دہشت گردی: پس چہ باید کرد (2)

دہشت گردی: پس چہ باید کرد (2)
 دہشت گردی: پس چہ باید کرد (2)

  

میرے بھانجے کو اپنے کپڑے گردو غبار سے بچانے کا خبط ہے۔وہ گرمیوں میں بھی ایک جیکٹ پہن کر موٹر سائیکل پر کہیں آتا جاتا ہے۔ جون کی گرمی میں جب وہ جیکٹ پہنے ہوئے ایک بینک میں گیا، دروازے پر متعین گارڈ نے اس گرمی میں جیکٹ کو ہر گز مشکوک نہ سمجھا اور اسے ہاتھ لگائے بغیر اندر جانے دیا۔ اگر شجاع خانزادہ کے سیکیورٹی گارڈز ہر آنے والے شخص کی پوری طرح ٹٹول کر سکریننگ کرتے تو آج خود بھی زندہ ہوتے اور شجاع خانزادہ کی زندگی بھی بچ سکتی تھی۔سڑکوں پر پولیس کی چیک پوسٹیں بھی برائے نام ہیں۔ ان مقامات پر سڑک کی چوڑائی کم کر دی گئی ہے اور یہاں سے صرف ایک گاڑی ایک وقت میں گزر سکتی ہے، لیکن ڈیوٹی پر متعین عملہ کسی گاڑی کے اندر جھانکنے، کسی کو تیز نظروں سے دیکھنے تک کی زحمت نہیں کرتا۔ گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر کی چیکنگ کا توخیر سے ان چیک پوسٹوں پر کوئی نظام ہی نہیں ہے۔ ایک روز مَیں نیو یارک میں ایسی چیک پوسٹ سے گزر رہا تھا، جہاں ایک ایک گاڑی کا نمبر چیک ہو رہا تھا۔ ڈرائیور سے شناخت طلب کی جا رہی تھی اور گاڑی کے اندر بھی نگاہ دوڑائی جاتی تھی۔ظاہر ہے اس پر خاصا وقت لگتا تھا اور گاڑیوں کی لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ مَیں نے کچھ بیزاری کا اظہار کیا تو ٹیکسی ڈرائیور نے کہا: ’’جناب صبر سے کام لیں، یہ جو کچھ کر رہے ہیں ہماری حفاظت کے لئے کر رہے ہیں‘‘۔

ہماری چیک پوسٹوں پر نہ ہی مستعدی ہے، نہ عوام کی یہ تربیت ہے۔ہمیں اپنے عوام کو یہ سکھانا پڑے گا کہ یہ تاخیر کسی بڑے حادثے سے بچنے کے لئے ضروری ہے، لیکن سیکیورٹی اور سکریننگ کے عملے کو بھی مستعد کرنا پڑے گا۔ اس عملے کی بہتر تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر معاوضہ، سہولتیں اور اوقاتِ کار میں کمی بھی ضروری عوامل ہیں۔ کم اُجرت، فرائض کا طویل دورانیہ اور موقع پر مناسب سائے، پانی چائے و غیرہ کی عدم موجودگی، سستی، کوتاہی اور لاپرواہی کا باعث بنتی ہے۔ ہمارے ہاں گشتی پولیس نہ ہونے کے برابر ہے۔ نیو یارک میں گشتی پولیس پیدل، سائیکلوں اور پٹرول کار پر ہر وقت پھرتی رہتی ہے۔ وہ جن جن مقامات پر رکتی ہے، وہاں اپنی لاگ بُک میں اس کا اندراج کرتی ہے۔ آنے کا وقت اور جانے کا وقت درج کرتی ہے،جس کی وجہ سے چیک پوسٹوں اور دوسرے مقامات کی نگرانی کرنے والوں کی بھی نگرانی ہوتی رہتی ہے۔ذمہ داری کا فقدان، ہمارے ہاں ہر چیز کو اللہ کی مرضی قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، پولیس والا کسی جرم کا جیسا تیسا چالان مرتب کر کے یا رشوت لے کر غلط سلط چالان پیش کر دے جس سے مجرم بچ جائے تو اس پولیس والے سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ تمہارا چالان کیوں غلط ثابت ہوا۔ اُس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اگر ایک شخص مجرم نہیں تھا تو اُسے کیوں حوالات اور عدالت کے مراحل سے گزرنا پڑا اور اگر وہ مجرم تھا تو سزا سے کیوں بچ گیا۔اس سارے عمل میں حکومت کا پیسہ اور وقت ضائع ہوا اُس کا کون ذمہ دار ہے؟

حادثہ ہو گیا، حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کے لئے معاوضوں کا اعلان کر دیا۔ حادثہ کیوں پیش آیا۔ کیا سڑک خراب تھی اگر ایسا ہے تو یہ کس کی ذمہ داری ہے۔ ڈرائیور نشے میں تھا یا ریس لگا رہا تھا یا پھر ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہا تھا یا گاڑی میں خامی تھی۔ ایسی کوئی تحقیق و تفتیش ہمارے ہاں نہیں ہے۔ بس اللہ کی مرضی تھی مرنے والوں کے لواحقین کو معاوضہ مل گیا۔ نشے باز ڈرائیور پھر اپنے دھندے پر لگ کر دوسرے حادثے کے لئے تیار ہو گیا۔ سڑک کا کھڈا کسی دوسرے شکار کو نگلنے کے لئے انتظار کرنے لگا، یعنی یہ سارے غلط کار اللہ کی مرضی پوری کر رہے ہیں۔ذمہ داری کا یہی فقدان دہشت گردوں کو بھی فائدہ پہنچا رہا ہے۔ دہشت گردی کے واقعے کے بعد کسی کی ذمہ داری کا تعین نہیں کیا جاتا۔ رو دھو کر ’’را‘‘ کو کوس کر دہشت گردوں کو بُرا بھلا کہہ کر بات ختم کر دی جاتی ہے۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس انہونی کے لئے کس کس کی کوتاہی نے سامان فراہم کیا۔ دہشت گرد سرحدوں کے اندر کیسے داخل ہوئے، شہری ناکوں سے کیسے بچ نکلے اور ہسپتال یا کسی ادارے کے سیکیورٹی نظام سے کیسے گزر گئے؟ میرے خیال میں قومی ایکشن پلان کے اجلاس سے پہلے ان امور کا پتہ چلایا جانا چاہئے۔

سوائے ایبٹ آباد کے ہمارے ہاں دہشت گردی فضاؤں سے نہیں زمین سے ہی ہوتی ہے۔ زمین پر جو سواری چلتی ہے،اُس کی رجسٹریشن کا ایک نظام ہے۔ ہمارے ہاں اب تک یہ نظام کمپیوٹرائزڈ نہیں ہے۔ ٹریفک پولیس یا چیک پوسٹوں والوں کے پاس ایسا کوئی نظام نہیں کہ وہ کسی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر کو لمحوں میں چیک کر سکیں کہ جعلی ہے یا اصلی ہے اور اس کا مالک کون ہے؟ گاڑیوں کے لئے سرکاری طور پر جاری ہونے والی پلیٹوں کی بجائے طرح طرح کی پلیٹیں استعمال ہو رہی ہیں۔ بعض پر نمبر اس قدر باریک لکھا جاتا ہے کہ چند فٹ کی دوری سے بھی نہیں پڑھا جا سکتا، بعض نمبر اتنے سٹائلش انداز میں لکھے ہوتے ہیں کہ پتہ نہیں چلتا پانچ ہے یا صفر، نو ہے یا پانچ۔۔۔ اس نظام کو درست نہ کر سکنے کی کوئی تُک سمجھ نہیں آتی، ماسوائے اس کے کہ ٹریفک کے اعلیٰ حکام میں کسی صاحب کو دہشت گردوں سے ہمدردی ہے،وہ ان سے جعلی نمبر پلیٹیں استعمال کرنے کا حق نہیں چھیننا چاہتا۔ نادرا میں ہمارے مُلک کے شناختی کارڈ اگر کمپیوٹرائزڈ ہو سکتے ہیں تو گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لئے کوئی کمپیوٹرائزڈ نظام کیوں وضع نہیں کیا جا سکتا۔

دہشت گردی کی واردات ہو جانے کی صورت میں دوسرے امور کے علاوہ ایک سریع الحرکت فورس ہونا چاہئے،جو فوراً حرکت میں آئے۔ زمین پر حادثے کے علاقے کو مکمل بند کر دے۔ امدادی کارروائیوں میں تعاون کرے۔ فضائی طور پر فوراً ہیلی کاپٹر اِس علاقے پر نگرانی شروع کر دیں، علاقے کی وڈیو بنائیں اور دیکھیں کہ ان میں کون لوگ مشکوک تھے، کون لوگ بھاگ رہے تھے۔ کس کا کوئی مشکوک رویہ تھا۔ پھر اس کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین اور مجرموں کی تلاش ہونی چاہئے۔ پولیس کو مقدمات اور مقدمات کے چالان پیش کرنے کی خصوصی تربیت ہونی چاہئے۔ ہماری پولیس میں تفتیش نام کی کوئی چیز نہیں، چھتر مارنے کو تفتیش سمجھا جاتا ہے۔ ہر مجرم اور غیر مجرم چھتروں سے بچنے کے لئے اقبالِ جرم کر لیتا ہے۔ بعد میں عدالت میں پولیس تشدد کو جواز بنا کر مُکر جاتا ہے۔ عشروں سے یہ ہوتا چلا آ رہا ہے، لیکن نہ محکمہ پولیس، نہ عدلیہ ، نہ حکومت کا کوئی دوسرا شعبہ، مثلاً وزارتِ قانون یا وزارتِ داخلہ اس کی اصلاح پر کوئی توجہ دیتی ہے۔ہمارے ہاں پیشہ ورانہ اخلاقیات کا بھی فقدان ہے۔ امریکہ میں ڈاکٹروں کو طب کی تعلیم کے علاوہ اخلاقیات بھی پڑھائی جاتی ہے اور اخلاقیات کی خلاف ورزی پر ڈاکٹروں اور وکیلوں کے لائسنس منسوخ کر دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ دونوں طبقات بہت مُنہ زور ہیں۔ امریکہ میں کسی مجرم کی بے جا طرف داری کرنے پر وکلاء کو باقاعدہ دھمکی دی جاتی ہے کہ تمہارا کام جرائم کو ختم کرنا ہے،اُنہیں بڑھاوا دینا نہیں، اگر حد سے تجاوز کرو گے تو لائسنس سے محروم ہو جاؤ گے اور سزا بھی ملے گی۔ بعض اوقات اس دھمکی یا قانونی جواز کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے، لیکن اس سے کم از کم دہشت گردوں کو یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ کوئی وکیل اُن کی پیروی نہیں کرے گا، کوئی ڈاکٹر اُن کا علاج نہیں کرے گا اور جو کرے گا، وہ سزا سے نہیں بچ سکے گا۔قاعدے قانون غلط بھی استعمال ہوتے رہتے ہیں، لیکن ان کا وجود ضروری ہوتا ہے۔

میرے ایک اور محترم مفتی منیر احمد اخون (نیو یارک) (بنوری ٹاؤن والوں میں سے جیدّ عالم ہیں) اُن کا خیال ہے کہ دہشت گردی اور ہڑتالیں اس لئے ہوتی ہیں کہ لوگ فرائض پورے کرنے کی بجائے حقوق طلب کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو چاہئے کہ اپنے فرائض کما حقہ پورے کرے تو کسی کی حق تلفی نہیں ہو گی، ہر شخص اپنا فرض پورا کر لے تو کسی کا حق متاثر نہیں ہوتا۔ مَیں سمجھتا ہوںیہ ایک اچھا فلسفہ ہے۔دہشت گردی کے خلاف بیداری کی تجاویز میں اسے بھی شامل کیا جائے اور ہر شخص کو یہ باور کرایا جائے کہ وہ اگر اپنا فرض پورا کرے گا تو وہ کسی کے حق کو پامال نہیں کرے گا۔ یہ تمام امور ایسے ہیں کہ ان پر عمل درآمد یا ان کی اصلاح کے بغیر ایجنسیوں سے توقع رکھنا کہ وہ دہشت گردی پر قابو پا لیں گی، محض دیوانے کا خواب ہو گا۔ ہاں ان تمام کوتاہیوں اور ان تمام امور پر عمل درآمد کے بغیر اور ایجنسیوں کی نااہلی کے ساتھ ساتھ اُنہی سنگین نتائج کی توقع رکھی جا سکتی ہے، جن سے ہم ان دِنوں دوچار ہیں۔ ایجنسیوں کے ساتھ معاملات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے، اُن میں جو تساہل، سستی اور لاپرواہی کا عنصر ہے،اس کا بھی تدارک ہونا چاہئے، لیکن سارے معاشرے کی طرف سے ایجنسیوں کو مدد فراہم ہونی چاہئے۔ کوئی ایک فرد یا ایک ادارہ اس عفریت کو قابو نہیں کر سکتا۔ جہاں بندوق سے اس کا سر کچلا جانا ضروری ہے، وہاں اسے چاروں طرف سے گھیر کر بے بس کرنا بے حد ضروری ہے۔علامہ اختر کاشمیری کی طرح میری تجاویز اور تجزیہ بھی کوئی حرفِ آخر نہیں ہے۔ ایک سوچ ہے، مشاہدے پر مبنی تجربات کے نتائج ہیں، ان میں سے بعض صریح غلط بھی ہو سکتے ہیں اور اصلاح یا کمی بیشی کی تو ہر وقت گنجائش موجود رہتی ہے۔ مَیں نے اسی نقطہ نظر سے جو دیکھا ،جو سمجھا وہ پیش کر دیا ہے۔ وما علینا الالبلاغ

مزید : کالم