پاکستان کا جشنِ آزادی

پاکستان کا جشنِ آزادی

پاکستان نے اپنی آزادی کے69سال مکمل کر لئے، پوری قوم نے اپنی آزادی کا جشن بھرپور طریقے سے منایا، آزادی کے بعد کے سفر کے دوران مُلک کو ہر قسم کے حالات سے واسطہ پڑا، تلخ تجربات بھی ہوئے، خوشیوں نے بھی پاکستانیوں کا دامن بھرا، ناکامیوں کا مُنہ بھی دیکھنا پڑا اور ایسی ایسی کامیابیاں بھی ملیں جو دُنیا کے کم و بیش دوسو ملکوں میں سے اُن چند کے حصے میں آئیں، جن کی گنتی انگلیوں پر کی جا سکتی ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں نے اِس دوران بہت کچھ کھویا اور بہت کچھ پایا، جو کچھ ہم نے کھو دیا اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ لمحہ آخر ہماری زندگی میں کیوں آیا اور جو کچھ ہم پا چکے اس پر اللہ رب العزت کے حضور سر بسجود ہونے کی ضرورت ہے کہ اُس نے پاکستانی قوم کو ان اعزازات کے قابل بنایا، ہر وقت محرومیوں کا رونا رونے والوں کو تصویر کے روشن پہلو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے، قیامِ پاکستان کے لئے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں مسلم لیگ اور ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں نے سالہا سال تک جاں گسل جدوجہد کی تھی اِس جدوجہد کے دوران1940ء کا سال اِس لحاظ سے سنگِ میل تھا، جب لاہور میں مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے حصول کی قرارداد منظور ہوئی اور سات سال کے عرصے میں مسلمانوں نے پاکستان حاصل کر لیا۔

مُلک کے جلیل القدر بانی قیامِ پاکستان کے بعد تیرہ ماہ تک اِس کے گورنر جنرل رہے۔ اگرچہ یہ زیادہ لمبا عرصہ نہیں تاہم انہوں نے اِس مختصر عرصے کے دوران بطور حکمران جو مثالیں قائم کیں وہ آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں اُن کی ذاتی امانت و دیانت تو اِس اعلیٰ پائے کی تھی کہ اس پر بعد میں آنے والے حکمران اگر کوشش بھی کرتے تو پوری طرح کاربند نہ ہو سکتے تھے۔ تاہم اِن حکمرانوں میں خال خال ایسے ضرور تھے جو قومی خزانے کے امانت دار تھے اور اِس کی ایک ایک پائی دیانتداری سے خرچ کرتے اور اس میں کسی خیانت کے روادار نہ تھے۔ اِن سطور میں ان حکمرانوں کی ذاتی مثالیں درج کرنا مشکل ہو گا تاہم اگر ہماری آج کی نسل پاکستان کی تاریخ اور اس کے حکمرانوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرے تو اُنہیں روشنی کے بڑے بڑے مینار بھی نظر آئیں گے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسے حکمران بھی آ گئے جنہوں نے قومی خزانے کو شیر مادر سمجھ لیا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں ہر قسم کے حکمرانوں سے واسطہ پڑ چکا ہے تاہم قائداعظمؒ کی عملی زندگی،ان کی تعلیمات اور فرمودات ایسے ہیں کہ اگر ہر پاکستانی اُن کو حرزِ جاں بنا لے تو ہماری قومی زندگی کے تمام گوشے جگمگ کرنے لگیں گے۔

قائداعظمؒ کی زندگی میں ملکی آئین تو نہیں بن سکا تھا تاہم انہوں نے آئینی خدوخال کا نقشہ پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا، پاکستان کا نظامِ حکومت کیسا ہو گا؟ اسے کون لوگ چلائیں گے،اُن میں کون کون سی صلاحیتیں ہونی چاہئیں، اُنہیں کِن کِن باتوں کا خیال رکھنا ہو گا، اداروں کے فرائض کیا ہیں اور اداروں کی سربراہی پر متمکن حضرات سے قوم کیا توقعات رکھتی ہے۔ غرض قومی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھا ، جس کی جانب انہوں نے اپنے عمل و کردار یا اپنی تعلیمات کے ذریعے رہنمائی نہ کر دی ہو، اُن کی زندگی کے دو دور تھے، قیامِ پاکستان سے پہلے کا دور بطورِ سیاست دان اور اِس کے بعد کا دور بطورِ حکمران، وہ گورنر جنرل بھی بطور سیاست دان بنے تھے اور اِسی حیثیت میں اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

بدقسمتی یہ ہوئی کہ قائداعظمؒ کی وفات کے بعد اُن کے ساتھیوں سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہ ہوئیں۔ قائداعظمؒ نے تو یقینِ محکم اتحاد اور نظم و ضبط پر زور دیا تھا، لیکن ان کی جماعت کے بعض لیڈر مختلف راستے پر چل نکلے، سیاسی انتشار نمایاں ہونے لگا، چنانچہ قائداعظمؒ کی وفات کے چند ہی برس بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو شہید کر دیا گیا۔ اس قومی سانحہ کے اسباب محلاتی سازشوں میں تلاش کئے جا سکتے ہیں،نئے مُلک میں مختلف طبقات نے اپنی اپنی خواہشات کو مقدم جان کر فیصلے شروع کر دیئے، نتیجہ یہ ہوا کہ گیارہ برس بعد فوج نے آئینی حکومت اور آئین کا خاتمہ کر کے براہِ راست اقتدار سنبھال لیا، فوجی حکومت نے کامیابی کے دعوے تو بہت کئے، لیکن پہلی فوجی حکومت کے خاتمے پر جب اقتدار دوسری فوجی حکومت کو منتقل ہوا تو مشرقی پاکستان میں بغاوت کا دائرہ پھیل چکا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے فوجی حکمران جنرل یحییٰ کے ڈھائی سالہ دور میں مُلک دو لخت ہو گیا جو اس وقت بنگلہ دیش کے نام سے دُنیا کے نقشے پر موجود ہے۔

قائداعظمؒ نے جو پاکستان بنایا تھا وہ24برس بعد دو ملکوں کی شکل اختیار کر گیا، تاہم اس آدھے پاکستان نے بھی مسلسل آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھا اور مشکلات کے باوجود آگے بڑھتا رہا۔ قائداعظمؒ کی تعلیمات پر پوری طرح عمل کیا جاتا تو مشکلات کم سے کم ہوتیں، آج جب پاکستانی قوم نے جشنِ آزادی منایا ہے تو بھی ہمیں اپنی قومی زندگی میں اتحاد نہیں، انتشار و افتراق کی کیفیت نظر آتی ہے، دہشت گردی نے پاکستان کا جسدِ قومی لہو لہو کر دیا ہے۔ یہ دہشت گرد کہیں باہر سے نہیں آئے وہ اِسی سرزمین کے باشندے ہیں، لیکن انہوں نے جو راستہ اپنایا وہ سلامتی کا نہیں آگ کا کھیل بن کر رہ گیا۔ انہوں نے ملکی سلامتی کے ذمہ دار اداروں پر حملے کئے، مساجد، امام بارگاہوں، مزاروں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، بازاروں، ایئر پورٹوں، فوجی اور پولیس کی تربیت کے اداروں غرض مُلک کے ہر اہم ادارے کو نشانہ بنایا، فوجیوں کو شہید کیا گیا، ہزاروں پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا، جب پانی سر سے اونچا ہو رہا تھا تو پاکستانی فوج نے آپریشن ضربِ عضب کے ذریعے بہت سے علاقوں سے اُن کے ٹھکانے ختم کئے اُن کے اسلحہ کے ذخائر تباہ کئے اور اُنہیں اِس قابل نہ چھوڑا کہ وہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کر سکیں تاہم وہ اب بھی مُلک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جن میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے البتہ اتنا ضرور ہے کہ اِن برخود غلط عناصر کو اپنے اِن مقاصد میں کامیابی نہیں ہو سکی، جو وہ لے کر اُٹھے تھے پاکستانی قوم پورے حوصلے سے اپنے عزائم پر ڈٹی ہوئی ہے اور دہشت گردوں کا آخری تعاقب جاری ہے۔

نوجوانوں نے جس طرح مُلک بھر میں جشنِ آزادی منایا ہے اور اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا ہے اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گرد قوم کو خوفزدہ کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں تاہم ضرورت اِس بات کی ہے کہ پاکستان کی قومی قیادت اِن نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے لئے اِن کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم ہر پاکستانی کے لئے بنیادی تعلیم کا اہتمام بھی نہیں کر سکے۔ یہی وہ شعبہ ہے جہاں ہم بُری طرح ناکام ہوئے ہیں، لاکھوں بچے اب بھی سکول نہیں جاتے اور یہی بچے جب جوان ہو کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو معاشرے کا مفید اور فعال رُکن نہیں بن سکتے، کیونکہ تعلیمی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے اُن کی شخصیت پوری طرح نشوونما نہیں پا سکی، پاکستانی قوم کو اگر سو فیصد تعلیم یافتہ بنا دیا جائے تو بہت جلد یہ مُلک کو نئی سربلندیوں سے روشناس کرا سکتی ہے، نوجوانوں کا یہ جوش و جذبہ اگر نظم و ضبط اور تنظیم سازی میں ڈھل جائے تو یہ قوم کرشمے بھی دکھا سکتی ہے۔ قوم کے رہنماؤں کو اِس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ