نئے عالمی خطرات

نئے عالمی خطرات
 نئے عالمی خطرات

  

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر اوباما اور ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلٹن کو داعش کا بانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہی داعش کے وجودمیں آنے کے ذمہ دار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سیاست کو بیان بازی سے گرماتے ہی نہیں،بلکہ بڑھکوں سے ہنگامہ بپا کرتے ہیں۔ وہ اوباما کے دور حکومت کو بدترین قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے ہیلری کلنٹن کو شیطان تک کہنے سے پرہیز نہیں کیا۔ وہ مسلمانوں کو امریکہ میں نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے اتنے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیئے کہ ان کا صدارتی امیدوار منتخب ہونا ممکن نظر نہیں آتا تھا، مگر وہ بڑے دھڑلے سے امیدوار منتخب ہوئے اور وہ ہر روز اپنی کسی نہ کسی تقریب میں ہنگامہ خیز بیان جاری کرتے رہتے ہیں۔

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جائے گا۔ اس کے خلاف آوازیں بھی بلند ہوں گی، مگر مشرق میں بہت سے ایسے دانشور ہیں جو اس میں سچائی تلاش کریں گے۔ امریکہ میں بھی ایسے محققین کم نہیں ہیں، جو 11ستمبر کے سانحے کے پیچھے امریکی ہاتھ تلاش کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکی معاملات میں سی آئی اے کی اہمیت بہت کم ہو گئی تھی، اس کے مقابلے میں ایف بی آئی، حکومت کی چہیتی بن گئی تھی۔ سی آئی اے نے پوری دُنیا میں آپریشن بند کر دیئے تھے اور اس کے وسائل کو تیزی سے کم کیا جا رہا تھا، مگر جب 11ستمبر کا سانحہ ہوا تو سی آئی اے کے وسائل اور اختیارات میں لا محدود اضافہ ہو گیا۔ اِس لئے 11ستمبر کے سانحے کا سب سے زیادہ فائدہ سی آئی اے کو ہوا تھا۔ 9ستمبر سانحے نے ان اسلحہ ساز فیکٹریوں کو بھی فائدہ پہنچایا تھا جو برسوں سے اسلحہ تیار کر رہی تھیں، مگر ان کا اسلحہ فرسودہ ہو رہا تھا اور بہت سی فیکٹریاں خسارے کی اس سطح تک پہنچ گئی تھیں، جہاں ان کے بند کرنے کے امکانات پیدا ہو گئے تھے، مگر جیسے ہی افغانستان میں بمباری شروع ہوئی تو ان اسلحہ ساز فیکٹریوں کے لئے ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ افغانستان اور عراق پر پانچ ٹریلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور اس رقم سے افغانستان اور عراق کا ہر شہر نئے سرے سے تعمیر کیا جا سکتا تھا، مگر اس رقم سے ان ملکوں میں تباہی و بربادی آئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام سے انکار کرنا خاصا مشکل ہو گا کہ اوباما اور ہیلری کی پالیسیوں کی وجہ سے عراق میں طاقت کا خلا پیدا ہوا جس میں داعش کو پنپنے کا موقعہ ملا۔

گزشتہ پندرہ سال کے دوران عالمی واقعات جس انداز سے پیش آ رہے ہیں۔ اس سے اسرائیل، امریکہ اور بھارت زیادہ محفوظ ہو گیا ہے، جبکہ تمام اسلامی ممالک سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔ افغانستان اور عراق میں ہر روز تباہی اور بربادی کے نئے مناظر دکھائی دیتے ہیں اور امن کی فاختہ یہاں سے رخصت ہو چکی ہے۔ شام سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ سعودی عرب میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ پاکستان میں 60ہزار سے زیادہ افراد دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی نے ملکی معیشت کو بُری طرح متاثر کر رکھا ہے، مگر امریکی ان خطرات کو دیکھنے کی بجائے معاملات کو مزید خراب کرنے کے لئے کارروائیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ ترکی میں ناکام بغاوت نے ملکی ڈھانچے کو بری طرح ہلا دیا ہے اور ترکی روس کے ساتھ نئے اتحاد کے لئے کوشاں ہے۔ اسامہ بن لادن کے بعد القاعدہ کا خطرہ کم ہوتا نظر آیا تھا،مگر داعش دُنیا میں ایک نئے خطرے کی صورت میں نمودار ہوئی ہے۔ یورپ میں داعش کی واداتوں کے بعد اب یورپ میں اسلامی ممالک میں ہونے والی تباہی و بربادی پر بات نہیں ہوتی۔ یورپ کے اہلِ دانش کو ایک طرح سے مطمئن کردیا گیا ہے کہ اسلامی ممالک میں ہونے والی ہر کارروائی ان کے تحفظ کے لئے ہوتی ہے۔

مشرق میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اثرات مغرب میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ دہشت گردی کہیں بھی ہو ، کسی صورت میں بھی ہو، قابل مذمت ہے۔ امریکہ کے شہروں میں دہشت گردی کے جو افسوسناک واقعات پیش آ رہے ہیں، یورپ میں جس طرح بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ انتہائی قابل مذمت ہے اور ان واقعات سے جو کلچر فروغ پا رہا ہے،اس کی ایک مثال ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہیں۔اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوں گے یا نہیں۔ اگر امریکی مزاج اور تاریخ کو پیش نظر رکھا جائے تو ان کا منتخب ہونا مشکل نظر آتا ہے، مگر عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے امریکی سیاست کو کس طرح متاثر کیا ہے۔ اس کا اندازہ اگلے انتخابات کے نتائج سے ہو جائے گا۔ خدشہ ہے کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ دُنیا کو زیادہ تشدد کی طرف دھکیل دیں گے، کیونکہ مغرب میں جہاں امن کی بات کی جاتی ہے وہاں تشدد کے ذریعے امن قائم کرنے کے فلسفے پر عمل کیا جاتا ہے۔ امریکی آئین تو نسل، زبان علاقے یا کسی دوسری بنیاد پر امتیاز کی اجازت نہیں دیتا، مگر جن بانیان امریکہ نے آئین بنایا تھا انہوں نے افریقہ سے غلاموں کو امریکہ لانے کی تجارت کی اجازت بلکہ کسی حد تک سرپرستی بھی کی تھی۔ اسی طرح ریڈ انڈینز پر امریکہ کی سرزمین کو تنگ کیا گیا تھا۔ انہیں قتل کیا گیا۔ ان کو ان کے گھروں سے نکال کر دور دراز علاقوں میں دھکیل دیا گیا اور امریکہ میں یہ سب کچھ اس آئین کے تحت ہوتا رہا ،جس کے انسان دوست ہونے پر فخر کیا جاتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اگر اس آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں تو پھر ان سے کسی حد تک جانے کی بھی توقع کی جا سکتی ہے، مگر امریکہ میں ایسے دانشور بھی ہیں،جو احتیاط کا مشورہ دے رہے ہیں،جنہیں عالمی سیاست میں امریکہ کی حالت بدلی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ وہ چین کو عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ رچرڈ نکسن کا خیال تھا کہ اکیسویں صدی چین کی صدی ہو گی۔ چین جتنی بڑی معاشی طاقت بن کر سامنے آیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی طاقت اور اختیار کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ روس نے عالمی معاملات میں دوبارہ اہمیت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ ترکی کے صدر نے اپنے حالیہ دورہ روس سے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکہ کی دوستی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اس عالمی سیاست میں امریکہ کے کردار کو دیکھ کر ہمیں پیرس میں دفن وہ گدھی یاد آتی ہے، جو دوسری جنگ عظیم میں ہلاک ہو گئی تھی۔اس گدھی کی قبر پر ایک کتبہ نصب ہے، جس پرلکھا گیا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کئی لیفٹین صاحبان، کیپٹن صاحبان، میجروں، کرنلوں بلکہ جنرلوں کو بھی دولتی ماری تھی، مگر آخری دولتی ایک بم کو بھی مار دی تھی۔ امریکہ گزشتہ صدی سے دنیا کے ہر معاملے میں ٹانگ پھنساتا چلا آ رہا ہے اور امریکی، معاملات کو پیچیدہ کرنے میں غیر معمولی مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ دُنیا اگر تیزی سے ایک پرتشدد جگہ میں تبدیل ہو رہی ہے تو اِس سلسلے میں امریکہ کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تحقیق بھی ہونی چاہئے کہ اس وقت دنیا میں جو اسلحہ تباہی پھیلا رہا ہے وہ کہاں سے آ رہا ہے اور یہ اسلحہ ساز ادارے عالمی پالیسیوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اہم مسئلہ یہ ہے کہ عالم اسلام میں کوئی بھی ایسا صاحب نظر دکھائی نہیں دیتا،جو اس کنفیوژن کے دور میں رہنمائی کر سکے۔ پُرتشدد ہوتی ہوئی دُنیا کو پُرامن بنانے کے لئے امن پسندوں کو بہرحال اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔دُنیا کو ڈونلڈ ٹرمپ جیسے طالع آزماؤں کے سپرد کرنے کے بہت سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

مزید : کالم