احتساب کا نعرہ لگانے والوں کے دائیں بائیں کرپٹ ترین اور قرض چور کھڑے ہیں ، شہباز شریف

احتساب کا نعرہ لگانے والوں کے دائیں بائیں کرپٹ ترین اور قرض چور کھڑے ہیں ، ...

 لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پوری قوم یوم آزادی کی تقریبات اس وقت منا رہی ہے جب سانحہ کوئٹہ کی وجہ سے قوم رنجیدہ ہے اور آج 20 کروڑ عوام کی دعائیں اور ہمدردیاں شہداء کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔ قیام پاکستان کیلئے لاکھوں جانثاروں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ور آگ و خون کے دریا عبور کئے۔ لاکھوں شہداء کی روحیں آج بھی منتظر ہیں کہ پاکستان کب صحیح معنوں میں قائد ؒ اور اقبالؒ کا پاکستان بنے گا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں لاکھوں مسلمان 23 مارچ 1940 کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے تھے جن میں تمام طبقہ فکر کے علمائے کرام، محنت کش، دانشور، وکلاء اور دیگر لوگ شامل تھے۔ سب کا مقصد ہندو اور سامراج سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ مسلمانوں نے شاندار اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرکے الگ وطن حاصل کر لیا لیکن آج اتحاد کی ان صفوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور ہر کوئی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا چاہتا ہے اور بندوق کی نوک پر اپنے عقائد دوسروں پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ کیا یہی قائدؒ اور اقبالؒ کا خواب تھا۔ کیا شہداء نے اسی لئے اپنی جانیں قربان کی تھیں، یقیناًنہیں۔ اس قوم کو آج بھی ’’ابراہیم‘‘ چاہیئے، کوئی ایسا قائد چاہیئے جو کرپشن کے بتوں کو پاش پاش کرسکے۔ جہالت، غربت کا خاتمہ کرے اور امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی تقسیم کو کم کر سکے اور قومی وسائل کی لوٹ مار کو روک سکے۔ اشرافیہ اور عام آدمی میں فرق نہ رہنے دے۔ یہ تھا پاکستان بنانے کا اصل مقصد۔ آج کا پاکستان قائدؒ کا پاکستان ہے، نہ اقبالؒ کا پاکستان۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار یوم آزادی کے موقع پر حضوری باغ میں منعقدہ خصوصی تقریب سے اپنے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ناامیدی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں مل کر ناامیدی کو دریابرد کر دینا چاہیئے اور آج وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت اسی پاکستان کو بنانے کیلئے پرعزم ہے جس کا خواب قائدؒ اور اقبالؒ نے دیکھا۔ پاکستان اس لئے بنا تھا کہ یہاں پر محنت، امانت، دیانت سکہ رائج الوقت ہوگا۔ دھونس، دھاندلی کرپشن اور اقرباپروری کا خاتمہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں من حیث القوم اور لیڈرشپ کے طور پر کیا ہم نے اپنے تقاضے پورے کئے ہیں تو اس کا جواب نہیں ہوگا۔ سیاستدنوں، ججوں، جرنیلوں، تاجروں، اشرافیہ اور دیگر مراعات یافتہ طبقے نے بہتی گنگا میں اشنان کیا ہے۔ اس ملک میں چار مارشل لاء لگے جس سے ملک و قوم کا بے پناہ نقصان ہوا۔ سیاسی حکومتیں بھی آئیں لیکن اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن ادا نہیں کیں۔ یہ وقت الزام تراشی یا دشنام طرازی کا نہیں، یہ وقت احتساب کا ہے۔ ماضی میں کی گئی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ہی آگے بڑھنا ہوگا اور پاکستان تبھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں جو بے پناہ کاوشیں ہو رہی ہیں اس کا نہ صرف میں خود بلکہ 20 کروڑ عوام بھی گواہ ہیں۔ ماضی کے ادوار میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور بجلی بحران پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس سے پاکستان کو بے پناہ نقصان ہوا اور ملک میں غربت اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور ہمیں اغیار کے سامنے جھکنا پڑا۔ معاشی طور پر آزاد نہ ہونے تک حقیقی آزادی بے معنی ہوگی۔ کشکول توڑنے اور اغیار کے آگے ہاتھ پھیلانا چھوڑنے تک اصل آزادی نہیں مل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سب کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ آج احتساب کی باتیں وہ کرتے ہیں جو سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ احتساب کا نعرہ لگانے والوں کے دائیں بائیں وہ لوگ کھڑے ہیں ہیں جنہو ں نے اس قوم کے اربوں کھربوں روپے معاف کرا رکھے ہیں اور جنہوں نے اس شہر میں قبضوں کی داستانیں چھوڑی ہوئی ہیں۔ عام آدمی بالکل بے قصور ہے چونکہ اس کا حق چھینا گیا ہے اور چھیننے والے عوام کے دشمن ہیں۔تھانے کچہری میں آج بھی انصاف نہیں ملتا۔ یہ وقت حساب کا ہے، یہ وقت احتساب کا ہے۔ آج کے دن ہم عہد کرلیں کہ ہم وطن عزیز کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر دیں گے تو میں اپنے خون سے لکھ کر دینے کیلئے تیار ہوں کہ پاکستان چند برس میں حقیقی معنوں میں قائدؒ اور اقبالؒ کا پاکستان بن جائے گا اور ہمارے دوستوں کے ساتھ دشمن بھی سلام کریں گے۔ تقریب سے خواجہ احمد حسان اور ایڈمنسٹریٹر لاہور کیپٹن (ر) عثمان یونس نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں چین و ایران کے قونصل جنرلز، صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، اعلیٰ سول و فوجی حکام اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے یوم آزادی کے موقع پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے مزار پر حاضری دی۔ وزیراعلیٰ نے مزار اقبالؒ پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے دعا کی۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے پاک افواج کے افسروں اور جوانوں، پولیس حکام و اہلکاروں اور عام شہریوں کے درجات کی بلندی اور سانحہ کوئٹہ کے شہداء کے ایصال ثواب کیلئے بھی دعا کی۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے مزار اقبالؒ پر رکھی گئی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کئے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ نے شاہی قلعہ کے تاریخی عالمگیری گیٹ پر پرچم کشائی کی۔پرچم کشائی کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے افغانستان کے علاقے لوگر سے بحفاظت وطن واپس آنے والے حکومت پنجاب کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹس اور دیگر عملے نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے بحفاظت وطن واپسی پرپائلٹس، عملے اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہیلی کاپٹر کے پائلٹس اور دیگر عملے کی محفوظ واپسی کسی معجزے سے کم نہیں ہے اور ہم عملے کی بحفاظت وطن واپسی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر آپ کی بحفاظت وطن واپسی نے آزادی کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا ہے۔ آپ کی وطن واپسی آپ کے اہل خانہ اور پوری قوم کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو نئی زندگی دی ہے اور اس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کے عملے نے نامساعد حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور حوصلے سے کام لیا۔ وزیراعلیٰ نے ہیلی کاپٹر کے عملے کو سیلاب اور دیگر آفات میں خدمات سرانجام دینے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بحفاظت واپسی انہی خدمات کا نتیجہ ہے ۔ پائلٹس اور عملے نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وطن واپسی پر وزیراعظم نوازشریف،وزیراعلیٰ شہبازشریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں پر شکرگزار ہیں اوربحفاظت واپسی پر وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی کوششوں پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بحفاظت واپسی شہبازشریف کی پنجاب کے غریب عوام کی خدمت کا ثمر ہے۔آپ نے ہماری غیر موجودگی میں ہمارے اہل خانہ سے ملاقات کرکے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ پائلٹس کے اہل خانہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف اپنے فرض سے بڑھ کر کام کرتے ہیں، اسی لئے ہمیں پورا یقین تھا کہ ہمارے گھر والے ضرور بحفاظت وطن واپس پہنچیں گے۔ ہیلی کاپٹر کے پائلٹس نے وزیراعلیٰ کو واقعہ کی پوری تفصیلات سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں چیف پائلٹ کرنل (ر) صفدر حسین، پائلٹ کرنل (ر) شفیق الرحمن، کوپائلٹ میجر (ر) صفدر، فلائٹ انجینئر کرنل (ر) ناصر، کریو انچارج حوالدار (ر) کوثر اور ان کے اہل خانہ شامل تھے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری شمائل احمد خواجہ اور سیکرٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلیمان بھی اس موقع پرموجود تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ 22.4 کلومیٹر طویل یہ سڑک ایک برس میں مکمل ہوگی جس پر 6 انٹرچینج ، 18 پل اور 19 سب ویز بھی بنائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر لاہور رنگ روڈ کے جنوبی حصے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب پاکستان اور پنجاب کو معاشی لحاظ سے مستحکم کرنے کی جانب اقدام ہے اور اس منصوبے کی تکمیل سے لاہور اور پنجاب میں معاشی و سماجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے میں ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد افضل کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔1998 میں جب میں پہلی بار صوبے کے عوام کا خادم منتخب ہوا تو ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کو انفراسٹرکچر کے منصوبوں کیلئے پہلی بار پنجاب میں متعارف کرایا۔اس زمانے میں انفراسٹرکچر کے منصوبو ں کے حوالے سے نجی شعبہ کی کارکردگی بہت مایوس کن اور تکلیف دہ تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ 18 سال پہلے کئے گئے فیصلے کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اگرچہ بعض سابق ادوار میں ریورس گئیر لگا لیکن اس کے باوجود معیار، محنت، امانت اور شفافیت کے نئے کلچر کو متعارف کرایا۔ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کے باعث مقابلے کی شاندار فضا پیدا ہوئی۔ 1998 میں گلبرگ مین بیلوارڈ کی سڑک کو ایف ڈبلیو او نے تعمیر کیا جو 18 برس تک چلتی رہی۔ اب حال ہی میں سگنل فری کوریڈور کے باعث اس سڑک کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔18 برس قبل بننے والی اس سڑک میں محنت، امانت اور دیانت کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ رنگ روڈ کے جنوبی حصے کی تعمیر کا منصوبہ شفافیت اور کوالٹی کے لحاظ سے بین الاقوامی معیار کا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں ماضی میں منصوبے غیرمعمولی تعطل کا شکار رہے لیکن ہماری حکومت نے کوالٹی کو یقینی بناتے ہوئے منصوبوں کو مقررہ مدت یا اس سے بھی پہلے مکمل کرنے کا کلچر متعارف کرایا ہے۔انہوں نے کہا کہ میجر جنرل محمد افضل نے جب سے ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں اس ادارے کو چارچاند لگا دیئے ہیں۔ میں ڈی جی ایف ڈبلیو او میجر جنرل محمد افضل، ان کی پوری ٹیم، چیئرپرسن لاہور رنگ روڈ اتھارٹی کمشنر عبداللہ سنبل اور ان کی ٹیم کا بہت شکرگزار ہوں جن کی کاوشوں کے باعث اس منصوبے کا آج سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، خواجہ احمد حسان، متعلقہ سرکاری افسران اور ایف ڈبلیو او کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

شہباز شریف

مزید : صفحہ اول