی چھلانگیں لگانے جیسی مثالیں دینے کے جواب میں ،مجبور ہو کرکی گئی تھی اور پیپلزپارٹی نے دلیل کے ساتھ نہ اس بات کو رد کیا کہ ان کی طرف سے ڈاکٹر عاصم اورماڈل ایان کی ضمانت کی صورت میں دوستی کی پیش کش کی گئی تھی اور نہ ہی اس بات کی تردید کی کہ بلاول بھٹو زرداری اور ایان کے ائیر ٹکٹ ایک ہی اکاونٹ سے جاتے تھے مگر ان کے باوجودیہ پریس کانفرنس تاریخ میں اپنا جواز مانگے گی جس میں نیشنل ایکشن پلان میں سستی یا ناکامی جیسے اہم ترین موضوع کی ذمہ داری فٹ بال کی طرح ایک سے دوسرے کی طرف ٹھوکریں مار کر پھینکی جاتی رہی۔ اپیکس کمیٹیوں کی صورت میں ہماری ایجنسیاں بھی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر نظر رکھتی ہیں، اسی طرح وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ساتھ کوارڈی نیشن رکھے، صوبوں کی ناکامی صرف ان کی اپنی نہیں بلکہ ہم سب کی بحثیت قوم ناکامی ہے جبکہ ودسری طرف ہمارے صوبے کسی قسم کی ناکامی کا الزام قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، رانا ثناء اللہ خان ہی نہیں ہر صوبائی وزیر داخلہ کے پاس عملدرآمد کے حوالے سے اعداد و شمار کی ایک لمبی چوڑی لسٹ ہے۔

باقی باتیں تو ہوتی رہیں گی مگر پنجاب حکومت کے ذمہ داروں نے گذشتہ روز ایوان وزیراعلیٰ میں یہ واضح کر دیا کہ پنجاب کے کسی بھی شہر میں بچوں کو اغوا کرنے والا کوئی منظم گروہ موجود نہیں جس نے باقاعدہ طور پر حملہ کر رکھا ہو اور دوسرے یہ کہ پنجاب کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں دہشت گردی کی روک تھام کے لئے ایک ہزار سے زائد آپریشنوں میں سے تقریباپندرہ سے بیس فیصد میں فوج اور اس کے دیگر ادارے بھی شامل تھے۔ اب مزید کیا مطالبہ کیا جائے کہ پنجاب میں تو فوج موجود ہے ، آپریشنزبھی کررہی ہے اور اس پر کوئی چیں چاں چوں بھی نہیں ہے۔

مزید : کالم