سرینگر میں بھارتی پرچم لہرانے کا چیلنج کرنے والی طالبہ نامراد ہو کر بھارت چلی گئیں

سرینگر میں بھارتی پرچم لہرانے کا چیلنج کرنے والی طالبہ نامراد ہو کر بھارت ...
سرینگر میں بھارتی پرچم لہرانے کا چیلنج کرنے والی طالبہ نامراد ہو کر بھارت چلی گئیں

  

سری نگر(نیوزڈیسک)سرینگر میں بھارتی پرچم لہرانے کا چیلنج کرنے والی طالبہ ناکام و نامراد ہو کر بھارت چلی گئیں۔بھارتی ریاست لدھیانہ کی رہائشی 15سالہ لڑکی کوسری نگر میں بھارتی یوم آزادی کے موقع پر انڈین پرچم لہرانے کی اجازت نہ دی اور سرینگر ایئرپورٹ سے ہی واپس بھارت روانہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔بھارت کا یوم آزادی، کشمیریوں کا یوم سیاہ۔۔۔مزید تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں

زی نیوز کے مطابق ڈی اے وی پبلک سکول،بھائی رندھیر سنگھ نگر لدھیانہ کی 15سالہ طالبہ جھانوی نے رواں ماہ چیلنج  کیا تھا کہ وہ پندرہ اگست کو بھارتی یوم آزادی کے پیش نظرسری نگر کے لال چوک میں انڈین ترنگا (پرچم)لہرائیں گی ،ان کا کہنا تھا کہ ’سرینگر کا لال چوک وہ جگہ ہے جہاں قومی پرچم لہرانا چاہئے ،میں پاکستان اور علیحدگی پسندوں سمیت سب سے کہتی ہیں کہ کوئی مجھے روک سکتا ہے تو روک کے دکھا دے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

جذباتی جھانوی نے امیر جماعت الدعوة حافظ سعید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کشمیر میں لوگوں کو تقسیم نہیں کرنا چاہئے اوروہ وہاں خوف پھیلانا بند کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ” میں آپ (حافظ سعید)واضح کر رہی ہوں کہ آپ کشمیریوں کو تقسیم کرنا چھوڑدیں دوسری صورت میں مجھ سمیت کروڑوں قوم پرست آپ کی مخالفت میںاٹھ کھڑے ہوں گے۔

خیال رہے جھانوی اپنے ملک میں سماجی کاموں کی وجہ سے بھی جانی جاتی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی