اندرونی وبیرونی دشمن سے سرحدوں کوبچاناہوگا،ظہیرالدین خان

اندرونی وبیرونی دشمن سے سرحدوں کوبچاناہوگا،ظہیرالدین خان

لاہور( نمائندہ خصوصی) آزادی قدرت کی وہ نعمت ہے دنیا میں جس کا کوئی نعم البدل نہیں، پاکستان آج لاتعداد اندرونی و بیرونی سازشوں اور بحرانوں کا شکار ہے ، چھپے ہوئے اور اعلانیہ دشمن پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو بری نگاہ سے دیکھ رہے ہیں آزمائش اور امتحان اس گھڑ ی میں پاکستان مسلم لیگ کی خالق جماعت کی حیثیت سے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم یوم آزادی کی تقریبات کو شایان شان اور جوش و خروش سے مناکر نئی نسل کو آزادی کی نعمت سے آگاہ کریں ۔ان خیالات کا اظہار سابق اپوزیشن لیڈر و مسلم لیگی راہنما چوہدری ظہیرالدین خان نے مسلم لیگ ہاؤس میں پرچم کشائی کے بعد یوم آزادی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب سے میاں محمد منیر، خدیجہ فاروقی ایم پی اے،ذوالفقار پپن، انجینئر شہزاد الہٰی، سجاد بلوچ،شیخ عمر حیات،نور صمند بھٹی نے بھی خطاب کیا۔ظہیرالدین خان نے کہا کہ موجودہ نااہل حکمرانوں کی بدولت ملک میں مزدور،اساتذہ، کسان، طالبعلم ،ڈاکٹر،پیرامیڈیکل سٹاف سمیت دیگر طبقے اپنی محرومیوں کے باعث سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں ۔پنجاب میں بچے اغوا ء اور خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام متحد ہوجائیں اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی لا کر ملک کو صحیح معنوں میں آزاداور خودمختار ریاست بنائیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و سینیٹر کامل علی آغانے کہا کہ ہمیں یوم آزادی کے موقع نظم ،تنظیم ،اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن کابازار گرم ہے ایک اور سیکنڈل سامنے آیا ہے کہ قطر سے ایل این جی کی درآمد میں کمیشن لیکر لندن میں 7ارب سے ایک اور فلیٹ خرید لیا گیا ہے۔راجہ محمد بشارت نے پرچم کشائی پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کے خاتمہ اور دہشت گردی کے خلاف ہمیں متحد ہونا پڑے گا نواز شریف کے اقتدار میں رہتے ہوئے کرپشن کی منصفانہ تحقیقات ممکن نہ ہے ۔اجلاس میں سینیٹر کامل علی آغا نے قرارداد پیش کی کہ آج کا یہ اجلاس سیکیورٹی ایجنسیوں خصوصا افواج پاکستان کے ساتھ دامے درمے سخنے اتحاد اور ان کی مدد کا اعلان کرتا ہے ۔اجلاس کے آخر میں سینیٹر کامل علی آغا نے سانحہ کوئٹہ میں صحافیوں اور وکلاء سمیت درجنوں افراد کی شہاد ت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کی روح کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کروائی اور ان کے درجا ت کی بلندی کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔

مزید : صفحہ آخر