نئے آرمی چیف کا انتخاب، وزیر اعظم کی خصوصی دلچسپی ، وقت سے پہلے اعلان متوقع

نئے آرمی چیف کا انتخاب، وزیر اعظم کی خصوصی دلچسپی ، وقت سے پہلے اعلان متوقع

لاہور (خصوصی رپورٹ)وزیر اعظم نواز شریف کے پاس آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے عہدوں پر تقرری کیلئے چار آپشنز موجود ہیں۔آرمی چیف کے انتخاب کے عمل میں پیچیدگیوں کے باوجود یہ کہا جارہا ہے کہ نواز شریف میں اس حوالے سے خاصی دلچسپی پیدا ہوچکی ہے۔مئی 2013 میں انتخابات جیتنے کے بعد نواز شریف نے سب سے پہلا کام یہ کیا تھا کہ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں سے صلاح مشورے شروع کردیے کہ اگلا آرمی چیف کس کو ہونا چاہیے حالانکہ اس وقت انہوں نے عہدے کا حلف بھی نہیں اٹھایا تھا اور اس وقت کے آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں چھ ماہ باقی تھے۔اس وقت نواز شریف کے ایک قریبی ساتھی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ ' یہ بات ملحوظ خاطر رکھیں کہ ماضی میں سینیارٹی کو بالائے طاق رکھنے کا انجام کیا ہوچکا ہے، آرمی چیف کے عہدے کی طاقت کو نظر انداز نہ کریں اور اپنا بندہ والی ذہنیت کو ختم کریں۔'یہ مشورہ اس نظریے پر مبنی تھا کہ جیسے ہی ایک جنرل آرمی چیف کا عہدہ سنبھالتا ہے وہ اس قدر جذباتی ہوجاتا ہے کہ اپنی انفرادی حیثیت کھو دیتا ہے۔2013 میں آرمی چیف کی تقرری کے معاملے میں شامل قریبی افراد کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے اس مشورے کو مانا اور سینیارٹی کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہوئے جنرل راشد محمود کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) اور جنرل راحیل شریف کو چیف آف آرمی اسٹاف منتخب کیا۔اس وقت یہ سمجھا جارہا تھا کہ سینئر ترین جنرل ہاورن اسلم کو بائی پاس کیا گیا ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے مشورہ دیا تھا کہ انہیں عہدہ نہ دیا جائے۔جنرل راحیل شریف کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے حکومت نے اب تک باضابطہ طور پر غور شروع نہیں کیا لیکن اس معاملے سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے سال کے آغاز سے ہی اس معاملے پر مشاورت شروع کررکھی ہے۔جنوری میں جنرل راحیل شریف کی جانب سے دیے گئے اْس بیان کو جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ مقررہ وقت پر ریٹائر ہوجائیں گے اندورنی معاملات سے واقف لوگ پس پردہ سیاسی چالبازی کا شاخشانہ قرار دیتے ہیں۔جنرل راحیل کا یہ بیان سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بھی موضوع بحث بن گیا تھا اور آرمی چیف کو مدت ملازمت توسیع دینے کے حامیوں اور مخالفین کا سیلاب امڈ آیا تھا۔یہ بھی الزام عائد کیا جارہا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے مستقبل کے حوالے سے میڈیا اور بینرز کے ذریعے نئی بحث شروع کرنے کے پیچھے بھی وہی سیاسی چالبازی ہے۔جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت ختم ہونے تک اگر کوئی ڈرامائی صورتحال پیدا نہ ہوئی تو ممکن ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اگلے آرمی چیف کے نام کا اعلان وقت سے پہلے ہی کردیں تاکہ جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت کے آخری مہینوں میں ریٹائرمنٹ موڈ پر چلے جائیں جیسا کہ انہوں نے جنرل آصف کی تعیناتی کے وقت کیا تھا۔پاک فوج کے سینئر افسران کی فہرست بہت حد تک واضح ہے، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات سینیئر ترین افسر ہیں اور ان کے بعد کور کمانڈر ملتان، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد، کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے اور انسپکٹرجنرل ٹریننگ اینڈ ایویلوئیشن لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجودہ ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل زبیر اور جنرل اشفاق کے درمیان دو اور جنرلز بھی ہیں ، ایک ہیوی انڈسٹریل کمپلیکس ٹیکسلا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین اور دوسرے ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان۔تاہم یہ دونوں افسران آرمی چیف کے عہدے کیلئے تکنیکی طور پر اہل نہیں کیوں کہ انہوں نے کسی کور کی کمانڈ نہیں کی ہے۔اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد جو اس وقت اقوام متحدہ میں ملٹری ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں وہ پہلے ہی توسیع پر ہیں اور وہ بھی مزید پروموشن کے اہل نہیں۔جو چار جنرلز آرمی چیف کے عہدے پر ترقی پانے کے اہل ہیں ان تمام کا تعلق پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 62 ویں لانگ کورس سے ہے۔یہ صورتحال وزیر اعظم نواز شریف کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ بغیر کسی اکھاڑپچھاڑ کے نئے آرمی چیف کا تقرر کرسکتے ہیں۔تاہم ان چاروں جنرلز کا فوج میں ارتقائی سفر ایک دوسرے سے مختلف رہا ہے۔جنرل مشرف کے بعد آرمی کے تمام فور اسٹار جنرلز جن میں جنرل طارق مجید، جنرل خالد شمیم وائیں، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جنرل راشد محمود اور جنرل راحیل شریف شامل ہیں، ان تمام کا تعلق انفینٹری سے تھا۔جنرل پرویز مشرف آخری فور اسٹار جنرل تھے جن کا تعلق آرٹلری سے تھا اور فوج کے اس یونٹ کو عام طور پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فوج کی شمولیت کے حوالے سے وابستہ کیا جاتا ہے۔تاریخی اعتبار سے آخری 14 فور اسٹار جنرلز میں سے 9 نے چیف آف جنرل اسٹاف کی حیثیت سے فرائض انجام دیے جو آرمی چیف کے بعد فوج کا معتبر ترین عہدہ ہے۔اس بار موجودہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل زبیر اور سابق چیف آف جنرل اسٹاف جنرل اشفاق دونوں ہی دو فور اسٹار عہدوں کیلئے میدان میں ہیں۔چیئرمین جوانٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی)چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی اسی روز خالی ہوجائے گا جس روز جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت ختم ہوگی اور یہ عہدہ اگلے چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری میں پیچیدگی پیدا کرنے والا بڑا عنصر ہے۔اصولی طور پر تو سی جے سی ایس سی کا عہدہ تینوں مسلح افواج آرمی، نیوی اور ایئرفورس کے سینئر ترین فور اسٹار جنرل کو ملنا چاہیے تاہم نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے قیام کے بعد سے آرمی کو اس عہدے کیلئے فوقیت حاصل ہوگئی ہے کیوں کہ جوہری کمانڈ اور اسٹریٹجک اثاثوں کا کنٹرول آرمی ہی سنبھالتی ہے۔سی جے سی ایس سی این سی اے کی ڈیپلائمنٹ کمیٹی کا ڈپٹی چیئرمین ہوتا ہے جبکہ اس کا سربراہ وزیر اعظم ہوتا ہے۔یہ عہدہ رسمی ہی سہی لیکن اصولی طور پر آرمی چیف کے عہدے سے بڑا ہوتا ہے لہٰذا اس عہدے پر سینئر جنرل کو تعینات کیا جانا چاہیے۔ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ حکومت کسی جونیئر جنرل کو سی جے سی ایس سی مقرر کرکے سینیارٹی کی تربیت کو نہیں بگاڑے گی۔آرمی چیف اور چیف آف جنرل اسٹاف کمیٹی کے عہدوں پر تقرری کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب وزیر اعظم وزارت دفاع کے توسط سے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) سے چھ سر فہرست لیفٹیننٹ جنرلز کی تفصیلات پر مبنی دستاویز طلب کرتا ہے۔اس دستاویز میں امیدواروں کی اہلیت کے حوالے سے نکات درج ہوتے ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کی جانب سے کوئی باضابطہ سفارش نہیں ہوتی۔قانون کے تحت اگر کوئی شخص آرمی چیف کے عہدے کیلئے سفارش کرسکتا ہے تو وہ ہے وزیر دفاع تاہم موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف فوج کے معاملات سے دور نظر آتے ہیں اور توقع یہی ہے کہ وہ خود کو نئے آرمی چیف کی تقرری کے عمل سے بھی علیحدہ رکھیں گے۔اس کے بعد وزیر اعظم متوقع امیدواروں کے حوالے سے آرمی چیف سے ون آن ون مشاورت کرتا ہے۔اس حوالے سے جب ایک ریٹائرڈ جنرل سے پوچھا گیا کہ جنرل راحیل شریف کی ترجیح کیا ہوگی تو انہوں نے کہا کہ 'جنرل راحیل شریف اپنی سفارشات دے کر وزیر اعظم کو سنیارٹی لسٹ تبدیل کرنے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہیں گے۔'وزیر اعظم کے قریب سمجھے جانے والے ایک سیاستدان کا یہ موقف ہے کہ آرمی چیف کے لیے موزوں امیدوار کا انتخاب کرتے ہوئے نواز شریف ان فوجی افسران کے ساتھ اپنے ورکنگ ریلیشن کا جائزہ ضرور لیں گے جن سے امور کی انجام دہی کے دوران ان کی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ تقرری سے قبل آرمی چیف کے عہدے کے امیدواروں کا سیاسی اتار چڑھاؤ کے دوران رد عمل اور خاص طور پر 2014 کے دھرنے کے دوران ان کا موقف کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔اس بات کو بھی مد نظر رکھا جائے گا کہ جب دھرنے کے دوران جنرل راحیل شریف پر 'کچھ کرنے' کیلئے دباؤ بڑھا تو بعض کور کمانڈرز نے انہیں کچھ نہ کرنے کا مشورہ دیا اور کہا جارہا ہے کہ اس حوالے سے نواز شریف انٹیلی جنس رپورٹس پر بھروسہ کریں گے۔آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل کے دوران امیدواروں کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اور خاص طور پر ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے خیالات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔آگلے آرمی چیف کو قبائلی علاقوں میں جاری آپریشنز سے فوجی انخلاء کی اہم ذمہ داری بھی نبھانی پڑسکتی ہے کیوں کہ اس طویل ترین انسداد دہشتگردی آپریشن کے دوران آرمی کے کئی انفینٹری یونٹس ایسے بھی ہیں جو ان علاقوں میں تین بار تعینات ہوچکے ہیں۔فوجی افسران کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے فوجی دستوں کی پیشہ وارانہ صلاحیتیں اور چستی متاثر ہورہی ہے۔امیدوارلیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات کا تعلق آرٹلری سے ہے اور وہ حاضر سروس چیف آف جنرل سٹاف ہیں، تھری سٹار جنرل کی حیثیت سے ماضی میں وہ سٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں جو کہ این سی اے کا سیکریٹریٹ ہے۔اس کے علاوہ وہ بہاولپور کے کور کمانڈر بھی رہ چکے ہیں لہٰذا وہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے عہدے کیلئے آئیڈیل انتخاب ہیں جس کے پاس جوہری فورسز اور اثاثوں کا مکمل اختیار ہوتا ہے۔

نیاآرمی چیف

مزید : صفحہ اول