بھارت کا مسئلہ کشمیر پر مذاکرات سے انکار ، پاکستان پر سنگین الزمات عائد

بھارت کا مسئلہ کشمیر پر مذاکرات سے انکار ، پاکستان پر سنگین الزمات عائد

 بھارت نئی دہلی(اے این این،این این آئی) بھارت نے پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر خصوصی مذاکرات کی تجویز مستر د کرتے ہوئے مجموعی مذاکرات کیلئے پیشگی شرائط اور سنگین الزامات عائد کئے ہیں ،بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کے لئے پاکستان کو دہشتب گردی کی معاونت بند کر نا ہوگی، پاکستان کوسرحد پار سے اشتعال انگیزی کو روکنا ہو گا،حافظ سعید اور سید صلاح الدین کی حمایت ترک کرنا ہوگی،پڑوسی ملک مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو ممبئی اور پٹھان کوٹ واقعات کی تحقیقات کرے،ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے سرتاج عزیز کی اس تجویز کو مسترد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان بھارت سے کہے گا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے الگ سے اور خصوصی مذاکرات کئے جائیں اور اس مقصد کے لئے سیکرٹری خارجہ بھارتی ہم منصب کو خط لکھیں گے۔وکاس سواروپ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی گئی تو ہم اس کا خیر مقدم کرینگے لیکن بات چیت کسی ایک ایشو کے بجائے تمام تصفیہ طلب معاملات پر ہو گی اور مذاکرات کی بحالی کیلئے پاکستان کو بھی کچھ کرنا ہوگا۔ترجمان نے مذاکرات کیلئے پیشگی شرائط کے ساتھ پاکستان پر سنگین الزامات عائد کئے اور کہا کہ بھارتی پاکستان کے ساتھ تمام حل طلب مسائل پر بات کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت ضروری ہے کہ پاکستان سرحد کے پار سے بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کی معاونت بند کرے۔انھوں نے کہا کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پاکستان سرحد کے پار سے ہونے والی اشتعال انگیزی اور دہشت گردی کو روکے۔وکاس سوروپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ مذاکرت شروع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان بین الااقوامی طور پر تسلیم شدہ حافظ سعید اور سید صلاح الدین جیسے دہشت گردوں کی حمایت کرنا بند کرے اور ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کی تحقیقات کرے۔دوسری جانب بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔انڈین ریاست جھاڑ کنڈ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی کو پاکستان سے فروغ ملتا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر بات کرنے کے لیے پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔مختلف ملکوں میں تعینات پاکستانی سفیروں کی کانفرنس کے بعد سرتاج عزیز نے کہا تھاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات شروع نہ کرنے کی پالیسی جنوبی ایشیا میں امن کے منافی ہے۔پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے انڈین پارلیمان سے خطاب میں کہا تھا کہ بھارت صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں اس سے مذاکرات کرے گا اور جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کے ساتھ صرف سرحد پار دہشت گردی ،ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں اور متعلقہ ایشوز پر بات ہو سکتی ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کو چاہئیے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ بند کرے۔بھارتی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بھارتی وزیرخارجہ نے کہاکہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف کوئی اقدامات نہیں کیے اسلئے اس کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہمارے لئے مرکزی چیز ہے۔ ہم ماضی کی طرح دہشت گردی کی حمایت اور ان کی مدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے بغیر مذاکرات کو تیار ہیں۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے سرتاج عزیز کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ بند کرے۔ پاکستان بھارت تعلقات اور متعلقہ معاملات پر بات چیت کا خیرمقدم کریں گے۔

مزید : صفحہ اول